پاکستان کے انڈیا کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میچ پر بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے کے اعلان کو دانشمندی کا مظاہرہ اور کرکٹ کے لیے بہتر اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی حکومت نے پیر کی شب دیر گئے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ایک ہفتے سے جاری تعطل ختم کر دیا، جس کے تحت کرکٹ ٹیم کو کولمبو میں ہونے والے اس میچ کے بائیکاٹ کا حکم دیا گیا تھا۔
دنیا کی کرکٹ کا سب سے بڑا اور منافع بخش مقابلہ ایک ہنگامہ خیز ویک اینڈ پر ہونے والے مذاکرات کے بعد دوبارہ بحال ہو گیا۔
مزید پڑھیں
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انڈیا کے سابق کرکٹر مدن لال نے کہا کہ ’پاکستان نے بار بار یہ کہہ کر آئی سی سی کو ہلا کر رکھ دیا کہ وہ میچ نہیں کھیلے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ آخرکار آئی سی سی کو معاملہ حل کرنے کے لیے پاکستان حکام سے بات چیت کرنا پڑی، اور یہ کرکٹ کے لیے اچھا ثابت ہوا۔
مدن لال کے مطابق ’ہم چاہتے ہیں کہ مضبوط ٹیمیں کھیلیں تاکہ ورلڈ کپ کی کشش برقرار رہے۔‘
’سب کے لیے نقصان دہ صورتِ حال‘
سری لنکا نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جو اس میچ کی میزبانی کر رہا ہے جو اشتہارات، نشریاتی حقوق، سپانسرشپ اور سیاحت سے کروڑوں ڈالر کی آمدن سے مستفید ہوگا۔
سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ یقینی بنایا کہ وہ کھیل جسے ہم سب پسند کرتے ہیں، جاری رہے۔
Thank you Prime Minister @CMShehbaz for ensuring the game we all love goes on. Delighted that the eagerly awaited India and Pakistan match at the ongoing T20 Cricket World Cup in Colombo will proceed as planned.
As co-host of the tournament, Sri Lanka thanks the @ICC and all…
— Anura Kumara Dissanayake (@anuradisanayake) February 9, 2026
صدر ڈسانائیکے نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’خوشی ہے کہ جاری ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ میں کولمبو میں ہونے والا پاکستان اور انڈیا کے درمیان بے حد متوقع میچ منصوبے کے مطابق ہوگا۔‘
انڈیا کے سینیئر صحافی پردیپ میگزین نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام فریقین نے آخرکار دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
ان کے مطابق مالی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا گیا ’انڈیا پاکستان مقابلہ صرف کرکٹ کی آمدن تک محدود نہیں، بلکہ اس سے وسیع تر تجارتی فوائد بھی وابستہ ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ انڈیا پاکستان میچ سے حاصل ہونے والی آمدن کا ضیاع آئی سی سی کے تمام رکن ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔‘













