سابق حکمرانوں کا احتساب، نوجوانوں کے مطالبات اور معاشی اصلاحات، بنگلہ دیش کی نئی حکومت کا مستقبل کیسی ہوگی؟
سابق حکمرانوں کا احتساب، نوجوانوں کے مطالبات اور معاشی اصلاحات، بنگلہ دیش کی نئی حکومت کا مستقبل کیسی ہوگی؟
جمعہ 13 فروری 2026 18:44
بی این پی نے 299 میں سے کم از کم 209 نشستیں جیت لی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے کامیابی حاصل کرلی ہے، اور اب ملک کی اگلی حکومت تشکیل دینے جا رہی ہے۔
تازہ ترین سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے 299 میں سے کم از کم 209 نشستیں جیت لی ہیں، جو دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ ہے۔ اس بھاری مینڈیٹ کے بعد یہ تقریباً طے ہوچکا ہے کہ طارق رحمان بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم ہوں گے۔
جماعتِ اسلامی کی واپسی
شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور میں پابندی کا شکار رہنے والی جماعتِ اسلامی نے بھی حیران کن سیاسی واپسی کی ہے۔ جماعت نے کم از کم 68 نشستیں اپنے نام کر کے نہ صرف پارلیمنٹ میں بڑا حصہ لیا ہے بلکہ اپوزیشن کی سب سے مضبوط جماعت کے طور پر بھی ابھری ہے۔
طلبہ تحریک سے وجود میں آنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی چھ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے ہی روک دیا گیا تھا۔
’جولائی نیشنل چارٹر‘ کی منظوری
انتخابات کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ایک عوامی ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں زیادہ تر شہریوں نے ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ وہی ماہِ جولائی ہے جس میں حسینہ حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تھا۔
چارٹر کے مقاصد میں وزیراعظم کے لیے مدت کی حد، صدارتی اختیارات میں اضافہ، عدلیہ کی زیادہ خودمختاری اور خواتین کی پارلیمانی نمائندگی میں اضافہ شامل ہے۔ بی این پی نے اپنے انتخابی منشور میں اس چارٹر کو نافذ کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
ڈھاکا کی نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اے ایس ایم امان اللہ کے مطابق ’طارق رحمان نہایت محتاط اور تربیت یافتہ سیاستدان ہیں۔ وہ حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں اور خود کو ملکی و عالمی کردار کے لیے تیار کرچکے ہیں۔‘
طارق رحمان نے وعدہ کیا کہ نئی حکومت سابقہ حکمرانوں کے احتساب، نوجوانوں کے سیاسی مطالبات، اور معاشی اصلاحات کو ترجیح دے گی (فوٹو: اے ایف پی)
طارق رحمان کی واپسی
طارق رحمان، سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے صاحبزادے ہیں۔ وہ تقریباً بیس برس کے خود ساختہ برطانیہ میں قیام کے بعد گزشتہ برس بنگلہ دیش واپس آئے۔ ان کی والدہ کے انتقال کے کچھ دن بعد بی این پی کی قیادت ان کے سپرد ہوئی۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے وعدہ کیا کہ نئی حکومت سابقہ حکمرانوں کے احتساب، نوجوانوں کے سیاسی مطالبات، اور معاشی اصلاحات کو ترجیح دے گی۔
نئی پارلیمنٹ: نوجوان اور تجربہ کار رہنماؤں کا امتزاج
پروفیسر امان اللہ کا کہنا ہے کہ نئی حکومت نوجوان و سینیئر رہنماؤں کا مرکب ہوگی، جبکہ جماعتِ اسلامی پارلیمانی نظام میں توازن قائم رکھنے والی اہم اپوزیشن جماعت کے طور پر سامنے آئے گی۔
سیاسی تجزیہ نگار محی الدین احمد نے جماعت اسلامی کو ملک کی ’سب سے زیادہ منظم‘ جماعت قرار دیا، جو ایک مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔
محی الدین اقبال نے کہا کہ ’ایسا نتیجہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ جشن کا ماحول ابھی تک برقرار ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ووٹنگ کا جوش اور عوام کی امیدیں
الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار ٹرن آؤٹ59.44 فیصد رہا اور بہت سے شہریوں کے نزدیک یہ گزشتہ 17 برسوں میں پہلی ’آزاد اور شفاف‘ انتخابی مشق تھی۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے ایک طالب علم محی الدین اقبال نے کہا کہ ’ایسا نتیجہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ جشن کا ماحول ابھی تک برقرار ہے اور ہم مستقبل کے لیے پرامید ہیں۔‘