پی ایس ایل پلیئرز کا آکشن جاری، کون سا کھلاڑی کس ٹیم کا حصہ بنا؟
بدھ 11 فروری 2026 11:29
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں پہلی بار پلیئر آکشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے، اور اس وقت تقریب براہِ راست جاری ہے۔
اگرچہ آج تین ورلڈ کپ میچز بھی کھیلے جا رہے ہیں، تاہم شائقین کی نظریں آئندہ چند گھنٹوں تک اسی اہم ایونٹ پر مرکوز رہیں گی۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق آکشن میں آٹھ پی ایس ایل ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں دو سے تین نئی ٹیمیں بھی شامل ہیں، اپنے سکواڈ مکمل کرنے کے لیے بولی میں حصہ لے رہی ہیں۔
فہیم اشرف

آکشن میں ابتدائی کھلاڑی کے طور پر سامنے آنے والے فہیم اشرف کے لیے غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ حالیہ دنوں نیدرلینڈز کے خلاف ان کی شاندار کارکردگی نے واضح طور پر ان کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کیا، اور آکشن کا وقت ان کے حق میں جاتا دکھائی دیا۔
فہیم اشرف کی بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم بولی کا عمل شروع ہوتے ہی قیمت تیزی سے بڑھتی چلی گئی۔ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان بھرپور مقابلہ دیکھنے میں آیا، اور دونوں فرنچائزز نے انہیں اپنے سکواڈ میں شامل کرنے کے لیے سخت مقابلہ کیا۔
بالآخر اسلام آباد یونائیٹڈ کامیاب رہی اور فہیم اشرف کو 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔ یوں سابق یونائیٹڈ کھلاڑی ایک بار پھر اپنی پرانی ٹیم میں واپس آ گئے ہیں۔
بڑے پلیئرز نظر انداز؟

فہیم اشرف کی بڑی بولی کے بعد آکشن کا منظرنامہ یکسر بدلتا دکھائی دیا، جہاں کئی معروف کھلاڑیوں کو حیران کن طور پر کسی بھی فرنچائز نے منتخب نہیں کیا۔
عماد وسیم، مہدی حسن میراز، آصف آفریدی اور دانش عزیز اُن کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو ابتدائی مرحلے میں کسی ٹیم کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ توقع کے برعکس ان کے ناموں پر بولی نہیں لگی، جس نے ہال میں موجود شائقین اور تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا۔
دلچسپی کی کمی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ ویسٹ انڈیز کے کائل میئرز اور نیوزی لینڈ کے کولن منرو جیسے بین الاقوامی کھلاڑی بھی کسی فرنچائز کی ترجیح نہ بن سکے، اور یوں وہ بھی اس مرحلے پر بغیر کسی خریدار کے رہ گئے۔
آکشن کے ابتدائی مرحلے میں جہاں ایک طرف ریکارڈ بولیاں دیکھنے کو ملیں، وہیں دوسری جانب کئی بڑے نام نظرانداز ہوتے دکھائی دیے، جس سے ٹیموں کی حکمت عملی اور ترجیحات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ڈیوڈ وارنر

کراچی کنگز نے اپنے گزشتہ سیزن کے کپتان کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور مقابلہ کیا۔ بولی کا آغاز 4 کروڑ 20 لاکھ روپے سے ہوا، لیکن چند ہی لمحوں میں قیمت 6 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ پشاور زلمی نے بولی بڑھاتے ہوئے 6 کروڑ 45 لاکھ روپے تک پہنچا دی، تاہم کراچی کنگز انہیں آسانی سے جانے دینے کے لیے تیار نظر نہیں آئے۔
کراچی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے قیمت 7 کروڑ روپے تک بڑھا دی۔ طویل مشاورت کے بعد پشاور زلمی نے ایک بار پھر بولی میں اضافہ کیا، مگر کراچی کنگز مسلسل ڈٹے رہے۔ 7 کروڑ 75 لاکھ روپے کی پیشکش اس وقت تک کی سب سے بڑی بولی تھی، اور معاملہ تاحال فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوا تھا۔
بالآخر پشاور زلمی نے مقابلے سے دستبرداری اختیار کر لی، اور یوں کراچی کنگز نے اپنے سابق کپتان کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ آسٹریلوی سٹار بلے باز ڈیوڈ وارنر 7 کروڑ 90 لاکھ روپے میں کراچی کنگز کا حصہ بن گئے، جبکہ پشاور زلمی آخری لمحات میں پیچھے ہٹ گئی۔
ریلی روسو

پی ایس ایل کی تاریخ کے ممکنہ طور پر سب سے مؤثر غیرملکی کھلاڑی کے لیے آکشن میں زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ اُن کی دو سابقہ فرنچائزز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز (موجودہ راولپنڈی) آمنے سامنے آ گئیں۔
دونوں ٹیموں کے درمیان بولی کی جنگ جاری رہی، تاہم آخرکار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بازی مار لی اور غیرملکی سٹار کو 5 کروڑ 50 لاکھ روپے میں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
یہ فیصلہ آکشن ہال میں ایک اور بڑا موڑ ثابت ہوا، جہاں ٹیموں کی پرانی وابستگیاں اور سٹریٹیجک ترجیحات واضح دکھائی دیں۔
سعود شکیل
دوسری جانب قومی ٹیم کے بلے باز سعود شکیل کو اس مرحلے پر کوئی خریدار نہ مل سکا، اور وہ آکشن میں فروخت نہ ہو سکے، جو یقیناً ایک غیرمتوقع پیش رفت ہے۔
محمد علی

محمد علی کی ابتدائی بیس پرائس 1 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی تھی، مگر بولی تیزی سے بڑھتے ہوئے 2 کروڑ روپے کے قریب جا پہنچی۔
آکشن میں ایک واضح رجحان یہ بھی سامنے آیا کہ متعدد فرنچائزز اپنے سابق کھلاڑیوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کم ریٹینشن کی اجازت کے باعث جن کھلاڑیوں کو مجبوری میں چھوڑا گیا تھا، اب انہیں دوبارہ حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہے۔
اسی تناظر میں راولپنڈی سابقہ ملتان سلطانز نے محمد علی کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کی۔
مگر یہاں ڈرامائی موڑ آیا جب نیلام کنندہ نے محمد علی کو فروخت شدہ قرار دے دیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ حیدرآباد کی ٹیم نے بھی اپنی پیڈل اٹھائی تھی جسے نظرانداز کر دیا گیا۔ فیصلہ واپس لیا گیا اور بولی کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔
اس کے بعد حیدرآباد اور راولپنڈی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، اور محمد علی کی قیمت 2 کروڑ 15 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔ بالآخر یہی حتمی رقم رہی، اور حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین نے انہیں حاصل کر لیا، یوں اس فرنچائز کی آکشن میں پہلی باقاعدہ سائننگ مکمل ہوئی۔
حارث رؤف

اس مرحلے پر توقع کے عین مطابق لاہور قلندرز کی جانب سے بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ بولی کا آغاز ہوتے ہی لاہور اور کوئٹہ کے درمیان مقابلہ 5 کروڑ روپے تک جا پہنچا۔
اسی دوران راولپنڈی بھی میدان میں آ گئی، جبکہ کوئٹہ نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ بولی کا عمل تیزی سے آگے بڑھا اور قیمت 7 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
آخرکار لاہور قلندرز نے فیصلہ کن پیشکش کرتے ہوئے اپنے اہم فاسٹ بولر حارث رؤف کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ وہ 7 کروڑ 60 لاکھ روپے میں اسی ٹیم کا حصہ بن گئے جس کے ساتھ وہ تین پی ایس ایل ٹائٹلز جیت چکے ہیں۔
نسیم شاہ

آکشن کا درجۂ حرارت ایک بار پھر بلند ہو گیا جب کراچی نے بغیر کسی تاخیر کے 4 کروڑ 20 لاکھ کی ابتدائی قیمت کو سیدھا 6 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچا دیا۔
اسلام آباد یونائٹیڈ نے اپنے سابق کھلاڑی کے لیے میدان سنبھالا، مگرکراچی کنگز بولی کو تیزی سے اوپر لے جاتے رہے۔ قیمت دیکھتے ہی دیکھتے 8 کروڑ 20 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔
اسی دوران راولپنڈی بھی مقابلے میں شامل ہو گئی اور 8 کروڑ 65 لاکھ روپے کی سب سے بڑی بولی لگا دی۔ کراچی اس مقام پر پیچھے ہٹ گئی، اور راولپنڈی معاہدہ مکمل کرنے کے قریب پہنچ گئی۔ چند لمحوں بعد راولپنڈی نے پاکستان کے سٹار فاسٹ بولر کو اپنے نام کر لیا۔
دوسری جانب محمد حسنین کے لیے صورتحال خاصی مختلف رہی۔ ایک وقت میں پاکستان کی تیز رفتار باؤلنگ کا ابھرتا ہوا نام سمجھے جانے والے حسنین اس بار اپنی 1 کروڑ 10 لاکھ کی بیس پرائس پر بھی خریدار حاصل نہ کر سکے۔
اعظم خان

آکشن میں ایک اور دلچسپ موڑ اُس وقت آیا جب اعظم خان کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کی بیس پرائس سے آغاز کرنے والے اعظم کی بولی بتدریج بڑھتی ہوئی 3 کروڑ 5 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔
سیالکوٹ اور کراچی کنگز کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم آخرکار کراچی کنگز نے فیصلہ کن پیشکش کرتے ہوئے اعظم خان کو 3 کروڑ 25 لاکھ روپے میں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔