بنوں میں چوکی پر حملے میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے، پانچ زخمی
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خودکش کار حملے میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی کے نتیجے میں پولیس چیک پوسٹ زمین بوس ہو گئی، جس میں سے اب تک 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ وہاں 29 تعینات تھے اور ملبے کو ہٹانے اور لوگوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ واقعہ سنیچر کی رات شمال مشرقی شہر بنوں کے علاقے میں فتح خیل چوکی پر پیش آیا جس میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو چوکی کے ساتھ ٹکرایا گیا جس سے چوکی زمین بوس ہو گئی۔ جبکہ اس کے بعد کئی گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق بنوں پولیس کے اہلکار محمد سجاد خان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پچھلی رات چوکی کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے بعد متعدد عسکریت پسند اندر گھس گئے اور شدید فائرنگ کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملے میں ایک ڈرون کا استعمال بھی کیا۔
بنوں کے ایک سینیئر انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور چوکی میں موجود اسلحے کے علاوہ ایک پولیس اہلکار کو بھی ساتھ لے گئے۔
بنوں شہر چند برسوں سے عسکریت پسندی کی سرگرمیوں کی لپیٹ میں ہے جو کہ سرحدی علاقوں کی طرف بھی تیزی سے بڑھی ہیں۔
اس وقت پڑوسی ملکوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بھی دہشت گردی کے واقعات کی ہی وجہ سے انتہائی کشیدہ ہیں جبکہ دونوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے بعض شہروں پر فضائی حملے بھی کیے گئے۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو پناہ دی ہے جو پاکستان میں آ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
