Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: خاتون پولیس افسر کا بھیس بدل کر رات کو خفیہ آپریشن، پھر اُن کے ساتھ کیا ہوا؟

عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد بی سومتھی نے خود زمینی حقائق سے آگاہی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)
آپ نے فلموں میں ایسا دیکھا ہوگا کہ کوئی خاتون پولیس افسر سادہ لباس میں کسی بار میں جائے یا پھر کسی سڑک پر کسی سے لفٹ مانگے تاکہ وہ اپنے ہدف تک پہنچ سکے۔
لیکن انڈیا کے مشہور شہر حیدرآباد میں ایک خاتون آئی پی ایس افسر رات کو سڑکوں پر خواتین کتنی محفوظ ہیں، جاننے کے لیے سادہ لباس میں اُتریں اور پھر اُن کے ساتھ جو ہوا وہ چونکا دینے والا تھا۔
سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہیں اور انڈین میڈیا کے مطابق آئی پی ایس افسر بی سومتھی کو تین گھنٹے کے اندر 40 افراد نے اپروچ کیا جن میں مبینہ طور پر کئی شراب کے نشے میں دُھت تھے۔
جنوبی ریاست تلنگانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے آنے والی بی سومتھی کا آدھی رات کو حیدرآباد کی سڑکوں پر اُترنے کا عمل جتنا بے خوف ہے اتنا ہی متاثرکن بھی ہے۔ 
خواتین کی حفاظت کا جائزہ کے لیے اُن کے خفیہ آپریشن نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ پر مباحثے کو جنم دیا ہے اور اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ خواتین کو روزانہ کن چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اُس رات کیا ہوا؟
انڈین میڈیا ہاؤس انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق بی سومتھی نے ابھی یکم مئی کو ہی ملکاج گیری کی پہلی خاتون کمشنر کے طور پر چارج لیا تھا۔ اس کے فوراً بعد سومتھی نے فیصلہ کیا کہ انہیں خود زمینی حقیقت کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ 6 مئی اور 7 مئی کی درمیانی رات قریباً 12:30 بجے وہ سادہ لباس میں باہر نکلیں، اُن کے ساتھ کوئی پولیس کا قافلہ نہیں تھا، البتہ دُور سے انہیں پولیس کور یا تحفظ فراہم کیا جا رہا تھا۔ وہ سادہ شلوار سُوٹ میں تھیں اور ان کے پاس ایک موبائل فون تھا۔

بی سومتھی جب سادہ لباس میں سڑک پر آئیں تو پولیس ٹیمیں قریب سے اُنہیں دیکھ رہی تھیں (فائل فوٹو: دکن کرونیکل)

وہ دل سُکھ نگر کے ایک مصروف بس سٹاپ پر اکیلی کھڑی ہو گئیں۔ چند ہی منٹوں میں بعض مرد اُن کے قریب آنے لگے۔
کچھ نے بات چیت کرنے کی کوشش کی جبکہ بعض اُن کے اردگرد منڈلانے لگے۔ جُوں جُوں وقت گزرتا گیا حالات مزید خراب ہوتے گئے۔ 
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران قریباً 40 مرد اُن کے قریب آئے یا اُن کے گرد چکر کاٹتے پائے گئے۔ ان میں سے کچھ مبینہ طور پر نشے میں تھے اور کچھ نے اُن پر جملے بھی کَسے۔
سادہ لباس میں ان کی پولیس ٹیمیں قریب سے اُنہیں دیکھ رہی تھیں، جب رویے نے حد سے تجاوز کیا تو وہ سامنے آئے اور کئی مَردوں کو حراست میں لے لیا اور بعدازاں انہیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔
یہ آپریشن قریباً تین گھنٹے جاری رہا، لیکن اس نے جو انکشاف کیا وہ ایک رات کسی ایک جگہ رونما ہونے والے واقعے سے کہیں زیادہ تھا۔

متعدد خواتین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب وہ رات کو تنہا باہر نکلتی ہیں تو ایسے ہی حالات کا سامنا کرتی ہیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

سومتھی کا یہ خفیہ آپریشن صرف اس لیے وائرل نہیں ہے کہ انہوں نے بڑی ہمت کا کام کیا تھا بلکہ بہت سے افراد اور خواتین کو یہ حقیقی محسوس ہوا کیونکہ ان کا بھی کبھی ان سے سامنا ہو چکا تھا۔
بہت سی خواتین نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جب وہ رات کو تنہا باہر نکلتی ہیں تو انہیں بالکل ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ان کے پاس دُور سے دیکھنے والی بیک اپ ٹیمیں نہیں ہوتیں۔
ایک صارف سراج نورانی نے اس واقعے کا ذکر متواتر تین پوسٹس میں کرتے ہوئے لکھا کہ لوگ بھدے بھدے تبصرے کر رہے تھے۔ 
ان کے مطابق کوئی کہہ رہا تھا کہ ’چلتی ہے کیا؟‘ کوئی کہہ رہا تھا کہ ’کیا لوگی؟‘ ۔۔۔ اس آپریشن نے یہ کھول کر رکھ دیا کہ رات کو خواتین کے لیے پبلک پلیسز کتنی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔۔۔‘
رپورٹوں یا شکایات پر بھروسہ کرنے کے بجائے، سومتھی نے خود صورتِ حال کا تجربہ کرنے کا انتخاب کیا۔ یہ ایک ایسے نظام میں ایک غیرمعمولی قدم ہے جہاں سینیئر افسران اکثر زمینی حقائق سے دُور رہتے ہیں۔
ملکاج گيری پولیس ہیڈکوارٹرز نے ’ہر سیفٹی، آور پرائریٹی‘ یعنی خواتین کا تحفظ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، پروگرام کے تحت واٹس ایپ نمبر شیئر کیا ہے اور خواتین سے بے خوف ہو کر اپنا مسئلہ بتانے کی اپیل کی ہے۔
ملکاج گيری پولیس کے ’ایکس‘ ہینڈل سے ایک پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ملکاج گیری پولیس کمشنر بی سومتھی کی قیادت میں شی ٹیم خواتین کے خلاف چھیڑ چھاڑ، اُن کے تعاقب، آن لائن ہراساں کرنے اور بدسلوکی کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔
یہ پوسٹ جمعے کو کی گئی ہے جس کے مطابق اب تک  66 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، 86 شکایات موصول ہوئی ہیں اور قریبا 50 آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔
سومتھی شہر کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اپنے علاقے میں ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا اندازہ ملکاج گیری پولیس پوسٹس سے ہوتا ہے۔
سومتھی کون ہیں؟
سومتھی ایک دیہی علاقے سے آئی ہیں جہاں زیادہ سہولیات نہیں ہیں۔ ان کے والد ایک سرپنچ تھے۔ انہوں نے ایگریکلچر سائنس میں ڈگری حاصل کی اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے ایم بی اے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے لا یونیورسٹی نلسار سے سکیورٹی اور ڈیفنس قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
سنہ 2006 میں وہ غیرمنقسم ریاست آندھرپردیش میں آئی پی ایس بنیں۔ ان کا بڑا کارنامہ سینکڑوں ماؤ نواز باغیوں کو ہتھیار ڈالنے کی جانب راغب کرنے کا بتایا جاتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ان کی اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے 591 سے زیادہ ماؤ نوازوں نے ہتھیار ڈالے۔

 

شیئر: