Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں سوشل میڈیا کونٹینٹ کے لیے ’آوارہ جانوروں کو اٹھانے والا گروہ‘ کیسے گرفتار ہوا؟

حکام کے مطابق یہ افراد اپنے ساتھ جانوروں کی مہنگی خوراک رکھتے اور سڑکوں پر موجود بلیوں یا کتوں کو قریب بلاتے (فائل فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر نے کارروائی کرتے ہوئے سبزہ زار کے علاقے میں قائم ایک جعلی کلینک پر چھاپہ مار کر تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ افراد خود کو جانوروں کو ریسکیو کرنے والا اور ڈاکٹر ظاہر کر کے آوارہ جانوروں کو محض سوشل میڈیا کونٹینٹ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق یہ افراد دو دو موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر نکلتے تھے۔ اپنے ساتھ جانوروں کی مہنگی خوراک رکھتے اور سڑکوں پر موجود بلیوں یا کتوں کو قریب بلاتے۔ جیسے ہی جانور نزدیک آتا یہ ایک ڈنڈے پر بندھے کپڑے پر لگی نشہ آور دوا جانور کے منہ کے قریب کر دیتے تھے جس سے جانور بے ہوش ہو جاتا تھا جس کے بعد یہ اسے بورے میں ڈال کر وہاں سے فرار ہو جاتے تھے۔
پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر لاہور سے وابستہ ڈاکٹر محمد بلال نے اردو نیوز کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر کچھ پیجز خود کو جانوروں کا ریسکیو سینٹر ظاہر کر رہے تھے لیکن درحقیقت یہ جعلی تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر کو متعدد شکایتیں موصول ہوئیں جس پر کارروائی کی گئی۔ یہ لوگ جانوروں کو سڑکوں سے اٹھاتے تھے اور پھر ان کی ویڈیوز بناتے۔ بعد میں بہتر بیک گراؤنڈ اور ایڈیٹنگ کے ساتھ ایسی ویڈیوز اپلوڈ کرتے جن سے یہ تاثر دیا جاتا کہ وہ جانوروں کی فلاح کے لیے بڑا کام کر رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر محمد بلال کے مطابق پولیس کو ان سرگرمیوں کے بارے میں اسلام پورہ، مرغزار کالونی اور سبزہ زار سمیت مختلف علاقوں سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ شکایات میں بتایا گیا تھا کہ کچھ افراد جانوروں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور بعد میں ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’انہی شکایات کی بنیاد پر پولیس نے سبزہ زار کے علاقے میں نگرانی اور ٹریکنگ کا آغاز کیا۔ پولیس کو ٹریکنگ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ افراد ایک مخصوص جگہ پر جانوروں کو لا کر رکھتے ہیں جہاں بغیر کسی مقصد کے ان کا جعلی ڈاکٹرز کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے اور پھر اس علاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جاتی ہیں۔‘
اس حوالے سے ڈاکٹر محمد بلال کی مدعیت میں تھانہ ہنجروال میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق جانوروں کو غیرقانونی طور پر اٹھایا گیا، ان کا جعلی علاج کیا گیا اور انہیں سوشل میڈیا کونٹینٹ کے لیے استعمال کیا گیا۔

ڈاکٹر بلال نے بتایا کہ پولیس کو ٹریکنگ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ افراد ایک مخصوص جگہ پر جانوروں کو لا کر رکھتے ہیں (فائل فوٹو: پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر)

کارروائی کے دوران پولیس نے وہاں سے تین افراد کو گرفتار کیا جبکہ کلینک سے 10 بلیاں، 3 کتے اور 16 نوزائیدہ بچے برآمد ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق ’موقع سے پانچ بلی کے بچے مردہ حالت میں بھی پائے گئے۔ برآمد ہونے والے جانور انتہائی کمزور اور لاغر تھے کیونکہ ان کا بلامقصد جعلی علاج کیا جا رہا تھا۔‘
ڈاکٹر محمد بلال کے مطابق یہ گروہ جان بوجھ کر مادہ جانوروں کے نوزائیدہ بچوں کو اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر دیتا تھا۔ بعدازاں ایسی ویڈیوز بنائی جاتیں جن میں دکھایا جاتا کہ جانور اپنے بچوں کو تلاش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ’کچھ دیر بعد ایک اور ویڈیو اپلوڈ کی جاتی جس میں وہی بچے دوبارہ ماں کے پاس ہوتے اور ماں بچوں کو پا کر پیار کرتی دکھائی جاتی۔ ان جذباتی ویڈیوز کے ذریعے بڑے پیمانے پر ویوز حاصل کیے جاتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد سوشل میڈیا پر خود کو مستند ڈاکٹرز اور باقاعدہ کلینک رکھنے والا ادارہ ظاہر کرتے تھے لیکن حقیقت میں نہ کوئی رجسٹرڈ کلینک تھا اور نہ ہی کوئی مستند ڈاکٹر ان کے پاس موجود تھا۔
’جانوروں کو صرف کونٹینٹ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور ان کے نام پر جھوٹی ہمدردی دکھائی جاتی تھی۔ اگرچہ برآمد ہونے والے جانوروں پر کسی قسم کے ظاہری زخم نہیں تھے تاہم شبہ ہے کہ ان کی ویڈیوز بیرون ملک فروخت کی جاتی تھیں۔ اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔‘

ڈاکٹر محمد بلال نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کچھ پیجز خود کو جانوروں کا ریسکیو سینٹر ظاہر کر رہے تھے لیکن درحقیقت یہ جعلی تھے۔ (فوٹو: پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر)

ڈونیشن کے حوالے سے ڈاکٹر محمد بلال نے بتایا کہ ’تاحال اس بات کے شواہد نہیں مل سکے کہ یہ لوگ براہ راست چندہ وصول کر رہے تھے، کیونکہ ان کے سوشل میڈیا پیجز پر دیے گئے تمام رابطہ نمبرز بیرون ملک کے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اس نیٹ ورک کا صرف ایک حصہ ہیں۔ پیجز چلانے والا مرکزی کردار تاحال گرفتار نہیں ہو سکا جبکہ کچھ افراد کارروائی سے قبل ہی کام چھوڑ چکے تھے یا چھٹی پر تھے۔ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد ہی پورے معاملے کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔‘

 

شیئر: