امریکہ میں انڈین شہری نے خالصتانی رہنما گُرپت وانت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش قبول کرلی
امریکہ میں انڈین شہری نے خالصتانی رہنما گُرپت وانت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش قبول کرلی
ہفتہ 14 فروری 2026 6:16
امریکی تحقیقات کے مطابق 2023 میں گپتا کی بھرتی وکاش یادَو نامی شخص نے کی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ میں ایک انڈین شہری نے خالصتانی رہنما اور امریکی شہری گُرپت وانت سنگھ پنّوں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں عدالت کے سامنے جرم قبول کر لیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ مقدمہ حالیہ برسوں میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان سفارتی سطح پر زیر بحث رہنے والے انتہائی حساس معاملات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 54 سالہ نکھل گپتا نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں ’قتل کی سازش‘، ’کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی‘ اور ’رقوم کی غیرقانونی منتقلی کی سازش‘ جیسے سنگین جرائم کا اعتراف کیا۔ گپتا کو 29 مئی 2026 کو سزا سنائی جائے گی، اور انہیں زیادہ سے زیادہ 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم حتمی سزا عدالت طے کرے گی۔
استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا نے مبینہ طور پر ایک انڈین سرکاری اہلکار کی ہدایت پر امریکہ میں مقیم ایسے وکیل اور سیاسی کارکن کو قتل کرانے کی منصوبہ بندی کی جو انڈیا میں ’الگ خالصتان ریاست‘ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
امریکی تحقیقات کے مطابق 2023 میں گپتا کی بھرتی وکاش یادَو نامی شخص نے کی، جسے انڈیا کی کابینہ سیکریٹریٹ اور بالواسطہ طور پر خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک اہلکار کے طور پر بیان کیا گیا۔ گپتا پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو ’ہٹ مین‘ سمجھ کر رابطہ کیا جو دراصل امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مخبر تھا۔
حکام کے مطابق گپتا نے قتل کے بدلے ایک لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا، جن میں سے 15 ہزار ڈالر بطور پیشگی رقم بھی فراہم کیے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ گپتا نے پنّوں کی ذاتی معلومات، گھر کا پتا، فون نمبرز اور روزمرہ معمولات تک کی تفصیلات مخبر کو فراہم کیں۔ یہ منصوبہ آخرکار ڈی ای اے اور ایف بی آئی کی مشترکہ کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔
سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجّر کی ہلاکت کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر کہا کہ ’اب انتظار کی ضرورت نہیں۔‘ (فوٹو: دی ہندو)
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گپتا نے ایک خفیہ اہلکار کو کہا تھا کہ قتل کا وقت انڈیا کے وزیراعظم کے امریکہ کے سرکاری دورے کے ساتھ نہ ٹکرائے۔ بعد ازاں جون 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجّر کی ہلاکت کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر کہا کہ ’اب انتظار کی ضرورت نہیں۔‘
گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کیا گیا اور 2024 میں امریکہ منتقل کیا گیا۔
انڈیا نے گزشتہ برس نومبر میں اس مقدمے میں امریکی الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔ گپتا کے اعترافِ جرم پر انڈیا کے باضابطہ ردِعمل کا انتظار ہے۔