Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین نے برطانیہ اور کینیڈا کے لیے 17 فرری سے ویزہ فری انٹری کا فیصلہ

چین نے برطانیہ اور کینیڈا کے شہریوں اپنے ملک میں ویزہ فری داخلے کی اجازت دینے فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ نے تصدیق کی ہے کہ منگل (17 فروری)  سے برطانیہ اور کینیڈا کے شہری بغیر ویزہ چین جا سکیں گے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ اور کینیڈا واشنگٹن کے بدلتے مزاج کے باعث بیجنگ سے قربت بڑھا رہے ہیں۔
اس معاملے کی شروعات رواں برس جنوری میں ہوئی تھی جب برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بیجنگ کے اہم دورے کیے تھے۔
ان دوروں کا بنیادی مقصد چین کے ساتھ سرد مہری کو ختم کرنا اور تجارتی تعلقات کو نئی زندگی دینا تھا۔
مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کی ’غیر متوقع‘ خارجہ پالیسی نے برطانیہ اور کینیڈا جیسے قریبی اتحادیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ بیجنگ کی طرف دیکھیں اور حالیہ ویزہ چھوٹ اسی نئی حکمتِ عملی کا ایک بڑا ثمر ہے۔
پالیسی کیا ہے؟
چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سہولت فی الحال 31 دسمبر تک کے لیے دی گئی ہے۔
اس دوران برطانیہ اور کینیڈا کے شہری سیاحت، کاروبار یا اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے 30 دن تک چین میں قیام کر سکیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد ’عوامی سطح پر رابطوں کو مزید سہل بنانا‘ ہے تاکہ دونوں خطوں کے درمیان تبادلوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم ہوں۔
ایک نئی سفارتی صف بندی؟
صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں وزراء اعظم نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ویزہ فری رسائی سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے بھی چین کی منڈیوں تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔
چین کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وہ اپنی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے غیرملکی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

 

شیئر: