18ویں ترمیم نے انتظامی آزادی دی، گروہوں میں بٹنے کی نہیں: مریم نواز
مریم نواز نے اسلام آباد دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قوم کو دوٹوک مؤقف اپنانا ہو گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر سخت فیصلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم نے ہمیں انتظامی طور پر آزادی ملی ہے گروہوں میں بٹنے کی نہیں۔
بدھ کو کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’بلوچستان تنہا نہیں بلکہ پنجاب اس کے ساتھ کھڑا ہے اور جو کچھ بھی اس کے پاس ہے وہ بلوچستان کے ساتھ بانٹا جائے گا۔‘
انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ اس پر قوم دو ٹوک موقف اپنانا اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔
مریم نواز کے مطابق ’ہمیں ففتھ جنریشن وار کا بھی سامنا ہے، دشمن نے ہمارے ذہنوں پر حملہ کیا ہے اور اس جنگ کا ہتھیار بندوق نہیں بلکہ بیانیہ ہے۔‘
’ہمیں کالے کو کالا اور سفید کو سفید کہنا پڑے گا، ہمارے دماغ میں کوئی گرے ایریا نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے زور دیتے ہوئے ہا کہ مضبوط موقف اور ٹھوس انداز سے منفی بیانیے کو رد کرنا ہے اور اس کو دشمن کا موقف سمجھنا ہے۔
ان کے بقول ’اگر ہم مضبوط ہیں تو دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘
مریم نواز نے کہا کہ مشکلات کے باوجود اگلے محاذوں پر لڑنے والوں کو سلام پیش کرتی ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، ایسے دشمن ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘
مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ماضی میں پھر سے دہشت گردوں کو لا کر بسایا گیا، مخصوص گروہوں نے نوجوانوں کے ہاتھ لے کر ان میں پیٹرول بم تھمائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’اپنے ملک اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا ہمارا کھلا دشمن ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے وزارت اعلیٰ سنبھالی تو اس وقت پنجاب میں بھی امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں تھی، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہوتے تھے مگر بھرپور اقدامات کے بعد اب پنجاب بہت محفوظ صوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کے ذریعے ہر محلے اور سڑک کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس کے بعد فساد اور جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر حملوں کی کارروائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
مریم نواز نے فرنٹیئر کور کے لیے 10 ارب روپے کی معاونتی گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔