فلم انڈسٹری میں پدرشاہی سوچ اب بھی موجود ہے: کریتی سینن
کریتی سینن اس وقت اپنی آنے والی فلم ‘کاکٹیل ٹو‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں، جو جون 2026 میں ریلیز ہونے والی ہے۔ (فوٹو: انسٹاگرام)
بالی وڈ اداکارہ کریتی سینن اپنی ایک حالیہ انٹرویو میں فلم انڈسٹری میں موجود صنفی امتیاز اور غیر مساوی سلوک کے بارے میں کھل کر بات کی۔
جی کیو انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اداکارہ نے بتایا کہ بالی ووڈ میں آج بھی ایسے رویے موجود ہیں جو مردانہ بالادستی (پدرشاہی) کی عکاسی کرتے ہیں۔
اداکارہ، جو ماضی میں بھی فلمی دنیا میں صنفی برابری کی حمایت کرتی رہی ہیں، نے کہا کہ فلموں میں مالی معاملات طے کرتے وقت اکثر اداکاراؤں کو زیادہ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پیسے کے معاملے میں کافی جدوجہد رہی ہے۔ جب پروڈیوسرز کو بجٹ کم کرنا ہوتا ہے تو اکثر ہیروئن کی فیس کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ بجٹ کا بڑا حصہ مرد اداکار پر خرچ ہوتا ہے۔‘
کریتی سینن کے مطابق یہ مسائل برسوں پرانی روایات اور سماجی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پدرشاہی اب بھی فلمی سیٹس پر فیصلوں کو متاثر کرتی ہے، بعض اوقات لوگ خود بھی اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ ’فلم انڈسٹری میں پدرشاہی سوچ اب بھی گہرائی سے موجود ہے، اور برابری کی طرف بڑھنے کے لیے ہمیں مسلسل تبدیلی لانا ہوگی۔‘
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ شوٹنگ کے دوران بعض اوقات بظاہر چھوٹے واقعات بھی غیر مساوی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فلمی عملہ اکثر کوشش کرتا تھا کہ اداکارہ پہلے سے تیار ہو تاکہ مرد اداکار کو انتظار نہ کرنا پڑے۔
’یہ لاشعوری رویہ ہے، لیکن اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔‘
اپنے ابتدائی کیریئر کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کریتی نے بتایا کہ ایک مرد ساتھی اداکار، جو ان سے سینئر بھی نہیں تھا، کو سیٹ پر بہتر سہولیات دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے چھوٹی چھوٹی باتیں یاد ہیں، جیسے ایک مرد ساتھی اداکار کو، جو مجھ سے سینئر نہیں تھا، بہتر گاڑی دی گئی۔ یقیناً بات گاڑی کی نہیں تھی بلکہ برابر عزت دیے جانے کی تھی۔‘
کریتی سینن اس وقت اپنی آنے والی فلم ‘کاکٹیل ٹو‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں، جو جون 2026 میں ریلیز ہونے والی ہے۔
