Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یونیورسٹی میں ذات پات‘ پر بحث، انڈیا میں مورخ عرفان حبیب پر پانی سے بھری بالٹی پھینک دی گئی

تقریب کا آغاز ’سماج اور یونیورسٹی میں ذات پات‘ کے موضوع پر ایک سیشن سے ہوا (فوٹو: سکرول)
انڈیا کی دہلی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں ایک لٹریچر فیسٹیول کے دوران مورخ اور پروفیسر ایس عرفان حبیب پر اُس وقت ایک پانی سے بھری بالٹی پھینکی گئی جب وہ خطاب کر رہے تھے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ پروگرام بائیں بازو سے منسلک آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے منعقد کیا تھا۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق عرفان حبیب آرٹس فیکلٹی کے گیٹ نمبر 4 کے قریب خطاب کر رہے تھے کہ ان کی تقریر شروع ہونے کے تقریباً 20 منٹ بعد دیوار کے پیچھے سے ان پر پانی سے بھری ایک بالٹی پھینکی گئی۔
بالٹی براہِ راست ان سے نہیں ٹکرائی، لیکن پانی ان پر گر گیا۔ انہوں نے چند لمحوں کے لیے توقف کیا اور پھر چند منٹ مزید اپنی تقریر جاری رکھی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔
ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے حبیب نے کہا کہ ’میں تاریخ اور اس کی دوبارہ تحریر کیے جانے کے بارے میں بات کر رہا تھا کہ اچانک کہیں سے پانی سے بھری بالٹی آگئی۔‘
پروفیسر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اگرچہ بالٹی میں پانی تھا، لیکن اس میں ’کچھ بھی ہوسکتا تھا، حتیٰ کہ پتھر بھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر کسی کو میری بات سے اتفاق نہیں ہے تو وہ اس پر مکالمہ یا گفتگو کر سکتا ہے۔ یہ یقینی طور پر درست طریقہ نہیں ہے۔‘
تقریب کا آغاز ’سماج اور یونیورسٹی میں ذات پات‘ کے موضوع پر ایک سیشن سے ہوا جس سے عرفان حبیب نے خطاب کیا۔ آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق، انہوں نے ’تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوششوں اور اعلیٰ تعلیم کے اندر ذات پات پر ہونے والی بحثوں کو روکنے‘ کے موضوع پر بات کی۔
آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ان کی تقریر کے دوران ’سٹیج پر حملہ‘ کیا اور ’تشدد آمیز اور دھمکی آمیز نعرے‘ لگائے۔
اے بی وی پی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پیرنٹ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا طلبہ ونگ ہے۔

 

شیئر: