گلوبل لیبر مارکیٹ کانفرنس: مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور آٹو میشن میں روزگار کے نئے مواقع
ڈیٹا انٹری اور انتظامی معاون جیسی ملازمتوں میں کمی ہو سکتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیرافرادی قوت انجینئراحمد بن سلیمان الراجی نے کہا ہے کہ ’مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور آٹو میشن روایتی رولز کو ہٹاتے ہوئے نئے مواقع پیدا کررہے ہیں۔‘
وہ پیر کو ریاض میں گلوبل لیبرمارکیٹ کانفرنس کے تیسرے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا’ اے آئی ماہرین اور ڈیٹا اینا لسٹ جیسی ٹیکنالوجی پر مبنی ملازمتوں میں اضافے کی توقع ہے جبکہ ڈیٹا انٹری اور انتظامی معاون جیسی ملازمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔‘
اس سال کانفرنس میں 100 ملکوں سے دس ہزار سے زیادہ شرکا، 40 سے زیادہ وزرا، بین الاقوامی تنظیموںِ، نجی شعبے اور اداروں نمائندے شریک ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق کانفرنس میں عالمی و علاقائی سطح پر لیبرمارکیٹوں کو درپیش چیلنجز اور ہونے والی نمایاں تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ’بین الاقوامی لیبرمارکیٹ مختلف حوالوں سے تیزی سے تبدیلیوں سے گزررہی ہے، جن کے لیے بین اقوامی تعاون کو مضبوط اور تجربات کے تبادلے کے عمل کو بہتراورتیز تربنانے کی ضرورت ہے تاکہ لیبر مارکیٹ کو زیادہ لچکدار بنایا جاسکے۔‘

انہوں نے مزید کہا’ بین الاقوامی لیبر کانفرنس ایک عالمی پلیٹ فارم بن گیا ہے جو رہنماوں، پالیسی سازوں اور ماہرین کو جمع کرتا ہے جس کا مقصد مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں سے مطابقت رکھتی ہوئی لیبرمارکیٹوں کو وسعت دی جائے، خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے شامل ہیں۔‘
انہوں نے کہا کانفرنس کا موجودہ ایڈیشن میں بہت سے اہم موضوعات پر توجہ دی جائے گی جن میں تجارتی تبدیلیاں اور روزگار کے مواقع پر ان کے اثرات، عالمی مہارتوں کے نظام، مصنوعی ذہانت کے اثرات وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے مملکت کے وژن 2030 کے فریم ورک میں لیبرمارکیٹ کو ترقی دینے کے تجربے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا’ کانفرنس کا مقصد لیبر مارکیٹ کی تبدیلیوں پر عالمی مکالمے کو مضبوط بنانے میں تعاون کرنا اور مختلف بین الاقوامی تجربات و خیالات سے استفادہ کرنا ہے۔‘
کانفرنس میں شریک وزرا نے معاشی ترقی کے لیے انسانی سرمائے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے ایسی لچکدار پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو لیبر مارکیٹ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں سے مطابقت رکھیں۔
