Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش: انتخابی نتائج میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد جماعت اسلامی نے شکست تسلیم کرلی

بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی پارٹی جماعت اسلامی نے سنیچر کو اعلان کیا کہ وہ انتخابات کے ’مجموعی نتائج‘ کو قبول کرتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جماعت اسلامی نے ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔
جمعرات 12 فروری کو ہونے والے یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے، جن میں الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
جماعت اسلامی کے 67 برس کے امیر شفیق الرحمان نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن سے اپنی انتخابی شکایات کا ’ازالہ‘ کرنے کے لیے کہیں گے۔ ان کی پارٹی نے الیکشن میں ’بے ضابطگیوں‘ کا الزام عائد کیا تھا، تاہم جمعے کو انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’کسی بھی حقیقی جمہوری سفر میں قیادت کا اصل امتحان صرف انتخابی مہم نہیں بلکہ عوام کے فیصلے کو قبول کرنے میں ہوتا ہے۔ ہم مجموعی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔‘
شفیق الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ہم ایک بااصول، پُرامن اور باخبر اپوزیشن کے طور پر حکومت کا احتساب کریں گے۔ اصولی اور پُرامن سیاست سے ہماری وابستگی غیرمتزلزل ہے۔”
اُدھر بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے رہنما محمد یونس نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر مبارک باد دی ہے۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد نے انتخابات میں 212 نشستیں جیتی ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد نے 77 نشستیں حاصل کیں۔
دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سرنراہ طارق رحمان ملک کے آئندہ وزیراعظم ہوں گے۔

شیئر: