شام نے کہا تو کرد جنگجوؤں کے خلاف مدد کریں گے: ترک وزارتِ دفاع
شام نے کہا تو کرد جنگجوؤں کے خلاف مدد کریں گے: ترک وزارتِ دفاع
جمعرات 8 جنوری 2026 17:00
حلب میں بدامنی منگل کو مسلح حملوں کے ایک سلسلے سے شروع ہوئی جس سے ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ترک وزارتِ دفاع کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو کہا ہے کہ ترکیہ کی فوج شام کی جانب سے مدد کی درخواست کی صورت میں شمال مغربی شہر حلب میں کرد جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شام کی ’مدد‘ کے لیے تیار ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکیہ کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے بھی کہا کہ انقرہ بدامنی کے خاتمے کی کوشش میں شامی اور امریکی حکام کے ساتھ ’انتہائی سرگرمی‘ سے کام کر رہا ہے۔
اس ہفتے شامی سرکاری افواج اور کرد اکثریتی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان مہلک جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب دونوں فریق سال کے اختتام تک کرد جنگجوؤں کو دمشق کی مرکزی فوج میں ضم کرنے کی آخری تاریخ پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے۔
انقرہ میں وزارتِ دفاع کے عہدیدار نے ان جھڑپوں کو ’دہشت گردی کے خلاف کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ’دہشت گرد تنظیموں کے خلاف شام کی جدوجہد‘ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر شام مدد کی درخواست کرتا ہے تو ترکیہ ضروری تعاون فراہم کرے گا۔‘ یہ بیان انقرہ کی اس دیرینہ پیشکش کی توثیق کرتا ہے جس کے تحت دمشق کی نئی اسلام پسند حکومت کے اتحادیوں کو فوجی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔
ترکیہ طویل عرصے سے کرد ایس ڈی ایف کا مخالف رہا ہے جو شمال مشرقی شام کے وسیع علاقوں پر قابض ہے، اور اسے کالعدم کرد عسکریت پسند گروہ پی کے کے کی توسیع اور اپنی جنوبی سرحد کے ساتھ ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
ترکیہ طویل عرصے سے کرد ایس ڈی ایف کا مخالف رہا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انقرہ بارہا 10 مارچ کے نام نہاد معاہدے کے نفاذ پر زور دیتا رہا ہے، جس کے تحت کردوں کی نیم خودمختار انتظامیہ اور فوج کو شامی فوج اور سکیورٹی ڈھانچے میں ضم کیا جانا تھا۔
کرد اختیارات کی مرکزیت کے بجائے غیرمرکزیت پر مبنی نظامِ حکومت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے شام کے نئے حکام نے مسترد کر دیا ہے۔ اسی باعث معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹ آئی اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
’غیرلچکدار موقف‘
حلب میں بدامنی منگل کو مسلح حملوں کے ایک سلسلے سے شروع ہوئی جس میں نو افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے، جبکہ دونوں فریق ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔
ہلاکتوں کی تعداد اب 17 ہو چکی ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے دمشق اور واشنگٹن کے ساتھ مسلسل بات چیت میں مصروف ہے، جس کا ذمہ انہوں نے ایس ڈی ایف کے ’غیرلچکدار موقف‘ کو ٹھہرایا۔
وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے دمشق اور واشنگٹن کے ساتھ مسلسل بات چیت میں مصروف ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ دو دنوں کے دوران ہم شامی فریق اور امریکیوں کے ساتھ گہری مشاورت میں مصروف رہے ہیں۔ ان شا اللہ، یہ معاملہ مزید خونریزی کے بغیر حل ہو جائے گا۔‘