’امریکی ایٹمی چھتری کا کوئی متبادل نہیں‘، یورپ میں نئی بحث پر نیٹو چیف کا موقف
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے یورپ میں امریکہ پر انحصار کم یا ختم کرنے کے لیے جاری نئی بحث سے متعلق کہا ہے کہ ’امریکہ کی ایٹمی ضمانت کا کوئی دوسرا نعم البدل موجود نہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس کے دوران یورپی ممالک کے اپنے دفاع اور ایٹمی صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے دوران یہ بات کہی ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے سنیچر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان خدشات اور بحث کو مسترد کر دیا کہ یورپ امریکہ پر انحصار ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی اور فرانس کے درمیان ایٹمی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
’امریکی ضمانت ناگزیر ہے‘
مارک روٹے نے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرا خیال ہے کہ یورپ میں ایسی ہر بحث جو مجموعی طور پر ایٹمی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہو، وہ تو ٹھیک ہے لیکن یورپ میں کوئی بھی اس بات پر بحث نہیں کر رہا کہ اسے امریکہ کی ایٹمی چھتری کے متبادل کے طور پر دیکھا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہر کوئی اس بات کو سمجھتا ہے کہ امریکی ایٹمی چھتری ہی حتمی ضمانت ہے اور باقی تمام بحثیں اس کے علاوہ اضافی اقدامات کی حد تک ہیں۔‘
جرمنی اور برطانیہ کا موقف
یورپ میں دفاعی خود انحصاری کی یہ بحث جرمن چانسلر فریڈرک میرز کے اس انکشاف کے بعد تیز ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کے ساتھ ’یورپی ایٹمی دفاع‘ کے حوالے سے خفیہ بات چیت کی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ ان کا ملک فرانس کے ساتھ ’ایٹمی تعاون کو مزید بہتر‘ بنا رہا ہے۔
یاد رہے کہ یورپ میں فرانس اور برطانیہ ہی وہ دو طاقتیں ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
یورپ میں ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے اور دفاعی تعاون پر یہ نئی بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سکیورٹی وعدوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے یورپی اتحادیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روایتی دفاع کی ذمہ داری خود سنبھالیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی ایٹمی چھتری فراہم کرنا جاری رکھے گا۔
