برطانوی سیاست کے مزاحیہ امیدوار کا سنجیدہ سیاستدان کو چلینج، ’اپنا ووٹ کوڑے دان میں ڈالیں‘
برطانوی سیاست کے مزاحیہ امیدوار کا سنجیدہ سیاستدان کو چلینج، ’اپنا ووٹ کوڑے دان میں ڈالیں‘
بدھ 12 اگست 2026 13:06
بِن فیس کا مقابلہ سخت گیر امیگریشن مخالف سیاستدان نائیجل فراج سے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لندن کی سیاست ہمیشہ سے عجیب و غریب اور دلچسپ کرداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہے۔ اس بار سب کی نظریں ’کاؤنٹ بِن فیس‘ پر ہیں، جو اپنے سر پر کوڑا دان پہنے ہوئے ایک منفرد امیدوار ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق خود کو ’بین السیاراتی خلائی جنگجو‘ کہنے والا یہ کردار فرضی سیارے سگما IX سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے اور کلاکٹن کے ضمنی انتخاب میں سخت گیر مخالف امیگریشن سیاستدان نائیجل فراج کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ انتخاب اس وقت ہوا جب ریفارم یوکے کے رہنما فراج نے اچانک استعفیٰ دے دیا۔
چونکہ فراج دوبارہ اپنی نشست کے لیے امیدوار ہیں، برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس انتخاب کو محض ایک چال قرار دیتے ہوئے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ اس خلا نے آزاد اور مزاحیہ امیدواروں کے لیے میدان کھول دیا، جن میں سب سے نمایاں بن فیس ہے۔
اگرچہ سروے فراج کو 70 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ واضح فتح دکھاتے ہیں، لیکن بن فیس جو کہ مزاحیہ مصنف اور کامیڈین جون ہاروی کا دوسرا روپ ہے سب کی توجہ حاصل کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر 20 فیصد ووٹ لے سکتا ہے۔
تقریباً ایک دہائی سے برطانوی سیاست میں ’مزاحیہ امیدوار‘ کے طور پر، بن فیس نے اس مضحکہ خیزی کو پوری طرح اپنایا ہوا ہے۔ وہ انتخابی نتائج کے موقع پر دھاتی کوڑے دان کی شکل کا ہیلمٹ اور چاندی کے رنگ جیسا زرہ بکتر پہن کر آتا ہے، اور اپنی خشک مزاحیہ حس کے ساتھ سب کو محظوظ کرتا ہے۔
اس کے منشور میں طنزیہ وعدے شامل ہیں، جیسے باکرخانی کی قیمتوں پر حد مقرر کرنا، برطانوی ٹرینوں پر وائی فائی بہتر بنانا، اور عوامی ٹرانسپورٹ پر سپیکر فون استعمال کرنے والوں کو لازمی فوجی خدمت میں بھیجنا۔
ہاروی، 46 سالہ، آکسفورڈ یونیورسٹی سے کلاسکس گریجویٹ ہے اور اس نے مشہور طنزیہ ٹی وی پروگرامز لکھے ہیں۔ اس نے پہلی بار 2017 میں ’لارڈ بکٹ ہیڈ‘ کے طور پر شہرت حاصل کی، جب اس نے اُس وقت کی وزیراعظم ٹریزا مے کو عام انتخابات میں چیلنج کیا۔ کاپی رائٹ تنازع کے بعد 2018 میں اس نے نیا روپ ’کاؤنٹ بن فیس‘ اختیار کیا۔
اس کے بعد سے بن فیس نے سابق وزرائے اعظم بورس جانسن اور رِشی سونک کے خلاف، اور لندن کے میئر صادق خان کے خلاف بھی انتخابات لڑے، اور ہمیشہ ہزاروں ووٹ اور میڈیا کی بھرپور کوریج حاصل کی۔
پیر کو انہوں نے ایک خطاب میں کہا کہ ’میرے ساتھ شامل ہوں۔ آئیے کوڑا کرکٹ صاف کریں اور 13 اگست کو ’بن ڈے‘ بنائیں!‘ (فوٹو: اے ایف پی)
2021 کے لندن میئر کے انتخاب میں اس نے 24 ہزار سے زائدووٹ حاصل کیے، جو کہ کل ووٹوں کا ایک فیصد تھا، اور 2024 میں بھی اسی طرح کا نتیجہ حاصل کیا، اور دائیں بازو کی جماعت ’برٹین فرسٹ‘ کو آسانی سے شکست دی۔
ہاروی کا کہنا ہے کہ اس کی مہمات کے پیچھے ایک سنجیدہ مقصد ہے۔ اس کا منشور اکثر عوامی غصے اور مایوسی کو اجاگر کرتا ہے اور جمہوریت کی حمایت کرتا ہے۔ ان کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’ہر مہم کے پیچھے ایک سادہ دلیل ہے کہ ووٹ ڈالنا ضروری ہے، چاہے آپ کو معلوم ہو کہ نتیجہ کیا ہوگا۔‘
پیر کو انہوں نے ایک خطاب میں کہا کہ ’میرے ساتھ شامل ہوں۔ آئیے کوڑا کرکٹ صاف کریں اور 13 اگست کو ’بن ڈے‘ بنائیں!‘
سابق وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے بھی پارلیمنٹ میں فراج پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’میری سب کو نصیحت ہے کہ اپنا ووٹ کوڑے دان میں ڈالیں۔‘