Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وہ ملک جہاں پاسپورٹ رکھنے والے فالکنز جہاز میں اپنے مالک کے ساتھ سفر کرتے ہیں

یہ باز اکثر اپنے مالک کے ساتھ والی نشست پر سفر کرتے ہیں (فوٹو: یو اے ای سٹوریز)
یہ کوئی معمولی منظر نہیں ہوتا جب کسی ہوائی اڈے پر ایک باز اپنے مالک کے بازو پر سکون سے بیٹھا فلائٹ کا انتظار کر رہا ہو، بالکل ایسے جیسے وہ بھی ایک عام مسافر ہو۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ پرندے پنجرے میں بند ہو کر یا سامان کے حصے میں نہیں جاتے بلکہ جہاز کے کیبن میں، اکثر اپنے مالک کے ساتھ والی نشست پر سفر کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی روایات سے ناواقف مسافروں کے لیے یہ منظر حیران کن ہوتا ہے اور یہی تجربہ ان کے سفر کی ایک یادگار کہانی بن جاتا ہے۔
یہ انوکھا رواج متحدہ عرب امارات میں پایا جاتا ہے، جہاں حکومت باضابطہ طور پر بازوں کو پاسپورٹ جاری کرتی ہے۔ یو اے ای میں باز رکھنا محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایت ہے جو بدوی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ ماضی میں یہی تربیت یافتہ باز صحرائی ماحول میں شکار اور بقا کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ آج بھی ان پرندوں کو اسی احترام اور ثقافتی اہمیت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
بازوں کو پاسپورٹ اس لیے درکار ہوتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سفر بآسانی کر سکیں۔ یہ پرندے اکثر تربیت، مقابلوں، افزائشی پروگراموں اور طبی معائنے کے لیے مختلف ممالک جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کے باعث بغیر دستاویزات سفر ممکن نہیں، اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یو اے ای نے فالکن پاسپورٹ کا نظام متعارف کرایا۔
اس پاسپورٹ میں باز کی نسل، جنس، رنگت، شناختی نشانات اور مائیکروچِپ نمبر درج ہوتا ہے۔ یہ نظام غیرقانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور حکام کو یقین دلاتا ہے کہ پرندہ قانونی طور پر پالا گیا ہے۔
یو اے ای اور خلیجی ممالک کی بعض ایئرلائنز، جن میں اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز شامل ہیں، بازوں کو کیبن میں سفر کی اجازت دیتی ہیں۔ دورانِ پرواز بازوں کو پرسکون رکھنے کے لیے ان کی آنکھوں پر خاص نقاب پہنایا جاتا ہے۔
یہ پاسپورٹ نظام قدیم روایت اور جدید انتظامی قوانین کا حسین امتزاج ہے۔ یونیسکو بھی فالکنری کو عالمی غیرمادی ثقافتی ورثہ تسلیم کر چکا ہے۔ سیاحوں کے لیے ہوائی اڈے پر پاسپورٹ کے ساتھ سفر کرتا باز دیکھنا نہ صرف حیرت انگیز بلکہ اماراتی ثقافت کی گہری جھلک بھی پیش کرتا ہے۔

 

شیئر: