Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پہلا ٹی20: آسٹریلیا کے خلاف شاندار فتح ٹیم کو اعتماد دے گی، عامر خاکوانی کا تجزیہ

پاکستان نے اچھا کھیل کر مناسب مارجن سے میچ جیتا جو کہ خوش آئند ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جانے والا پہلا میچ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جیت کر اچھا آغاز کیا۔ خاصے عرصے کے بعد پاکستان نے آسٹریلیا کو میچ ہرایا۔ اگرچہ اس میچ میں آسٹریلیا کے کئی بڑے کھلاڑی شامل نہیں تھے جو ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل ہوں گے۔ کمنز، جوش ہیزل وڈ، میکسویل وغیرہ کو آرام دیا گیا ہے۔ کمنز، ہیزل وڈ انجریز کے باعث پچھلا کچھ عرصہ کرکٹ سے دور رہے۔ نیتھن ایلس اور ٹم ڈیوڈ بھی پاکستان نہیں آئے۔ جبکہ دو اہم کھلاڑی کپتان مچل مارش اور انگلس جوش بگ باش فائنل کی وجہ سے لیٹ ہو گئے اور انہیں پہلے میچ میں ریسٹ دیا گیا۔ وہ اگلے میچز کھیلیں گے۔
اس کے باوجود بہرحال یہ آسٹریلیا کی ٹیم ہی ہے اور اس میں کئی ایسے میچ وننگ کھلاڑی موجود ہیں، جو ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ ہوں گے، ٹریوس ہیڈ، کیمرون گرین، ایڈم زمپا، کوپر کونلے، زاویر بارٹلٹ وغیرہ۔ پاکستان نے اچھا کھیل کر مناسب مارجن سے میچ جیتا جو کہ خوش آئند ہے۔ جیت ہمیشہ ہی اعتماد لاتی اور مورال ہائی کرتی ہے۔
میچ کی خاص بات پاکستانی ٹاپ آرڈر میں صائم ایوب کی بہت اچھی بیٹنگ تھی۔ صائم نے پاور پلے میں خاص طور سے اچھے شارٹس کھیلے، چھکے چوکے لگائے، اپنا مخصوص نو لک شارٹ بھی کھیلا۔ وہ پُراعتماد کھیلے اور بہت تیز سٹرائیک ریٹ سے رنز کیے۔ صائم نے 40 رنز 180 کے لگ بھگ سٹرائیک ریٹ سے بنائے جو کہ متاثرکن ہے۔
بدقسمتی سے صاحبزادہ فرحان پہلی گیند ہی پر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد دلچسپ یہ ہوا کہ بابر اعظم کو بھیجنے کے بجائے کپتان سلمان آغا خود آئے۔ حالانکہ سلمان آغا عام طور پر نئی گیند سے کسی بھی فارمیٹ میں بیٹنگ نہیں کرتے۔ سلمان آغا نے ذمہ داری قبول کی، اچھی اننگز کھیلی جس میں حیران کن طور پر چار چھکے شامل تھے۔ 144 کے سٹرائیک ریٹ سے 27 گیندوں پر 39 رنز بنائے۔ سلمان آغا کے بعض شاٹس متاثرکن تھے۔ ابتدا ہی سے لگ رہا تھا کہ وہ جارحانہ شاٹس کھیلیں گے۔ انہوں نے صائم ایوب کو خاصا سہارا دیا اور پاور پلے میں پاکستانی حساب سے اچھی پرفارمنس دکھائی۔ چھ اوورز میں 56 رنز۔ نو سے تھوڑا اوپر رن ریٹ۔
بابر اعظم اور فخر زمان اچھے سٹارٹ کو آگے نہیں بڑھا سکے۔ بابر اعظم پر ابھی بگ بیش کی ناکامی کے اثرات ہیں، انہوں نے کئی گیندیں ضائع کیں اور 120 کے خاصے مایوس کن سٹرائیک ریٹ سے 20 گیندوں میں 24 رنز بنائے۔ بابر نے زمپا کو ایک اچھا چھکا لگایا، اگر وہ نہ ہوتا تو شاید سٹرائیک ریٹ مزید کم رہتا۔ ماڈرن ٹی20 میں اتنے کم سٹرائیک ریٹ سے کھیل کر ٹیم میں جگہ بنائے رکھنا بہت مشکل ہے۔ بابر اعظم کو ہمت کرنا ہو گی۔ بہرحال اس میچ میں وہ کچھ دیر وکٹ پر رہے، ممکن ہے اس کا فائدہ اگلے میچز میں ہو۔

میچ کی خاص بات پاکستانی ٹاپ آرڈر میں صائم ایوب کی بہت اچھی بیٹنگ تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

فخر زمان کا بھی سٹرائیک ریٹ بہت برا رہا۔ کوئی بلے باز مڈل آرڈر میں نمبر پانچ پر آئے اور 16 گیندوں پر 10 رنز بنائے، 62 کے سٹرائیک ریٹ سے۔ اس کارکردگی کو صرف مایوس کن کہنا بھی نرم لفظ ہو گا، انتہائی ساتھ لگانا پڑے گا۔
صائم ایوب اور سلمان آغا کی اچھی بیٹنگ کے باعث پاکستان کو اچھا سٹارٹ مل گیا۔ ان کا پاور پلے ٹھیک گیا اور اس کے بعد بھی اگلے تین چار اوورز میں رنز بنے، 10 اوورز میں 93 رنز بنے۔ 11 ویں اوور میں 100 رنز بن گئے، وکٹیں بھی ہاتھ میں تھیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ اگلے نو اوورز میں کم از کم 80، 85 رنز بنتے۔ پاکستان کو 180 سے زیادہ رنز بنانے چاہیے تھے، اگر پاور ہٹنگ ہو جاتی تو شائد 190 تک بھی چلے جاتے۔ پاکستان محض 168 رنز بنا پایا۔ 170 بھی کراس نہیں ہوا۔
پاکستانی ٹیم میں ایک بار پھر پاور ہٹرز کی کمی محسوس ہوئی۔ پاکستان کے نمبر چار (بابر اعظم)، نمبر پانچ (فخر زمان)،نمبر چھ (عثمان خان)، نمبر سات (محمد نواز)، نمبر آٹھ (شاداب خان) میں سے کوئی بھی 130 کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ نہیں کر سکا، حالانکہ ٹی20 میں نمبر پانچ سے سات، آٹھ والوں کو 150 سے زیادہ سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کرنا پڑتی ہے، 15، 20 گیندوں پر 30، 40 رنز۔ اگر کوئی ایک بلے باز بھی ایسی بیٹنگ نہ کر سکے تو یہ پریشانی کی بات ہے۔
شاداب خان نمبر آٹھ پر آئے، 25 کے خوفناک سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی۔ محمد نواز نمبر سات پر آئے اور وہ آخری گیند تک وکٹ پر رہے اور انہوں نے 14 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔ یہ تو آج کل ون ڈے کرکٹ میں بھی نہیں ہوتا۔ یہ پاکستان کے لیے لمحہ فکر ہے۔ اگر اس میچ میں کمنز، ہیزل وڈ جیسے بولرز ہوتے تو شائد پاور پلے میں بھی مشکل ہوتی۔ اس طرح کے سٹرائیک ریٹ سے اگر بیٹنگ کی جائے گی تو ٹیم ہمیشہ دباؤ میں رہے گی۔

صائم ایوب اور سلمان آغا کی اچھی بیٹنگ کے باعث پاکستان کو اچھا سٹارٹ مل گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی ٹیم نے 169 رنز کا دفاع کرنا تھا۔ پاور پلے میں آسٹریلیا نے اپنے مخصوص سٹائل میں تیز رفتاری سے رنز کیے، ٹریوس ہیڈ نامور پاور ہٹر ہیں، وہ پہلے میچ میں کپتان بھی تھے، ہیڈ نے اپنے مخصوص انداز میں شاٹس کھیلے، مگر وہ صائم ایوب کا نشانہ بن گئے، صائم ہی نے دوسرے اوپنر میتھو شارٹ کو بولڈ کیا۔ آج صائم کا دن تھا۔ اچھی بیٹنگ کے ساتھ اچھی بولنگ کرائی اور ابتدا میں دو اہم وکٹیں لیں۔ پاور پلے میں اس کے باوجود آسٹریلیا نے پاکستان سے ایک رنز زیادہ کیا، 57 رنز بنے۔ بعد میں میٹ رنشا اور مچلز اوون رن آوٹ ہوئے جبکہ کیمرون گرین کو محمد نواز نے آوٹ کیا۔
پاکستانی سپنرز نے عمدہ بولنگ کرائی، خاص کر ابرار کو تو آسٹریلین بلے باز بالکل ہی نہیں سمجھ پا رہے تھے۔ ابرار نے تین اوورز میں صرف پانچ رنز دیے جبکہ فل کوٹہ یعنی چار اوورز میں صرف 10 رنز دے کر دو وکٹیں۔ ایک بولر اگر ایسی غیرمعمولی بولنگ کرائے تو باقیوں کو بڑا سہارا مل جاتا ہے۔ سپنرز مجموعی طور پر اچھے رہے۔ محمد نواز نے چار اوورز میں 25 رنز دے کر ایک وکٹ لی۔ شاداب خان نے تین اوورز میں 25 رنز دے کر ایک وکٹ لی۔ صائم نے تین اوورز میں 29 رنز دیے(ان میں ٹریوس ہیڈ کے لگائے دو چھکے بھی شامل تھے) مگر دو اہم وکٹیں بھی لیں۔
شاہین شاہ آفریدی اور سلمان مرزا بھی برے نہیں رہے، مگر انہیں کچھ رنز پڑے۔ شاہین نے تین اوورز میں 29 جبکہ سلمان مرزا نے تین اوورز میں 27 رنز دیے۔ ایک بات یہ نظر آئی کہ پاکستانی فاسٹ بولرز ڈیتھ اوورز میں اچھے یارکرز نہیں کرا پا رہے۔ یہ خامی حارث رؤف کے ساتھ تھی اور اب شاہین شاہ اور سلمان مرزا کو بھی اس کا سامنا ہے۔ وسیم جونیئر بہتر یارکر کرا لیتا ہے، مگر اسے یہ میچ نہیں کھلایا گیا، ویسے بھی ورلڈ کپ سکواڈ میں وسیم جونیئر شامل نہیں۔

ابرار احمد نے چار اوورز میں صرف 10 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ (فوٹو: پی سی بی)

بگ بیش میں زمان خان نے بہت عمدہ یارکر گیندیں کرا کر سب کو حیران کیا۔ وہاں ایک میچ میں زمان نے آخری اوور کرایا اور صرف چھ رنز کا دفاع بھی کر لیا۔ موجودہ پاکستانی فاسٹ بولنگ آپشنز (شاہین، نسیم، سلمان مرزا) سے آخری اوور میں 10 رنز کا دفاع بھی بہت مشکل ہے۔
یہ آسان نہیں تھا کہ زمان خان جو ورلڈ کپ پلان ہی میں نہیں تھا، اسے اچانک ٹیم میں لایا جاتا، لیکن اگر آوٹ آف باکس سوچتے تو وہ اچھی آپشن تھی، اس لیے کہ فلیٹ بیٹنگ وکٹوں پر جہاں سپنرز درمیانی اوورز میں زیادہ کامیاب نہیں رہیں گے، وہاں ڈیتھ اوورز میں یارکر سپیشلسٹ بولرز کی ضرورت پڑتی ہے۔ زمان خان میں یہ خوبی موجود ہے۔ شاہین شاہ یارکر نہ کرانے کی کمی سلو بال سے پوری کرتے ہیں لیکن اکثر پر چھکا لگ جاتا ہے۔ آج بھی لگ گیا۔ سلمان مرزا کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ سلو بال کو غیرمعمولی ہونا چاہیے، ورنہ آج کل مخالف بلے باز جلدی پک کر لیتے ہیں۔
جیت بہرحال جیت ہی ہے، ویسے بھی ابھی تو یہ سیریز شروع ہوئی ہے، اگلے میچز میں ردھم بہتر ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو البتہ مڈل آرڈر اور لوئر مڈل آرڈر میں کوئی پاور ہٹر لانا ہو گا۔ بابر، فخر، عثمان جس طرح بیٹنگ کر رہے ہیں، اس سے کام نہیں چلے گا۔ اسی طرح بولنگ کراتے ہوئے ڈیتھ اوورز میں بھی کوئی خاص جگاڑ کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ میچ قریب جا کر ہاتھ سے سلپ ہو جانے کا خدشہ رہے گا۔
اینی ویز ویل ڈن ٹیم پاکستان۔ سیریز کے لیے بیسٹ وشز۔ یہ سیریز پاکستان کو جیتنی چاہیے۔ آسٹریلیا جیسی ٹف ٹیم سے کسی بھی فارمیٹ میں سیریز جیتنا ہمیشہ شاندار رہتا ہے۔

 

شیئر: