میانمار سے ٹیلی کام فراڈ میں ملوث 11 افراد کو چین میں پھانسی دے دی گئی
میانمار سے ٹیلی کام فراڈ میں ملوث 11 افراد کو چین میں پھانسی دے دی گئی
جمعرات 29 جنوری 2026 15:48
ان افراد کے جرائم میں ’دانستہ قتل، دانستہ جسمانی نقصان، غیرقانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کا قیام‘ شامل تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین نے ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک 11 افراد کو جمعرات کو پھانسی دے دی، کیونکہ بیجنگ سرحد پار پھیلی ہوئی اس صنعت کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کر رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا، خصوصاً میانمار کے سرحدی علاقوں میں، ایسے فراڈ مراکز موجود ہیں جہاں دھوکے باز انٹرنیٹ صارفین کو جعلی رومانوی تعلقات اور کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے جھانسے میں پھنساتے ہیں۔
ابتدا میں زیادہ تر چینی زبان بولنے والوں کو نشانہ بنانے والے یہ مجرمانہ گروہ اب متعدد زبانوں میں اپنے آپریشنز پھیلا چکے ہیں تاکہ دنیا بھر کے متاثرین سے رقم لوٹی جا سکے۔
ان فراڈ سرگرمیوں میں ملوث افراد میں بعض پیشہ ور دھوکے باز ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات انسانی سمگلنگ کے شکار غیرملکی شہریوں کو زبردستی اس کام پر لگایا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بیجنگ نے خطے کی حکومتوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا ہے تاکہ ان مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے، اور ہزاروں افراد کو چین واپس بھیجا گیا ہے جہاں انہیں چین کے غیرشفاف عدالتی نظام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق جمعرات کو پھانسی پانے والے 11 افراد کو ستمبر میں مشرقی چینی شہر وینژو کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، اور اسی عدالت نے سزاؤں پر عمل درآمد بھی کیا۔
شنہوا کے مطابق ان افراد کے جرائم میں ’دانستہ قتل، دانستہ جسمانی نقصان، غیرقانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کا قیام‘ شامل تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سزائے موت کی توثیق بیجنگ میں سپریم پیپلز کورٹ نے کی، جس نے قرار دیا کہ سنہ 2015 کے بعد کیے گئے جرائم کے شواہد ’قطعی اور کافی‘ ہیں۔
پھانسی پانے والوں میں بدنام زمانہ ’مِنگ فیملی کرمنل گروہ‘ کے ’اہم ارکان‘ بھی شامل تھے، جن کی سرگرمیوں کے نتیجے میں 14 چینی شہری ہلاک اور ’کئی دیگر‘ زخمی ہوئے۔
فراڈ کے ’کینسر‘ کے خلاف جنگ
ماہرین کے مطابق میانمار کے سرحدی علاقوں میں قائم فراڈ نیٹ ورکس نے فون اور انٹرنیٹ سکیموں کے ذریعے دنیا بھر سے اربوں ڈالر ہتھیا لیے ہیں۔
بعض اوقات انسانی سمگلنگ کے شکار غیرملکی شہریوں کو زبردستی اس کام پر لگایا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مراکز چینی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے زیرِانتظام ہیں جو میانمار کی ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔
حالیہ پھانسیوں کے بارے میں سوال پر بیجنگ کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’کافی عرصے سے چین، میانمار اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر سرحد پار ٹیلی کام اور انٹرنیٹ فراڈ کے خلاف کام کر رہا ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان گوؤ جیاکون نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ’چین جوئے اور فراڈ کے اس ’کینسر‘ کے خلاف بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون مزید گہرا کرتا رہے گا۔‘