Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں تہرا قتل: دولت کی بارش، زہر آلود لڈو، کولڈ ڈرنکس اور موت کا جال

تحقیقات سے پتہ چلا کہ تینوں متاثرین ایک تانترک کے ساتھ رابطے میں تھے (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)
آٹھ فروری کی صبح دہلی پولیس کو پشچم وہار (ایسٹ) میں ایک کال موصول ہوئی۔ انہیں بتایا گیا کہ فلائی اوور پر ایک کار کھڑی ہے جس میں تین افراد بے ہوش پڑے ہیں۔
پولیس اس جگہ پہنچی تو انہوں نے ڈرائیور کی سیٹ پر ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا جبکہ اس کے ساتھ ایک اُدھیڑ عمر شخص پڑا تھا اور پیچھے کی سیٹ پر ایک خاتون تھی۔
تینوں کو کار سے باہر نکالا گيا اور انہیں فوری طور پر سنجے گاندھی میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مُردہ قرار دیا۔
تین دن کے بعد دہلی پولیس نے اس سنسنی خیز قتل کے کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا۔ پولیس کے مطابق ان تینوں کو مبینہ طور پر مالی فائدے کے لیے ایک سازش کے تحت زہر دیا گیا تھا۔
اس معاملے میں ایک خود ساختہ تانترک (جادو ٹونا کرنے والے عامل) کی شناخت قمرالدین عرف ’بابا‘ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس ’تانترک‘ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ دہلی کے نواحی علاقے لونی اور اُترپردیش کے شہر فیروزآباد میں نام نہاد تانترک سینٹر چلا رہا تھا۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق پولیس کو تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ اس نے متاثرین (76 سالہ رندھیر، 47 سالہ نریش سنگھ اور 40 سالہ لکشمی دیوی) کو تانترک رسومات کے ذریعے ’دھن ورشا‘ یعنی دولت کی بارش کا لالچ دیا، آہستہ آہستہ ان کا اعتماد حاصل کیا اور ذہنی طور پر ان پر اثرانداز ہوا۔ اس نے مبینہ طور پر ان کو مارنے کے لیے لڈو میں زہر ملایا اور پھر ان سے نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گيا۔
گاڑی کی جانچ کے دوران پولیس نے شراب کی بوتلیں، کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں، خالی شیشے، موبائل فون، نقدی، ہیلمٹ، جیکٹس، آدھار کارڈ، اور دیگر ذاتی سامان اور دستاویزات برآمد کیے۔
معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے، پولیس نے تفصیلی تکنیکی تجزیہ کیا، سی سی فوٹیج دیکھی اور تمام مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی۔

پولیس کے مطابق متاثرین نے واقعہ سے ایک دن قبل لونی، غازی آباد کا دورہ کیا تھا (فائل فوٹو: سکرین گریب)

تحقیقات سے پتا چلا کہ تینوں متاثرین ایک تانترک کے ساتھ رابطے میں تھے جس نے انہیں رسومات کے ذریعے مالی فائدہ دلانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
پولیس کے مطابق تکنیکی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ متاثرین نے واقعہ سے ایک دن قبل لونی، غازی آباد کا دورہ کیا تھا اور اپنی موت کے دن وہ دوبارہ قمرالدین کے ساتھ رابطے میں آئے تھے۔
مزید تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ واپسی کے سفر کے دوران گاڑی میں ایک اضافی شخص موجود تھا۔ اس شخص کی شناخت قمرالدین کے طور پر کی گئی ہے جو مبینہ طور پر لونی میں گاڑی میں سوار ہوا اور بعد میں کہیں راستے میں اُتر گیا۔
قمرالدین کو گرفتار کیا گیا لیکن اس نے ابتدائی طور پر تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، مسلسل پوچھ گچھ کے دوران، اس نے انکشاف کیا کہ تقریباً دو ماہ قبل لکشمی کا تعارف سلیم نامی ایک جاننے والے کے ذریعے ان سے ہوا تھا۔ بعد میں لکشمی نے شیو نریش اور رندھیر کو ان سے ملوایا۔
اس نے مبینہ طور پر متاثرین کو 'دھن ورشا' کے لیے ’پوجا پاٹ‘ کرنے پر راضی کیا اور ان سے شراب اور کولڈ ڈرنکس کے ساتھ دو لاکھ روپے نقد لانے کو کہا۔
اس کے مطابق اس نے زہر ملا کر لڈو تیار کیے اور متاثرین کے ساتھ ان کی گاڑی میں گئے۔ سفر کے دوران، اس نے انہیں شراب، کولڈ ڈرنکس اور زہر آلود لڈو پینے کی ترغیب دی۔ جب وہ بے ہوش ہو گئے تو وہ مبینہ طور پر نقدی لے کر گاڑی سے فرار ہو گیا۔

دہلی پولیس نے کہا کہ وہ اتر پردیش اور راجستھان میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پولیس نے کہا کہ تکنیکی اور حالات سے متعلق شواہد متعلقہ وقت پر گاڑی میں ملزم کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔
پولیس نے ملزم کو ایک عادی مجرم کے طور پر بیان کیا ہے اور پولیس کے مطابق وہ اسی طرح کے سنگین مجرمانہ معاملات میں ملوث رہا ہے۔ اس سے قبل طرح کا ایک واقعہ راجستھان ریاست کے دھول پور اور دوسرا اترپردیش کے فیروز آباد میں پیش آیا تھا۔
فیروز آباد میں متاثرین نے مبینہ طور پر قمر الدین کی طرف سے دیے گئے زہریلے لڈو کھانے سے دو اموات کی اطلاع ملی۔ دونوں مقدمات میں قتل کی دفعات درج کی گئیں۔ اس کے خلاف دھول پور میں ایک الگ قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا، جس میں اسی طرز سے منسلک ایک اور موت شامل تھی۔
تمام چھ معاملات فی الحال زیر تفتیش ہیں۔
دہلی پولیس نے کہا کہ وہ اتر پردیش اور راجستھان میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ مبینہ جرائم کی کڑیوں کو ملایا جا سکے اور اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا مزید متاثرین تو ملزمان سے منسلک  نہیں تھے۔
فیروز آباد سے ایک تفصیلی شکایت اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح قمر الدین نے مبینہ طور پر متاثرین کو نشانہ بنایا۔ گذشتہ سال مئی میں رام لکھن نے ایک درخواست دائر کی جس میں الزام لگایا گیا کہ ان کے رشتہ دار کا بیٹا کچھ عرصے سے قمر الدین کے ساتھ رابطے میں تھا۔
شکایت کے مطابق قمرالدین (بابا) نے تنتر منتر کے ذریعے ذاتی مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا۔

جائے وقوعہ سے شیشے، لڈو اور تانترک رسم سے متعلق دیگر اشیاء برآمد ہوئی ہیں (فوٹو: پیکسلز)

آٹھ مئی 2025 کو وہ مبینہ طور پر نوجوان کو اس کے گھر لے گیا، اور اسے یقین دلایا کہ تانترک طریقوں سے اس کی مشکلات حل ہو جائیں گی۔
اگلے دن نوجوان کی لاش ملی۔ جائے وقوعہ سے شیشے، لڈو اور تانترک رسم سے متعلق دیگر اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے تفتیش اور پوسٹ مارٹم کیا لیکن قاتل کا سراغ نہ مل سکا۔
شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ قمر الدین نے تانترک رسومات ادا کرنے کے بہانے زہر پلایا اور متاثرہ کو خودکشی پر اکسایا۔

 

شیئر: