پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے کمالیہ میں پولیس نے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کالا بچھو بیچنے کے جھانسے میں افراد سے لاکھوں روپے لوٹ رہا تھا۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلعی پولیس آفیسر(ڈی پی او) عبادت نثار کی ہدایات پر تھانہ بھسی کی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور متاثرہ شہری سے لوٹی گئی دو لاکھ روپے کی رقم بھی برآمد کر لی ہے۔
مزید پڑھیں
-
سعودی عرب کے بعض علاقوں میں بچھو بلوں سے کیوں نکل رہے ہیں؟Node ID: 621936
-
کراچی میں کالا بچھو فروخت کرنے کے بہانے تین افراد کا اغواNode ID: 753196
-
سعودی عرب میں نئے قسم کے بچھو دریافتNode ID: 813441
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں۔ ’فیس بک پر ایک اشتہار دیکھا جس میں کالا بچھو دکھایا گیا تھا۔ رابطہ کرنے پر ملزمان نے بچھو کی ویڈیو بھیجی اور لوکیشن پر آنے کا کہا۔ بچھو کی قیمت 15 لاکھ روپے بتائی گئی جس میں سے دو لاکھ روپے ایڈوانس ادا کر دیے گئے لیکن مقررہ جگہ پر گھنٹوں انتظار کے باوجود ملزمان نہ پہنچے اور رقم لے کر فرار ہو گئے۔‘ مقدمے میں چار معلوم اور تین نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی ملک بھر میں اس نوعیت کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کالا بچھو بیچنے کا یہ دھندہ ایک منظم فراڈ ہے جو شہریوں کی مجبوریوں اور لاعلمی کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور سے خیبر پختونخوا کے بچھوؤں پر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر صاحبزادہ محمد جواد سنہ 2017 سے اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں زہریلے کیڑے مکوڑوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اگلے پانچ سے 10 برس میں کالے بچھو سمیت کئی اقسام مکمل ختم ہو جائیں گے۔
ان کے مطابق پوری دنیا میں بچھوؤں کی 22 فیملیز موجود ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں ان کی تحقیق کے دوران صرف تین اقسام سامنے آئیں ہیں۔
پاکستان میں مجموعی طور پر پچھوؤں کی پانچ سے چھ اقسام پائی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحبزادہ محمد جواد کہتے ہیں ’کچھ خشک علاقوں میں کیکر کے درختوں کے نیچے زمین کے اندر رہتے ہیں، کچھ نمی والے پہاڑی علاقوں میں جبکہ کچھ شہروں کے قریب کچی آبادیوں میں ملتے ہیں۔‘
ان کے مطابق مختلف علاقوں کی آب و ہوا بدلنے سے بچھوؤں کی تعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی ماحولیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا بچھوؤں کا کاروبار واقعی ہوتا ہے؟ ڈاکٹر جواد اس بات کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔
’میں نے آج تک جس نے بھی بچھو کے کاروبار کا دعویٰ کیا، اس سے صرف ایک سوال کیا ہے، آپ بچھو کے ساتھ کریں گے کیا؟ اگر وہ کہے کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے تو میں پوچھتا ہوں کیوں؟‘
انہوں نے مزید بتایا کہ بچھو کا زہر واقعی بعض ادویات میں استعمال ہو سکتا ہے لیکن اس کا عمل انتہائی پیچیدہ اور مہنگا ہے۔ ’ایک بچھو سے چند ملی گرام زہر نکلتا ہے۔ بڑی مقدار کے لیے لیبارٹریاں اور لاکھوں بچھو چاہییں۔ اگر کوئی مفید کمپاؤنڈ مل بھی جائے تو اسے مصنوعی طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ یوں مزید زندہ بچھوؤں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔‘
یعنی اگر کسی بچھو کے زہر کا کوئی کمپاؤنڈ کسی بیماری کے علاج میں مفید ثابت ہو بھی جائے تو فارما کمپنیاں وہی کمپاؤنڈ خود تیار کرتی ہیں اور مزید بچھوؤں کی ضرورت نہیں رہتی۔
ڈاکٹر صاحبزادہ محمد جواد مانتے ہیں کہ بچھو کا زہر بہت قیمتی ہے اور اس کے کارخانے بھی موجود ہیں لیکن وہ ساتھ ہی یہ سوال کرتے ہیں کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ایک یا دو لیٹر زہر تیار کریں گے اور مالا مال ہوجائیں گے؟ اس کے لیے تو آپ کم از کم ایک لاکھ تک بچھو پالیں گے۔ اس لیے یہ بہت عامیانہ بات ہے کہ ایک بچھو بہت قیمتی ہے۔‘
ان کے مطابق بیرونی دنیا میں بچھو کے فارمنگ بھی کی جاتی ہے لیکن وہاں کے ماحول اور یہاں کے ماحول میں فرق ہے۔
’ہر علاقے کی آب و ہوا مختلف ہوتی ہے اور ہر آب و ہوا والے علاقے میں مختلف بچھو ہوتے ہیں تو یہ ممکن ہے کہ کوئی بچھو پاکستان میں موجود ہو اور وہ امریکہ یا کسی اور ملک میں نہ ہو تو اس کی قیمت لگائی جا سکتی ہے تاکہ بیرون دنیا اس پر تحقیق کر سکے لیکن یہ بہت کم ہوتا ہے۔‘













