Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش: ’چیلنجز بڑے ہیں‘، انتخابی جیت کے بعد طارق رحمان کا اپنی ترجیحات کا اعلان

بنگلہ دیش کے متوقع وزیرِاعظم طارق رحمان نے دو دہائیوں بعد اپنی جماعت کی اقتدار میں واپسی پر معیشت کی بحالی، امن و امان کے قیام اور گڈ گورننس کو اپنی اولین ترجیحات قرار دے دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اپنی جماعت بنگلہ دیش نشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد سنیچر کو اپنے پہلے عوامی بیان میں طارق رحمان نے ملک کو درپیش مسائل کا اعتراف کیا۔
ایک میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ’ہمیں انتہائی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ہمیں ملک کی معیشت کو سنبھالنا ہے اور اچھی طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ جیت بنگلہ دیش کی ہے، یہ جیت جمہوریت کی ہے، یہ ان لوگوں کی جیت ہے جو جمہوریت کی تمنا رکھتے ہیں اور جنہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘
معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر طارق رحمان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔
اس موقعے پر انہوں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اہم اشارہ دیتے ہوئے چین کو ایک ’ترقیاتی دوست‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں مل کر کام کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات طارق رحمان کی نئی حکومت کے لیے ناگزیر ہوں گے۔
واضح رہے کہ جمعے کو سامنے آنے والے انتخابی نتائج کے مطابق بی این پی نے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
یہ کامیابی سنہ 2024 میں ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والی اس عوامی تحریک کے بعد سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے جانا پڑا تھا۔
نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس نتیجے کو بنگلہ دیش کی تاریخ میں جمہوری منتقلی کا ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا ہے۔

ساٹھ سالہ طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے بیٹے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

بین الاقوامی مبصرین بشمول امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ نے انتخابات کے پرامن انعقاد کی تعریف کی ہے تاہم متنبہ کیا ہے کہ سیاسی ماحول اب بھی نازک ہے اور نئی حکومت کو حاصل ہونے والے جمہوری ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اصلاحات کرنا ہوں گی۔
انتخابات کے ساتھ ساتھ ہونے والے آئینی ریفرنڈم میں بھی عوام نے بھرپور شرکت کی جس کے ذریعے اب بنگلہ دیش میں وزیرِاعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنے، عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے اور خواتین کی نمائندگی میں اضافے جیسی اہم ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔
ساٹھ سالہ طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے صاحبزادے ہیں۔
وہ لندن میں 17 برس کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے گزشتہ برس اپنی والدہ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل وطن واپس لوٹے تھے۔
اگرچہ ان کے سیاسی حریف ان پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جن کی وہ ہمیشہ تردید کرتے آئے ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی این پی کی بھاری اکثریت ملک میں مہینوں سے جاری سیاسی بے چینی کے بعد استحکام لانے کا ایک بڑا موقع ہے۔

 

شیئر: