پاکستان کی کینو برآمدات کو رواں برآمدی سیزن کے دوران شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ روایتی طور پر سب سے بڑی منڈی افغانستان کے ساتھ تجارت تقریباً ختم ہو گئی تو قازقستان اور سعودی عرب پاکستانی کینو کے سب سے بڑے خریدار بن کر سامنے آئے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ زمینی سرحدوں کی بندش اور زمینی تجارت میں تعطل کے باعث کینو کی برآمدات میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم برآمد کنندگان نے قازقستان سمیت وسطی ایشیا، خلیجی اور علاقائی منڈیوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے اس نقصان کو کافی حد تک پورا کر لیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تازہ کینو کی افغانستان کو برآمدات تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہیں، جس کے باعث مجموعی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم اس کے ساتھ ہی پاکستانی برآمد کنندگان نے متبادل منڈیوں کی جانب کامیاب پیش رفت کرتے ہوئے اس نقصان کو جزوی طور پر پورا کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان: مصالحہ جات کی برآمدات میں کمیNode ID: 302816
-
افغانستان نے پاکستان کی قدر نہیں کی: وزیراعظم شہباز شریفNode ID: 899681
جولائی تا جنوری مالی سال 25 کے دوران پاکستان نے افغانستان کو 2 کروڑ 15 لاکھ ڈالر مالیت کا کینو برآمد کیا تھا، جس کی مقدار 62 ہزار 550 ٹن سے زائد رہی، تاہم مالی سال 26 کی اسی مدت میں یہ برآمدات کم ہو کر محض 3 لاکھ ڈالر اور 789 ٹن تک محدود ہو گئیں، جو تقریباً 99 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔
افغانستان جو ماضی میں پاکستانی کینو کی سب سے بڑی منڈی رہا ہے، اس اچانک اور شدید کمی نے مجموعی برآمدی کارکردگی کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی کینو برآمدات 3 کروڑ 73 لاکھ ڈالر (96 ہزار 489 ٹن) سے کم ہو کر 2 کروڑ 97 لاکھ ڈالر (70 ہزار 942 ٹن) رہ گئیں۔ اس طرح مجموعی طور پر قدر میں 20 فیصد اور مقدار میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم وزارت تجارت نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی منڈی کے ختم ہو جانے کے باوجود، برآمد کنندگان اور وزارت تجارت کی مشترکہ کوششوں کے باعث کئی نئی اور متبادل منڈیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور خطے کی دیگر ریاستوں میں پاکستانی کینو کی مانگ میں تیزی آئی، جس نے جزوی طور پر مجموعی نقصان کو متوازن کیا۔
تجارتی اعدادوشمار کے مطابق قازقستان اس عرصے کے دوران سب سے نمایاں منڈی کے طور پر سامنے آیا، جہاں کینو کی برآمدات کی مالیت 21 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر ایک کروڑ 22 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو 481 فیصد اضافہ ہے، جبکہ مقدار کے لحاظ سے برآمدات میں 512 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سعودی عرب، سری لنکا، بنگلہ دیش، عمان اور متحدہ عرب امارات میں بھی پاکستانی کینو کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔ سعودی عرب کو برآمدات کی مالیت میں 240 فیصد جبکہ مقدار میں تقریباً 289 فیصد اضافہ ہوا۔
سری لنکا میں اضافی 20 فیصد لیوی سے متعلق مسئلہ وزارت تجارت کی جانب سے اٹھائے جانے کے بعد حل ہوا، جس کے نتیجے میں ترجیحی ٹیرف بحال کر دیا گیا اور کینو کی برآمدات میں 180 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بنگلہ دیش اور عراق میں بھی برآمدات دگنی سے زائد رہیں، جبکہ عمان اور یو اے ای میں بتدریج مگر مستحکم اضافہ سامنے آیا۔
ازبکستان ایک اور نمایاں مثال کے طور پر ابھرا، جہاں گزشتہ برس برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں، تاہم رواں مالی سال کے دوران لکڑی کی پیکجنگ کی مشروط اجازت اور کیڑے مار ادویات کی باقیات سے متعلق ٹیسٹنگ میں نرمی کے بعد کینو کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس کے برعکس فلپائنز، انڈونیشیا، برطانیہ اور بحرین میں برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ انڈونیشیا میں برآمدات کی قدر اور مقدار دونوں میں 50 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، اگرچہ اس منڈی کے ساتھ تکنیکی سطح پر روابط اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
افغانستان کے راستے زمینی تجارت کی بندش کے بعد وزارت تجارت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں، جن میں برآمد کنندگان، نیشنل لاجسٹکس سیل اور وزارت قومی غذائی تحفظ کے ساتھ مشاورت کے بعد سہولت کاری کئی قدامات کیے۔ ان میں سب سے نمایاں ایران کے راستے کینو برآمد کرنے پر لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے استثنیٰ دینا تھا، جس سے برآمد کنندگان کو لاجسٹکس کے مسائل پر قابو پانے اور وسطی ایشیائی و علاقائی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملی۔

اسی کے ساتھ برآمد کنندگان کو یہ بھی ترغیب دی گئی کہ وہ خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر دور دراز منڈیوں کے لیے سمندری راستوں کا زیادہ استعمال کریں۔ اگرچہ بحری راستے لاگت اور وقت کے لحاظ سے نسبتاً مہنگے ہیں، تاہم حکام کے مطابق اس حکمت عملی نے غیر یقینی حالات کے باوجود پاکستانی کینو کی برآمدات کو مکمل طور پر رکنے سے بچائے رکھا۔
تاہم اس تمام صورتحال میں ایک نمایاں خلا یہ رہا کہ کینو کے کاشتکاروں کو براہِ راست کسی قسم کی امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔ نہ تو قیمتوں کے استحکام کے لیے کوئی سپورٹ میکانزم متعارف کرایا گیا، نہ نقصان کے ازالے کے لیے معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی کھاد، بیج یا دیگر زرعی ان پٹس پر سبسڈی فراہم کی گئی۔
حکام کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زراعت اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ایک صوبائی معاملہ ہے، جبکہ وفاقی وزارت تجارت کا کردار صرف برآمدات کی سہولت کاری تک محدود ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ براہِ راست کاشتکاروں کو برداشت کرنا پڑا۔ افغانستان کے ساتھ زمینی راستہ بند ہوتے ہی سب سے پہلے اثر فارم گیٹ قیمتوں پر پڑا، جہاں کینو کی قیمتیں نمایاں طور پر گر گئیں، مال کی ترسیل رک گئی اور ذخیرہ و نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے چلے گئے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ایسے میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی کوئی مؤثر امدادی پیکج سامنے نہیں آیا، جس نے ان کے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا۔

دوسری جانب کینو کے برآمد کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر اور تجارتی سرگرمیاں بحال کی جائیں تاکہ آنے والے سیزن میں برآمد کو نئی بلندیوں تک لے جاتے ہوئے رواں سیزن کا خسارہ پورا کیا جا سکے۔
تجارتی ماہرین اور حکام کے مطابق اگرچہ افغانستان کی منڈی کے اچانک نقصان نے پاکستان کی باغبانی برآمدات کی ساختی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے، تاہم رواں سیزن میں متبادل اور نسبتاً زیادہ قدر رکھنے والی منڈیوں کی جانب پیش رفت نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ درست پالیسی، سفارتی روابط، عالمی معیار کے مطابق سینیٹری تقاضوں کی تکمیل اور بہتر کولڈ چین و لاجسٹکس نظام کے ذریعے پاکستانی کینو کی برآمدات کو نہ صرف استحکام بلکہ وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔












