Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنوں میں چوکی پر کار بم حملہ اور فائرنگ، 12 پولیس اہلکار جان سے گئے، پانچ زخمی

رپورٹ کے مطابق دھماکے نتیجے میں چوکی منہدم ہو گئی (فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ایک پولیس چوکی پر حملے میں 12 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ واقعہ سنیچر کی رات شمال مشرقی شہر بنوں کے علاقے میں فتح خیل چوکی پر پیش آیا جس میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو چوکی کے ساتھ ٹکرایا گیا جس سے چوکی زمین بوس ہو گئی۔ جبکہ اس کے بعد کئی گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی جس میں 12 پولیس اہلکار جان سے گئے۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق بنوں پولیس کے اہلکار محمد سجاد خان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پچھلی رات چوکی کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے بعد متعدد عسکریت پسند اندر گھس گئے اور شدید فائرنگ کی۔  
ان کے مطابق ’12 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملے میں ایک ڈرون کا استعمال بھی کیا۔
بنوں کے ایک سینیئر انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور واپس جاتے وقت کچھ پولیس اہلکاروں کے علاوہ اسلحہ بھی اٹھا کر لے گئے۔
بنوں شہر چند برسوں سے عسکریت پسندی کی سرگرمیوں کی لپیٹ میں ہے جو کہ سرحدی علاقوں کی طرف بھی تیزی سے بڑھی ہیں۔
اس وقت پڑوسی ملکوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بھی دہشت گردی کے واقعات کی ہی وجہ سے انتہائی کشیدہ ہیں جبکہ دونوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے بعض شہروں پر فضائی حملے بھی کیے گئے۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو پناہ دی ہے جو پاکستان میں آ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

شیئر: