Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کا مصنوعی ذہانت کا دیوہیکل ’ڈیٹا سٹی‘ بنانے کا منصوبہ، ’ڈیجیٹل ترقی کا نیا مرکز ہوگا‘

یہی ساحلی شہر انڈیا اور سنگاپور کو ملانے والی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلوں کا مرکزی مقام بننے والا ہے (فوٹو: انڈیا آؤٹ لُک)
جیسے جیسے انڈیا، امریکہ اور چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دوڑ میں اپنا فاصلہ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسی رفتار سے ملک ایک انتہائی بڑے اور جدید ’ڈیٹا سٹی‘ کی منصوبہ بندی بھی کررہا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس منصوبے کی قیادت کرنے والے نارا لوکیش کے مطابق یہ شہر انڈیا کی ڈیجیٹل ترقی کا نیا مرکز بنے گا۔
آندھرا پردیش کے وزیرِ اطلاعات و ٹیکنالوجی، نارا لوکیش نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اے آئی کا انقلاب آچکا ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔ ہم بطور قوم فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کو پوری طرح اپنانا ہے۔‘
ان کے مطابق وِشاکھا پٹنم کو انڈیا کے بڑے اے آئی مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے اب تک 760 منصوبوں کے ساتھ 175 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ ان میں گوگل کی جانب سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو امریکہ کے باہر اس کا سب سے بڑا اے آئی انفراسٹرکچر ہب ہوگا۔ اسی شہر میں ریلائنس انڈسٹریز، بروک فیلڈ (کینیڈا) اور ڈیجیٹل ریئلٹی (امریکہ) کا 11 ارب ڈالر کا مشترکہ ڈیٹا سینٹر بھی بنایا جارہا ہے۔
وِشاکھا پٹنم کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے، اور یہ عام طور پر کرکٹ اسٹیڈیم کی وجہ سے زیادہ مشہور ہے۔ مگر اب یہی ساحلی شہر انڈیا اور سنگاپور کو ملانے والی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلوں کا مرکزی مقام بننے والا ہے۔ لوکیش کے مطابق ڈیٹا سٹی تقریباً 100 کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل مربوط نظام کی شکل میں ابھرے گا۔
وزیر نے بتایا کہ منصوبہ صرف ڈیٹا کنیکٹیویٹی تک محدود نہیں بلکہ آندھرا پردیش نے 2025 میں انڈیا کی مجموعی بیرونی سرمایہ کاری کا تقریباً 25 فیصد حصہ حاصل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم صرف ڈیٹا سینٹر نہیں بنا رہے، بلکہ ان کمپنیوں کو بھی لا رہے ہیں جو سرورز، کولنگ سسٹمز اور دیگر مکمل سپورٹ انفراسٹرکچر تیار کرتی ہیں۔‘

لوکیش کے مطابق ریاست چین سے سبق سیکھتے ہوئے صنعتی کلسٹر بنا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انڈیا عالمی اے آئی طاقتوں کی فہرست میں اس وقت تیسرے نمبر پر ہے اور ایک ارب سے زائد انٹرنیٹ صارفین کی وجہ سے سرمایہ کاری میں تیزی آ رہی ہے۔ اگرچہ تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ انڈیا اے آئی کی جدت میں ابھی پیچھے ہے، مگر لوکیش کا دعویٰ ہے کہ ہر صنعتی انقلاب نے نوکریوں میں اضافہ ہی کیا ہے اور وہی ممالک آگے بڑھے جنہوں نے وقت پر اسے قبول کیا۔
لوکیش کے مطابق ریاست چین سے سبق سیکھتے ہوئے صنعتی کلسٹر بنا رہی ہے، اور آئندہ برسوں میں 6 گیگاواٹ ڈیٹا سینٹر صلاحیت کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسے سفر پر ہیں جس کی رفتار انڈیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔‘

 

شیئر: