Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانوی پاسپورٹ کے بغیر 25 فروری کے بعد دوہری شہریت رکھنے والوں کا داخلہ نہیں ہوگا: ہوم آفس

مختصر دورانیے کے مسافروں کے لیے الیکٹرونک ٹریول اتھارائزیشن ضروری ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے ہوم آفس نے دوہری شہریت رکھنے والے تمام برطانوی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ 25 فروری 2026 کے بعد وہ صرف اسی صورت میں برطانیہ میں داخل ہو سکیں گے جب ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہوگا، بصورتِ دیگر انہیں پرواز، فیری یا ٹرین پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیرونِ ملک مقیم یا سفر کرنے والے متعدد برطانوی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اچانک نافذ کیے جانے والے اس فیصلے کے باعث وہ برطانیہ میں داخل نہ ہو سکنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
نئے بارڈر کنٹرول قوانین کے مطابق 25 فروری کے بعد برطانیہ آنے والے ہر فرد کے لیے ’سفری اجازت‘ حاصل کرنا ضروری ہوگا، سوائے ان افراد کے جو برطانوی یا آئرش شہری ہوں یا جنہیں اس قانون سے استثنیٰ حاصل ہو۔ مختصر دورانیے کے مسافروں کے لیے الیکٹرونک ٹریول اتھارائزیشن ضروری ہوگی، جس کی فیس 16 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے۔
تاہم اب برطانوی دوہری شہریت رکھنے والوں پر پہلی بار لازم ہوگا کہ وہ سفر کے لیے اپنا برطانوی پاسپورٹ دکھائیں، ورنہ انہیں اپنے دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرنے کے لیے589 پاؤنڈ کی قیمت کا ’سرٹیفکیٹ آف انٹائٹلمنٹ‘ حاصل کرنا ہوگا، جسے بہت سے افراد ’غیر منصفانہ‘ اور ’بھاری جرمانہ‘ قرار دے رہے ہیں۔
جرمنی میں مقیم ایک برطانوی خاتون نے بتایا کہ ان کے بچوں، خصوصاً بیٹے کے لیے، جو چار ہفتوں بعد برطانیہ جانے والا ہے، یہ صورتحال پریشانی کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم وقت میں اطلاع دینا اور قواعد تبدیل کرنا ’انتہائی غیر سنجیدہ فیصلہ‘ ہے، بالخصوص اُن خاندانوں کے لیے جن کے لیے دو پاسپورٹ بنوانا ایک مہنگا عمل ہے۔
اسی طرح ایک برطانوی خاتون جو 30 سال سے سپین میں مقیم ہیں، نے بریگزٹ کے بعد ہسپانوی شہریت اختیار کر لی تھی۔ اب نئے قوانین کے تحت اگر وہ اپنا برطانوی پاسپورٹ دکھائیں گی تو ہسپانوی قوانین کے مطابق ان کی موجودہ شہریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ہوم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی پالیسی ’ڈیجیٹل بارڈر سسٹم‘ کا حصہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایک اور برطانوی اٹالین شہری، جو لندن میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ اٹالین پاسپورٹ پر سفر کرتے رہے، نے بتایا کہ وہ ایک کاروباری دورے کے بعد 25 فروری کے بعد برطانیہ واپس نہیں آ سکیں گے کیونکہ ان کے پاس نہ برطانوی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی ای ٹی اے کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔
ہوم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی پالیسی ’ڈیجیٹل بارڈر سسٹم‘ کا حصہ ہے، جس سے ’محفوظ‘ اور ’آسان‘ سفری نظام قائم ہوگا۔
یورپی شہریوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’دی تھری ملین‘ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگے سرٹیفکیٹ کی جگہ کم قیمت کا متبادل نظام متعارف کرایا جائے تاکہ برطانوی شہریوں کو اپنے ہی ملک سے خارج نہ کیا جائے۔

 

شیئر: