Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کی اوباما کو ویڈیو میں بندر ظاہر کرنے کی ویڈیو: ’سیاست میں شرم ختم ہو گئی ہے‘

اوباما نے کہا کہ ’سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ایک طرح کی مسخروں والی سیاست چل رہی ہے۔‘ (فوٹو: زیریاش)
امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے ملک کی سیاسی گفتگو میں بڑھتی ہوئی بےتہذیبی اور اخلاقی پستی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وہ پہلی بار اس ویڈیو پر بولے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی اور جس میں انہیں اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کو بندر کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ ویڈیو 5 فروری کو ٹرمپ کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر شیئر کی گئی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں سیاسی حلقوں نے اس پر سخت ردِعمل دیا۔ ابتدا میں وائٹ ہاؤس نے اسے ’مصنوعی غصہ‘ قرار دیا، مگر بعد میں موقف بدلا کہ یہ پوسٹ ایک سٹاف ممبر کی غلطی تھی اور اسے ہٹا دیا گیا۔
ایک منٹ کے اس ویڈیو میں، جس میں 2020 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی شکست سے متعلق سازشی نظریات کو بڑھاوا دیا گیا تھا، آخر میں تقریباً ایک سیکنڈ کے لیے اوباما اور مشیل اوباما کے چہرے بندروں کے جسموں پر لگاکر دکھائے گئے تھے۔ یہ قابلِ اعتراض ویڈیو ملک بھر میں شدید تنقید کا باعث بنی۔
اوباما نے اس معاملے پر سنیچر کو پہلی بار بات کی، جب بائیں بازو کے پوڈکاسٹر برائن ٹائلر کوہین کے ساتھ ان کا انٹرویو جاری ہوا۔
کوہین نے پوچھا کہ ’سیاسی گفتگو اس حد تک سفاک ہو چکی ہے کہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ چند دن پہلے ٹرمپ نے آپ کی تصویر ایک بندر کے جسم پر لگا کر پوسٹ کی۔ ہمارا مکالمہ کہاں پہنچ گیا ہے؟ ہم واپس کیسے آئیں؟‘
اوباما نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر جواب دیا کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد اس رویے کو نہایت پریشان کن سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ایک طرح کی مسخروں والی سیاست چل رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کبھی منصب کا احترام اور تہذیب ضروری سمجھتے تھے، آج انہیں اس پر کوئی شرم نہیں رہی۔ یہ احساسِ ذمہ داری ختم ہو چکا ہے۔‘

ادھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ویڈیو کے انتخابات سے متعلق دعوؤں پر قائم ہیں (فوٹوـ اے ایف پی)

اوباما نے پیشگوئی کی کہ اس طرح کا رویہ ریپبلکن جماعت کے لیے وسط مدتی انتخابات میں نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق ’آخرکار فیصلہ امریکی عوام کے ہاتھ میں ہے۔‘
ادھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ویڈیو کے انتخابات سے متعلق دعوؤں پر قائم ہیں، مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ویڈیو کے آخر میں موجود توہین آمیز حصہ نہیں دیکھا تھا۔

 

شیئر: