Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ: آج کے ٹاکرے میں پاکستان کی انڈیا کے خلاف حکمت عملی کیا ہوگی؟، عامر خاکوانی کا تجزیہ

انڈیا پاکستان ہائی پروفائل اور ہائی نرو میچ ہوتا ہے۔ جس ٹیم نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا، دباو میں اچھا کھیلی ، وہ جیتے گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
آج پاکستان اور انڈیا ورلڈ کپ ٹی20 میں آمنے سامنے ہیں۔ ایک اور ہائی پروفائل میچ ہو گا۔ ٹی20 ورلڈ کپ ہسٹری پاکستان کے حق میں نہیں۔ آٹھ میں سے پاکستان نے ایک ہی میچ جیتا جس میں بابراعظم اور محمد رضوان نے ہنڈرڈ رنز پلس ناٹ آوٹ پارٹنرشپ بنا کر انڈین ٹیم کو آوٹ کلاس کر دیا تھا۔
باقی میچز پاکستان ہارا۔ پہلے  ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں مصباح الحق کا انڈین باولر سری سانتھ کے خلاف سکوپ شاٹ کون نہیں بھولا، جس نے پاکستان کو فائنل میں ہرا دیا۔ پھر آسٹریلیا میں کوہلی کی اننگ پاکستان کو لے ڈوبی تھی۔
  آج امید کرنی چاہیے مختلف دن ہوگا۔ انڈیا نے اب تک دو میچ کھیلے ہیں، دونوں انڈین گراونڈز پر، اپنا پہلا میچ وہ کولمبو، سری لنکا میں کھیلے گا۔ پاکستان دونوں میچز کولمبو میں کھیل چکا ہے، اگرچہ وہ گراونڈ مختلف تھا۔ یہ میچ جس سٹیڈیم میں ہو رہا ہے، اس کی باؤنڈری خاصی بڑی ہے ستر گز سے بھی زیادہ، پچ سلو اور ڈرائی رہنے کی توقع ہے، یعنی سپنرز کو مدد مل سکتی ہے۔
 پاکستان کا سپن اٹیک اس بار خاصا تگڑا ہے، دو مسٹری سپنرز ابرار اور عثمان طارق کھیل رہے ہیں، دونوں اچھی فارم میں اور خطرناک نظر آ رہے۔ شاداب خان کی بولنگ بھی اچھی جا رہی ہے، صائم ایوب بھی ایک آپشن ہیں۔ اگر آج محمد نواز کو کھلایا گیا تو اس کا مطلب ہے پانچ سپن آپشنز ہوں گی، اگر نواز کی جگہ ایک  ایکسٹرافاسٹ بولر کھلایا تب دو فاسٹ آپشنز ہوں گی۔ شاہین شاہ کی پچھلے میچ میں بولنگ خاص نہیں رہی، دیکھنا یہ ہے کہ اس میچ می اسے کھلاتے ہیں یا اس کی جگہ پر سلمان مرزا کو کھلاتے ہیں جس نے پہلے میچ میں تین وکٹیں لی تھیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاہین اور سلمان مرزا دونوں کھلائے جائیں، یا پھر نسیم شاہ اور سلمان۔ بیٹنگ میں تو معاملہ بڑی حد تک کلیئر ہے۔
  ممکنہ پاکستانی ٹیم یہ ہوسکتی ہے: صاحبزادہ فرحان ، صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابراعظم، عثمان خان، شاداب خان ، فہیم اشرف/محمد نواز ،ابراراحمد، عثمان طارق، شاہین شاہ /نسیم شاہ، سلمان مرزا۔
 انڈیا کے جارحانہ اوپنر ابھیشک شرما چند دن معدے کی تکلیف میں مبتلا ہو کر ہسپتال رہے، کہا گیا کہ ان کا دو کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ ممکن ہے ابھیشک کو ریسٹ دیا جائے، مگر کپتان نے اس کے فٹ ہو جانے کا کہا ہے، یعنی اسے کھلایا بھی جا سکتا ہے۔ ابھیشک کو کھلانے کا واحد مقصد پاکستان پاکستانی باولرز خاص کر شاہین پر پاور پلے میں اٹیک کرانا ہوگا۔ ابھیشک شرما بڑے خطرناک پاور ہٹر ہیں اور اگر وہ کھیلے تو انہیں جلد از جلد آوٹ کرنا ہوگا۔

کیا ابرار سوریہ کمار کی خطرناک سویپ رینج کو محدود کر پائیں گے؟ (فوٹو: اے ایف پی)

  دوسرے انڈین نوجوان اوپنر ایشان کشن اچھی فارم میں ہیں۔ پچھلے  میچ میں سنجو سمسن نے ساتھ اوپننگ کی تھی ، اگر ابھیشک نہ کھیلا تو پھر یہی اوپننگ کرے گا۔ تلک ورما پہلے نمبر چار پانچ پر آتا تھا، مگر پچھلے دونوں میچز میں اسے ون ڈاون کھلایا گیا۔ تلک ورما کو تھری سکسٹی پلیئر کہا جاتا ہے، یہ لیفٹ ہینڈڈ ہیں مگر سوئچ ہٹنگ کرنے کے ماہر ہیں یعنی گھوم کر دائیں ہاتھ سے ریورس سوئپ یا بڑے شاٹس کھیل دیتے ہیں۔ ایشیا کپ کے فائنل میں تلک ورما کی ففٹی پر مبنی اننگ پاکستان کی شکست کا باعث بنی تھی۔ سوریا کمار یادو کپتان ہیں، ون ڈاون کھیلتے ہیں، مگر ورلڈ کپ میں نمبر چار پر کھیل رہے ہیں، بہت اچھی فارم میں ہیں، پچھلے میچ میں نمیبیا کے خلاف بڑی دھواں دھار اننگ کھیلی۔ ہاردک پانڈیا نمبر پانچ پر کھیل رہے ہیں اور شیوم دوبے نمبر چھ پر۔  پچھلے میچ میں  رنکوسنگھ کو بھی کھلایا، یہ آئی پی ایل میں اپنے چھکوں کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے۔ انڈین بولنگ میں اس بار ارشدیپ نئی گیند سے بولنگ کرا رہے ہیں، پچھلےسال ایشیا کپ میں انہیں موقعہ نہیں ملا۔ بمرا، ارشدیپ، پانڈیا پر مشتمل پیس اٹیک ہے جبکہ ورن چکرورتی ان کا مسٹری سپنر ہے، اکثر پٹیل بھی سپنر جبکہ دوبے پارٹ ٹائم سلو میڈیم پیس بولنگ کرا رہا۔
پچھلےدونوں میچز میں جادوگرسپنر کلدیپ یادو کو نہیں کھلایا گیا۔ پاکستان کے خلاف کلدیپ کا ریکارڈ بہت اچھا ہے۔ کولمبو کی سپن پچ کی وجہ سے ایک ایکسٹرا سپنر کھلانا پڑے گا۔ پانڈیا نے پچھلے میچ میں نئی گیند سے بولنگ کی اور پورے چار اوورز کرائے۔ حیران کن طور پر بمراہ سے پاور پلے کے بعد گیند کرائی گئی حالانکہ وہ نئی گیند کے بہترین باولر ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟

صائم ایوب کی جانب سے انڈیا کے خلاف اچھی اننگ ڈیو ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

 پاکستان کے لیے اس میچ میں تین چار خاص چیزیں ہیں، وہ اگر ٹھیک رہیں تو میچ میں پلہ بھاری رہے گا۔ پاکستانی اوپنرز خاص کر صاحبزادہ فرحان جنہوں نے پچھلے ایک دو میچز میں انڈین فاسٹ بولرز کو اچھی ہارڈ ہٹنگ کی۔ سلمان آغا کپتان ون ڈاون کھیل رہے ہیں، مگر ابھی تک ورلڈ کپ میں وہ رنز نہیں کر پا رہے۔ سب سے اہم بابراعظم ہوں گے، جن پر دباو بھی ہے اور توقعات بھی۔ انڈیا جیسی ٹیم کے خلاف بابر کی اچھی اننگ اہم ہے۔ پاکستانی مڈل آرڈر سے خدشہ ہی رہتا ہے، اکثر فوری کولیپس ہوجاتی ہے۔ عثمان خان سے بھی اچھی اننگ ڈیو ہے۔ ان کی جگہ خواجہ نافع کو کھلانے کا مطالبہ بھی ہو رہا ہے، ویسے تو فخر زماں کو بھی ٹیم میں لانے کی بات ہو رہی ہے، مگر شاید اس میچ میں رسک نہ لیا جائے۔ پچھلا میچ شاداب خان کا بہت اچھا رہا تھا، اس نے اچھی جارحانہ اننگ کھیلی۔ فہیم اشرف نے پہلا میچ اپنے چھکوں کی وجہ سے جتوایا تھا، دیکھیں اس بار کیا کرتا ہے۔
  پاکستانی سپنرز توجہ کا مرکز ہوں گے، خاص کر عثمان طارق اور ابرار۔ عثمان کے منفرد ایکشن اور اس کی  مسٹری سپن کی وجہ سے انڈین ٹیم انہیں بڑی توجہ سے دیکھ رہی ہے، نیٹ میں عثمان طارق جیسے ایکشن والے بولرز سے پریکٹس بھی کی گئی ۔ عثمان کیرم گیند کراتے ہیں، دیکھیں انڈیا انہیں کس طرح کاؤنٹر کرتا ہے؟ نمبیبا کے خلاف میچ میں ان کے کپتان نے بھی عثمان طارق جیسے ملتے جلتے ایکشن اور سٹائل سے بولنگ کرائی اور انڈین ٹیم کو پریشان کیا۔ سلمان آغا عثمان طارق کو اپنا ٹرمپ کارڈ قرار دے چکے ہیں، میچ کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ انہوں نے کیا کرشمہ دکھایا۔
  ابرار اور شاداب بھی اہم ہوں گے، مگر سب سے اہم پاور پلے ہوگا۔ اگر شاہین کو کھلایا اور  اس نے پہلے دو اوورز میں زیادہ رنز دے دیے تو پاکستانی ٹیم دباؤ میں آ جائے گی۔ پاور پلے  میں اچھی ڈسپلنڈ بولنگ انڈین ٹیم پر دباو ڈال دے گی۔
  انڈیا پاکستان ہائی پروفائل اور ہائی نرو میچ ہوتا ہے۔ جس ٹیم نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا، دباو میں اچھا کھیلی ، وہ جیت گئی۔ اس وقت اس میچ کو ففٹی ففٹی کہا جا رہا ہے، پاکستانی قارئین چلو اسے ففٹی فائیو، فورٹی فائیو سمجھ لیں، پانچ فیصد پاکستان کو برتری دے کر۔

شیئر: