Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور: کھلے مین ہول میں گرنے والی خاتون اور 10 ماہ کی بچی کی لاشیں مل گئیں

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بدھ کی شام کُھلے مین ہول میں گرنے والی ماں اور کم سن بیٹی کی لاشیں مل گئی ہیں۔ 
بدھ کی شب اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’خاتون کی لاش مل گئی ہے جبکہ بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔‘ 
جمعرات کی دوپہر ریسکیو 1122 کے مطابق 10 ماہ کی بچی کی لاش تقریبا اٹھارہ گھنٹے کے بعد آؤٹ فال روڈ  کی سیوریج لائن سے ملی ہے۔ 
اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’تمام ادارے کام کر رہے ہیں اور اس واقعے سے متعلق اعلٰی سطح کی ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔‘
ابتدائی اطلاع 
ریسکیو 1122 کے مطابق بدھ کی شام 7 بج کر 32 منٹ پر کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اُس کی 10 ماہ کی بچی کُھلے سیوریج مین ہول میں گر گئی ہیں۔ 
حکام کا کہنا ہے کہ کال موصول ہونے کے چار منٹ کے اندر ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور واٹر ریسکیو و سکوبا ٹیموں کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کی شناخت 24 سال کی سعدیہ اور بچی کی شناخت 10 ماہ کی ردا کے طور پر ہوئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ ’سیوریج لائن کی گہرائی، پانی کے تیز بہاؤ اور محدود جگہ کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو شاہد وحید نے میڈیا کو بتایا کہ مین ہول میں ڈیڑھ فٹ پانی موجود ہے جبکہ گہرائی 10 فٹ سے زیادہ اور سیوریج لائن کا قطر قریباً تین فٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو ٹیمیں مختلف طریقوں سے تلاش میں مصروف ہیں۔‘
ابتدائی طور پر ریسکیو حکام، پولیس، صوبائی حکومت اور متاثرہ خاندان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف پائے گئے جس کی وجہ سے واقعہ پیچیدہ ہوگیا۔ تاہم خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی کہ ’ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا واقعے پر ردعمل
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور میں ماں اور کم سن بچی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ایک ماں کا دکھ صرف ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے، یہ واقعہ انتظامیہ کی سنگین غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس واقعے کے بعد انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن میں شامل تمام اداروں کے افسران کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ اس سانحے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بھکر کی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد گھر جانے کے بجائے لاہور ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس کی صدارت کریں گی، جس میں واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے پولیس، ریسکیو 1122، واسا اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر مبنی غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری طور پر پیش کریں۔ 
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت ترین کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے تمام افسران اور اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی جی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایکشن
سانحہ کے بعد ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ہے۔ معطل کیے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو معطل کیا جا چکا تھا، تاہم مزید پیش رفت کے بعد دائرۂ کارروائی کو وسیع کر دیا گیا۔
ڈی جی ایل ڈی اے نے کنٹریکٹر کے خلاف فوری مقدمہ درج کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کی ہدایت پر کنٹریکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
مزید برآں ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے، جبکہ ان کی معطلی اور محکمانہ کارروائی و انکوائری کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ منصوبے میں نیسپاک ٹیم کے کردار کو بھی باقاعدہ انکوائری کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
گزشتہ روز یہ واقعہ پیش آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس سانحے پر ہر جگہ بحث ہوتی رہی۔ اسی دوران متعدد ایسی پوسٹس بھی سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات نے اس خبر کو ابتدائی طور پر جعلی قرار دیا تھا، تاہم بعد میں خاتون کی لاش ملنے کی تصدیق ہو گئی۔

یہاں ایک بات واضح رہے کہ وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا ٹی وی پر دیا گیا ایسا کوئی بیان نہیں مل سکا، البتہ مقامی میڈیا اور متعدد صحافیوں نے ایکس پر خبر دی کہ عظمیٰ بخاری اس واقعے کو فیک نیوز قرار دے رہی ہیں۔
تاہم یہ خبریں سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ مختلف پلیٹ فارمز پر واقعے سے متعلق سوالات اور تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ایک صارف نے عظمیٰ بخاری سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

شہروز اظہر نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا  ' کیا ہی ضرورت تھی اتنا جلدی فیصلہ سنانے کی؟ کیسے عظمیٰ بخاری نے اس معاملے کو فیک نیوز کہہ دیا بغیر کسی تحقیقات کے؟ لاہور کی اس سے زیادہ کیا ہی بد قسمتی ہو سکتی ہے کہ ایک شخص کی بیوی اور دس ماہ کی بیٹی گٹر میں گرنے سے دم توڑ گئیں اور اُسی  شخص کو گرفتار بھی کر لیا گیا، فیک نیوز تو درحقیقت عظمیٰ صاحبہ نے پھیلائی ہے۔'

کچھ صارفین یہ سوال کرتے بھی دکھائی دیے کہ کیا اس واقعے کی خبر کو فیک کہنے والوں پر پیکا ایکٹ لگے گا؟

شیئر: