Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئی درخت، سایہ نہ پنکھا، ناقابلِ برداشت گرمی کو جھیلتے انڈیا کے ’نمک مزدور‘

گجرات کے دور افتادہ میں قائم نمک کے میدانوں میں خواتین بھی کام کرتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کو ہر سال گرمی کی شدید لہر کا سامنا رہا ہے تاہم مغربی صحرائی علاقے میں پائے جانے والے نمک کے میدانوں میں کام کرنے والے مزدور ناقابل برداشت گرمی سے نمٹنے کے لیے سادہ طریقوں پر انحصار کرتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گجرات میں تقریباً 50 ہزار مزدور آٹھ ماہ تک نمک کے ایسے میدانوں میں بغیر بجلی اور طبی سہولتوں کے کام کرتے ہیں جہاں 25 روز بعد پانی کا ٹینکر آتا ہے جہاں سے وہ پینے کے لیے بھی پانی حاصل کرتے ہیں اور دوسرے استعمال کے لیے بھی۔
وہ زندگی کی ڈور کو باندھے رکھنے کے لیے ہر تھوڑی دیر بعد سائے میں جاتے ہیں اور ان بوتلوں سے پانی حلق میں انڈیلتے ہیں جن پر کپڑا چڑھایا گیا ہوتا ہے تاکہ وہ ٹھنڈی رہیں۔
گجرات میں گرمیوں کے ابتدائی ایام میں ہی درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے جبکہ اس کے بعد 47 اور 48 تک بھی جاتا ہے۔
گرمی جو زندگی کے لیے مشکلات لاتی ہے وہی اس صحرا کو نمک کی پیداوار کے لیے موزوں بھی بناتی ہے، گجرات پورے ملک کی مجموعی نمک کی پیداوار کا تقریباً تین چوتھائی حصہ پیدا کرتا ہے۔
42 سالہ بابو لال نارائن جن کا کام کم گہرے تالابوں میں نمکین پانی خشک ہونے کے بعد نمک کو کھرچ کر اکٹھا کرنا ہے، کہتے ہیں کہ ’ہم وقفے وقفے سے کام کرتے ہیں اور زیادہ تر کام صبح سویرے اور سورج غروب ہونے کے بعد انجام دیتے ہیں۔‘

گجرات میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے 47 اور 48 تک بھی جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

شدید گرمی کے اوقات میں زیادہ تر مزدور ان عارضی جھوپنڑیوں میں پناہ لیتے ہیں جن کو لکڑیوں سے تیار کیا گیا ہے اور اوپر دیسی کپڑا ڈال کر جنگلی گدھوں کے گوبر سے لیپا جاتا ہے۔
17 سالہ بھاونا راٹھور کا کہنا ہے کہ ’ہم ہر دو سے تین گھنٹے بعد وہاں بیٹھتے ہیں تاکہ کمزوری یا چکر محسوس نہ ہوں۔‘
انہوں نے اس سوال کہ کہ جھونپڑیوں کے اوپر گوبر ہی کیوں استعمال استعمال کیا جاتا ہے، کے جواب میں کہا کہ یہ سورج کی تپش کو روکتا ہے جبکہ حبس کو باہر نکالتا ہے جبکہ کھردرا کپڑا اس لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں سے ہوا گزر سکتی ہے۔
یہ جھونپڑیاں ایک ایسے علاقے میں پناہ کا ذریعہ ہیں جہاں نہ کوئی درخت ہے نہ کوئی اور قدرتی سایہ جبکہ سورج کی روشنی سفید نمک کی وجہ سے منعکس ہو کر زیادہ شدید محسوس ہوتی ہے۔
44 سالہ کنچن نارائن بوتل کو گیلے کپڑے میں لپیٹ کر لٹکائے رکھتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح پانی ٹھنڈا رہتا ہے۔

لکڑی کے ڈھانچے اور کھردرے کپڑے سے بنی عارضی جھونپڑیاں مزدوروں کو سخت موسم میں پناہ فراہم کرتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

نمک کے میدانوں میں کام کرنے والی پورنیما اس سخت گرمی میں چائے پیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گرم مشروب خشک موسم میں پسینہ لاتا ہے جس سے جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یہاں پر نمک کی تیاری کا طریقہ کار کچھ یوں کہ بور کی مدد سے کھارا پانی نکال کر کم گہرے تالابوں میں ڈالا جاتا ہے جہاں سورج کی روشنی اور ہوا کی وجہ سے وہ بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔
اس کے بعد بننے والی تہہ کو مزدور کھرچ کر برابر کرتے ہیں تاکہ نمک یکساں طور پر جم سکے۔ کئی ہفتوں کے بعد نمک کی ایک موٹی تہہ بن جاتی ہے جس کو مزدور توڑ کر ڈھیروں کی شکل میں جمع کرتے ہیں۔
یہ کام شروع سے ہی کافی مشکل رہا ہے مگر اس بار محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش گوئی کے مطابق کچھ علاقوں میں معمول سے زیادہ گرمی پڑے گی جن میں گجرات بھی شامل ہے۔

شدید گرمی کی وجہ سے مزدوروں کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

جس کی وجہ سے اس بار مزدوروں کو کچھ مزید کٹھن لمحات کا سامنا کر رہے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں طویل کام کرنے سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور وہ مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔
یہاں تھکن، چکرانا اور متلی جیسے علامات مزدوروں کے لیے عام سی بات ہے جو کہ ہیٹ سٹریس کی علامات ہیں جس کا مطلب ہے کہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے والا قدرتی نظام خراب ہو رہا ہے۔
یہ کیفیت اعضا کے ناکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات موت کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

 

شیئر: