Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ایس ایل پلیئرز آکشن: کروڑوں کی بولیاں، بڑے نام نئی ٹیموں میں شامل

پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں پہلی بار پلیئر آکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹیموں نے کھلی بولی کے ذریعے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔
اگرچہ آج تین ورلڈ کپ میچز بھی کھیلے جا رہے ہیں، تاہم شائقین کی نظریں اس اہم ایونٹ پر مرکوز رہیں۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق آکشن میں آٹھ پی ایس ایل ٹیموں نے حصہ لیا جن میں دو سے تین نئی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
فہیم اشرف

Image

آکشن میں ابتدائی کھلاڑی کے طور پر سامنے آنے والے فہیم اشرف کے لیے غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ حالیہ دنوں نیدرلینڈز کے خلاف ان کی شاندار کارکردگی نے واضح طور پر ان کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کیا، اور آکشن کا وقت ان کے حق میں جاتا دکھائی دیا۔
فہیم اشرف کی بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم بولی کا عمل شروع ہوتے ہی قیمت تیزی سے بڑھتی چلی گئی۔ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان بھرپور مقابلہ دیکھنے میں آیا، اور دونوں فرنچائزز نے انہیں اپنے سکواڈ میں شامل کرنے کے لیے سخت مقابلہ کیا۔
بالآخر اسلام آباد یونائیٹڈ کامیاب رہی اور فہیم اشرف کو 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔ یوں سابق یونائیٹڈ کھلاڑی ایک بار پھر اپنی پرانی ٹیم میں واپس آ گئے ہیں۔
بڑے پلیئرز نظر انداز؟ 

Imad Wasim picked up three wickets, Dhaka Capitals vs Rajshahi Warriors, Sylhet, BPL, December 27, 2025

فہیم اشرف کی بڑی بولی کے بعد آکشن کا منظرنامہ یکسر بدلتا دکھائی دیا، جہاں کئی معروف کھلاڑیوں کو حیران کن طور پر کسی بھی فرنچائز نے منتخب نہیں کیا۔
عماد وسیم، مہدی حسن میراز، آصف آفریدی اور دانش عزیز اُن کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو ابتدائی مرحلے میں کسی ٹیم کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ توقع کے برعکس ان کے ناموں پر بولی نہیں لگی، جس نے ہال میں موجود شائقین اور تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا۔
دلچسپی کی کمی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ ویسٹ انڈیز کے کائل میئرز اور نیوزی لینڈ کے کولن منرو جیسے بین الاقوامی کھلاڑی بھی کسی فرنچائز کی ترجیح نہ بن سکے، اور یوں وہ بھی اس مرحلے پر بغیر کسی خریدار کے رہ گئے۔
آکشن کے ابتدائی مرحلے میں جہاں ایک طرف ریکارڈ بولیاں دیکھنے کو ملیں، وہیں دوسری جانب کئی بڑے نام نظرانداز ہوتے دکھائی دیے، جس سے ٹیموں کی حکمت عملی اور ترجیحات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ڈیوڈ وارنر

Image

کراچی کنگز نے اپنے گزشتہ سیزن کے کپتان کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور مقابلہ کیا۔ بولی کا آغاز 4 کروڑ 20 لاکھ روپے سے ہوا، لیکن چند ہی لمحوں میں قیمت 6 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ پشاور زلمی نے بولی بڑھاتے ہوئے 6 کروڑ 45 لاکھ روپے تک پہنچا دی، تاہم کراچی کنگز انہیں آسانی سے جانے دینے کے لیے تیار نظر نہیں آئے۔
کراچی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے قیمت 7 کروڑ روپے تک بڑھا دی۔ طویل مشاورت کے بعد پشاور زلمی نے ایک بار پھر بولی میں اضافہ کیا، مگر کراچی کنگز مسلسل ڈٹے رہے۔ 7 کروڑ 75 لاکھ روپے کی پیشکش اس وقت تک کی سب سے بڑی بولی تھی، اور معاملہ تاحال فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوا تھا۔
بالآخر پشاور زلمی نے مقابلے سے دستبرداری اختیار کر لی، اور یوں  کراچی کنگز نے اپنے سابق کپتان کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ آسٹریلوی سٹار بلے باز ڈیوڈ وارنر 7 کروڑ 90 لاکھ روپے میں کراچی کنگز کا حصہ بن گئے، جبکہ پشاور زلمی آخری لمحات میں پیچھے ہٹ گئی۔
ریلی روسو

Image

پی ایس ایل کی تاریخ کے ممکنہ طور پر سب سے مؤثر غیرملکی کھلاڑی کے لیے آکشن میں زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ اُن کی دو سابقہ فرنچائزز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز (موجودہ راولپنڈی) آمنے سامنے آ گئیں۔
دونوں ٹیموں کے درمیان بولی کی جنگ جاری رہی، تاہم آخرکار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بازی مار لی اور غیرملکی سٹار کو 5 کروڑ 50 لاکھ روپے میں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
یہ فیصلہ آکشن ہال میں ایک اور بڑا موڑ ثابت ہوا، جہاں ٹیموں کی پرانی وابستگیاں اور سٹریٹیجک ترجیحات واضح دکھائی دیں۔
سعود شکیل
دوسری جانب قومی ٹیم کے بلے باز سعود شکیل کو اس مرحلے پر کوئی خریدار نہ مل سکا، اور وہ آکشن میں فروخت نہ ہو سکے، جو یقیناً ایک غیرمتوقع پیش رفت ہے۔
محمد علی

Image

محمد علی  کی ابتدائی بیس پرائس 1 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی تھی، مگر بولی تیزی سے بڑھتے ہوئے 2 کروڑ روپے کے قریب جا پہنچی۔
آکشن میں ایک واضح رجحان یہ بھی سامنے آیا کہ متعدد فرنچائزز اپنے سابق کھلاڑیوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کم ریٹینشن کی اجازت کے باعث جن کھلاڑیوں کو مجبوری میں چھوڑا گیا تھا، اب انہیں دوبارہ حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہے۔
اسی تناظر میں راولپنڈی سابقہ ملتان سلطانز نے محمد علی کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کی۔
مگر یہاں ڈرامائی موڑ آیا جب نیلام کنندہ نے محمد علی کو فروخت شدہ قرار دے دیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ حیدرآباد کی ٹیم نے بھی اپنی پیڈل اٹھائی تھی جسے نظرانداز کر دیا گیا۔ فیصلہ واپس لیا گیا اور بولی کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔
اس کے بعد حیدرآباد اور راولپنڈی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، اور محمد علی کی قیمت 2 کروڑ 15 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔ بالآخر یہی حتمی رقم رہی، اور حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین نے انہیں حاصل کر لیا، یوں اس فرنچائز کی آکشن میں پہلی باقاعدہ سائننگ مکمل ہوئی۔
حارث رؤف

Image

اس مرحلے پر توقع کے عین مطابق لاہور قلندرز کی جانب سے بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ بولی کا آغاز ہوتے ہی لاہور اور کوئٹہ کے درمیان مقابلہ 5 کروڑ روپے تک جا پہنچا۔
اسی دوران راولپنڈی بھی میدان میں آ گئی، جبکہ کوئٹہ نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ بولی کا عمل تیزی سے آگے بڑھا اور قیمت 7 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
آخرکار لاہور قلندرز نے فیصلہ کن پیشکش کرتے ہوئے اپنے اہم فاسٹ بولر حارث رؤف کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ وہ 7 کروڑ 60 لاکھ روپے میں اسی ٹیم کا حصہ بن گئے جس کے ساتھ وہ تین پی ایس ایل ٹائٹلز جیت چکے ہیں۔
نسیم شاہ

Image

آکشن کا درجۂ حرارت ایک بار پھر بلند ہو گیا جب کراچی نے بغیر کسی تاخیر کے 4 کروڑ 20 لاکھ کی ابتدائی قیمت کو سیدھا 6 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچا دیا۔ 
اسلام آباد یونائٹیڈ نے اپنے سابق کھلاڑی کے لیے میدان سنبھالا، مگرکراچی کنگز بولی کو تیزی سے اوپر لے جاتے رہے۔ قیمت دیکھتے ہی دیکھتے 8 کروڑ 20 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔
اسی دوران راولپنڈی بھی مقابلے میں شامل ہو گئی اور 8 کروڑ 65 لاکھ روپے کی سب سے بڑی بولی لگا دی۔ کراچی اس مقام پر پیچھے ہٹ گئی، اور راولپنڈی معاہدہ مکمل کرنے کے قریب پہنچ گئی۔ چند لمحوں بعد راولپنڈی نے پاکستان کے سٹار فاسٹ بولر کو اپنے نام کر لیا۔
دوسری جانب محمد حسنین کے لیے صورتحال خاصی مختلف رہی۔ ایک وقت میں پاکستان کی تیز رفتار باؤلنگ کا ابھرتا ہوا نام سمجھے جانے والے حسنین اس بار اپنی 1 کروڑ 10 لاکھ کی بیس پرائس پر بھی خریدار حاصل نہ کر سکے۔ 
اعظم خان

Image

آکشن میں ایک اور دلچسپ موڑ اُس وقت آیا جب اعظم خان کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کی بیس پرائس سے آغاز کرنے والے اعظم کی بولی بتدریج بڑھتی ہوئی 3 کروڑ 5 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔
سیالکوٹ اور کراچی کنگز کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم آخرکار کراچی کنگز نے فیصلہ کن پیشکش کرتے ہوئے اعظم خان کو 3 کروڑ 25 لاکھ روپے میں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
صاحبزادہ فرحان

Image

آکشن کے اس مرحلے میں ابتدا میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ دونوں فرنچائزز پاکستان کے اوپنر کو حاصل کرنے کے لیے آمنے سامنے تھیں۔ اسی دوران کراچی کنگز بھی بولی میں شامل ہو گئی اور قیمت بڑھتے بڑھتے 5 کروڑ 25 لاکھ روپے تک جا پہنچی، جہاں تک کراچی برتری حاصل کیے ہوئے تھی۔
لیکن مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا جب سیالکوٹ سٹالینز بھی میدان میں آ گئی۔ اس کے بعد سیالکوٹ اور دیگر ٹیموں کے درمیان بولی کا سلسلہ جاری رہا اور قیمت 5 کروڑ 70 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
بالآخر 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کی حتمی بولی پر سیالکوٹ سٹالینز نے پاکستان کے اوپنر کو اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
رشاد حسین

Image

بنگلہ دیش کے لیگ سپنر کے لیے مختصر مگر دلچسپ بولی کی جنگ دیکھنے میں آئی۔ چند لمحوں تک مختلف فرنچائزز کے درمیان مقابلہ جاری رہا، تاہم آخرکار راولپنڈی نے فیصلہ کن پیشکش کرتے ہوئے 3 کروڑ روپے میں انہیں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
فیصل اکرم

Image

فیصل اکرم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے ہیں، اور انہیں 1 کروڑ 25 لاکھ روپے میں حاصل کیا گیا۔ اس انتخاب کے ساتھ کوئٹہ نے اپنے سپن ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور آپشن شامل کر لیا ہے۔
عامر جمال، عرفات منہاس، اسامہ میر
عامر جمال کو پشاور زلمی نے 1 کروڑ 90 لاکھ روپے میں منتخب کر لیا ہے۔

Image

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے عرفات منہاس کو اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔

Image

دوسری جانب لیگ سپنر اسامہ میر نے بھاری معاوضہ حاصل کیا اور 3 کروڑ 50 لاکھ روپے میں لاہور قلندرز کا رخ کیا۔

Image

سلمان علی آغا

Image

اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے درمیان ایک اور سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ بولی کا آغاز 4 کروڑ 20 لاکھ روپے سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے قیمت 5 کروڑ 25 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔ اسلام آباد اپنے کھلاڑی کو برقرار رکھنے کی کوشش میں تھا، مگر کراچی کنگز مسلسل بولی بڑھاتے رہے۔
قیمت مزید بڑھ کر 5 کروڑ 85 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس مرحلے پر اسلام آباد یونائیٹڈ نے مقابلے سے دستبرداری اختیار کر لی۔
یوں کراچی کنگز نے پاکستان کے ٹی20 کپتان کو 5 کروڑ 85 لاکھ روپے میں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا، اور آکشن میں ایک اور بڑا نام اپنے نام کر لیا۔ 
فخر زمان

Image

اسلام آباد یونائیٹڈ نے ابتدا سے ہی سخت مزاحمت کی، مگر لاہور قلندرز بھی اپنے سٹار کھلاڑی کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیے۔ کچھ دیر تک دونوں ٹیموں کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ جاری رہا اور پھر اسلام آباد یونائیٹڈ بولی سے باہر ہو گئی۔
اسی دوران پشاور زلمی بھی میدان میں آ گئی، جس کے بعد قیمت 7 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ مگر لاہور قلندرز نے واضح پیغام دے دیا کہ وہ فخر کو جانے نہیں دیں گے۔ بولی بڑھتے بڑھتے 7 کروڑ 80 لاکھ روپے سے بھی آگے نکل گئی۔
بالآخر 7 کروڑ 95 لاکھ روپے کی حتمی پیشکش پر لاہور قلندرز نے اپنے تجربہ کار اوپنر فخر زمان کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
ڈیرل مچل

Image

پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان اس کھلاڑی کو حاصل کرنے کے لیے زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ بولی کا آغاز 4 کروڑ 20 لاکھ روپے سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے قیمت 7 کروڑ 70 لاکھ روپے سے بھی آگے نکل گئی۔ 
اسی دوران اچانک راولپنڈی بھی میدان میں نظر آئی۔ بہرحال فیصلہ کن مرحلہ وہیں آیا جب راولپنڈی نے سب سے بڑی پیشکش سامنے رکھ دی۔
آخرکار 8 کروڑ 5 لاکھ روپے کی بولی پر راولپنڈی نے کھلاڑی ڈیرل مچل اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
میکس برائنٹ

Image

آسٹریلوی بلے باز میکس برائنٹ کے لیے قدرے غیر متوقع طور پر بولی کی جنگ چھڑی۔ چند فرنچائزز کے درمیان مختصر مگر دلچسپ مقابلے کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ نے انہیں 1 کروڑ 95 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا، یوں مڈل آرڈر کے لیے ایک اور غیر ملکی آپشن شامل کر لیا گیا۔
دوسری جانب حیران کن طور پر جنوبی افریقہ کے تجربہ کار بلے باز رسی وین ڈر ڈوسن کو کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا۔ اسی طرح قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طیب طاہر بھی اس مرحلے پر بغیر کسی خریدار کے رہ گئے۔
محمد عامر

Image

کافی دیر تک ہال میں خاموشی چھائی رہی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ محمد عامر بغیر فروخت ہوئے رہ جائیں گے۔ آخری لمحات میں راولپنڈی نے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بولی لگا کر صورتحال بدل دی۔ اس کے فوراً بعد کراچی نے قیمت بڑھا کر 4 کروڑ 35 لاکھ روپے کر دی۔
ابتدا میں مقابلہ کچھ سست روی کا شکار رہا، جہاں چند ٹیمیں کم سے کم مقررہ اضافے کے ساتھ بتدریج بولی بڑھاتی رہیں۔ مگر پھر رفتار تیز ہوئی اور قیمت بڑھتے بڑھتے 5 کروڑ 40 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔
بالآخر 5 کروڑ 40 لاکھ روپے کی حتمی بولی پر راولپنڈی نے انہیں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
عبید شاہ

Image

عبید شاہ کی بیس پرائس صرف 60 لاکھ روپے رکھی گئی تھی، مگر طویل اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز نے انہیں 2 کروڑ 70 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔ نوجوان کھلاڑی کے لیے یہ ایک شاندار معاہدہ ثابت ہوا اور ان کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کوسل پریرا

Image

دوسری جانب کوسل پریرا، جو گزشتہ سیزن کے ڈرامائی پی ایس ایل فائنل میں لاہور قلندرز کے لیے ٹاپ سکورر رہے تھے، ابتدا میں تقریباً ان سولڈ ہونے کے قریب تھے۔ مگر اچانک بولی کی جنگ چھڑ گئی اور صورتحال یکسر بدل گئی۔
بالآخر حیدرآباد نے 3 کروڑ 10 لاکھ روپے کی پیشکش کے ساتھ کوسل پریرا کو اپنے سکواڈ میں شامل کر لیا۔
محمد حارث

Image

حارث ماضی میں پشاور زلمی کا اہم حصہ رہ چکے ہیں اور فرنچائز واضح طور پر انہیں واپس اپنے سکواڈ میں دیکھنا چاہتی تھی۔ دوسری جانب وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے جارحانہ اور ہائی رسک کھیل کے انداز سے بھی مکمل طور پر مطابقت رکھتے ہیں، اس لیے مقابلہ متوقع تھا۔
بولی کا آغاز 1 کروڑ 10 لاکھ روپے سے ہوا اور قیمت تیزی سے بڑھتے ہوئے 2 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان مختصر مگر دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
بالآخر پشاور زلمی نے 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کی حتمی پیشکش کے ساتھ حارث کو دوبارہ اپنے سکواڈ میں شامل کر لیا۔
خواجہ نافع

Image

نوجوان اوپنر خواجہ نافع کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرنز نے 6 کروڑ 50 لاکھ میں حاصل کر لیا ہے۔ خواجہ کے لیے یہ غیرمعمولی بولی ثابت ہوئی۔ ایک کروڑ 10 لاکھ روپے کی بیس پرائس سے آغاز کرنے والے نافع کی قیمت دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً چھ گنا بڑھ گئی، جو اُن کے لیے یقیناً یادگار لمحہ ہے۔ 
مارک جیپمین

Image

اسلام آباد یونائیٹڈ نے آخری لمحے میں 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بولی لگا کر ماحول یکسر بدل دیا، جس کے بعد پشاور زلمی اور اسلام آباد کے درمیان باقاعدہ بولی کی جنگ شروع ہو گئی۔ اسلام آباد نے اچانک قیمت بڑھا کر 5 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دی، مگر زلمی بھی پیچھے نہ رہی اور اس سے آگے نکل گئی۔
مقابلہ تیزی سے شدت اختیار کرتا گیا۔ قیمت 6 کروڑ 70 لاکھ روپے تک جا پہنچی، اور واضح تھا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ انہیں ہر صورت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بولی بڑھتے بڑھتے 7 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
پشاور زلمی کی جانب سے خاموشی چھا گئی، اور یہی فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے 7 کروڑ روپے میں نیوزی لینڈ کے بلے باز مارک چیپمین کو اپنے سکواڈ میں شامل کر لیا۔ کیوی سٹار کے لیے یہ ایک بڑی ڈیل ثابت ہوئی، جبکہ آکشن میں ایک اور ہائی پروفائل معاہدہ طے پا گیا۔
وسیم جونیئر

Image

آکشن میں ایک واضح رجحان بار بار سامنے آیا، وہ ٹیمیں جنہیں ریٹینشن کی پابندیوں کے باعث اپنے کھلاڑی چھوڑنے پڑے، اب انہیں دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم نظر آئیں۔
اسی تسلسل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے سخت مقابلے کا سامنا کیا، مگر آخرکار اپنے فاسٹ بولر کو 4 کروڑ 10 لاکھ روپے میں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
میر حمزہ

Image

دوسری جانب میر حمزہ ابتدا میں اپنی بیس پرائس پر تقریباً بلا مقابلہ کراچی کنگز کے حصے میں جاتے دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن عین وقت پر اسلام آباد یونائیٹڈ نے 1 کروڑ 15 لاکھ روپے کی بولی لگا کر مقابلہ چھیڑ دیا۔ کراچی نے نہ صرف اس پیشکش کو میچ کیا بلکہ قیمت میں اضافہ بھی کیا۔
صورتحال کچھ یوں محسوس ہوئی جیسے اسلام آباد قیمت اوپر لے جا کر دباؤ بڑھا رہی ہو، کیونکہ کراچی انہیں ہر صورت حاصل کرنا چاہتی تھی۔ بولی بڑھتے بڑھتے 2 کروڑ روپے تک پہنچی، مگر مقابلہ جاری رہا۔
بالآخر کراچی کنگز نے 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کی حتمی پیشکش کے ساتھ میر حمزہ کو اپنے سکواڈ میں شامل کر لیا۔
ایڈم زامپا

Image

اس مرحلے میں کوئی خاص بولی کی جنگ دیکھنے میں نہیں آئی، تاہم کراچی کنگز نے آسٹریلوی لیگ سپنر کو 4 کروڑ 50 لاکھ روپے میں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔ 
پیٹر سڈل

Image

41 سالہ سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر اس بار پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے، جس سے آکشن میں ایک دلچسپ موڑ پیدا ہوا۔
تبریز شمسی

Image

سیالکوٹ سٹالینز نے آخری لمحوں  تبریز شمسی کو 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بیس پرائس پر ہی اپنے سکواڈ میں شامل کر لیا۔
پشاور زلمی میں شامل کیے جانے والے کھلاڑی
پی ایس ایل کی ٹیم پشاور زلمی نے کئی اہم کھلاڑیوں کو بولی لگا کر اپنا حصہ بنا لیا ہے۔
مائیکل بریسول کو چار کروڑ 20لاکھ، جیمز وینس کو تین کروڑ، کوشل مینڈس کو چار کروڑ 20 لاکھ روپے، فاسٹ بالر ناہید رانا کو 60 لاکھ جبکہ افتخار احمد کو ایک اعشاریہ آٹھ کروڑ میں آکشن کے دوران لیا گیا۔
کئی بڑے نام خریدار سے محروم، کن کھلاڑیوں کو کوئی فرنچائز نہ ملی؟
پی ایس ایل پلیئر آکشن جہاں ایک جانب کروڑوں کی ریکارڈ بولیوں اور سنسنی خیز مقابلوں سے بھرپور رہا، وہیں متعدد معروف مقامی اور بین الاقوامی کھلاڑی کسی بھی فرنچائز کی ترجیح نہ بن سکے۔
آکشن کے ابتدائی مرحلے میں ہی عماد وسیم، مہدی حسن میراز، آصف آفریدی اور دانش عزیز کو کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا۔ اسی سلسلے میں ویسٹ انڈیز کے کائل میئرز اور نیوزی لینڈ کے کولن منرو بھی بغیر خریدار کے رہ گئے۔
بعد ازاں قومی ٹیم کے بلے باز سعود شکیل بھی اس مرحلے میں فروخت نہ ہو سکے۔ فاسٹ بولر محمد حسنین، جو ماضی میں تیز رفتار بولنگ کی وجہ سے نمایاں رہے، اپنی 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کی بیس پرائس پر بھی کسی ٹیم کی دلچسپی حاصل نہ کر سکے۔
بیٹنگ لائن سے متعلق فیصلوں میں بھی حیران کن رجحان سامنے آیا۔ جنوبی افریقہ کے رسی وین ڈر ڈوسن اور قومی سطح پر کارکردگی دکھانے والے طیب طاہر خریدار حاصل نہ کر سکے۔
غیر ملکی کھلاڑیوں میں برینڈن کنگ، ایون لیوس اور ول سدرلینڈ بھی ان سولڈ رہے۔ اسی طرح لیام ڈاسن، داسن شناکا اور ریز ہینڈرکس کو بھی کوئی فرنچائز نہ ملی، جبکہ جیک فریزر میک گرک بھی کسی ٹیم کی ترجیح نہ بن سکے۔
سپنرز کے شعبے میں بھی سختی دیکھنے میں آئی۔ 46 سالہ عمران طاہر کو کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا، جبکہ جنوبی افریقہ کے کیشو مہاراج بھی خریدار سے محروم رہے۔
 

شیئر: