Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اظہارِ رائے کا تحفظ‘، امریکی جج نے فلسطینی طالب علم کو ملک بدر کرنے سے روک دیا

جج کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک بدری کو درست ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے امیگریشن جج نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی ان کوششوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں وہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو ملک بدر کرنا چاہتی تھی۔
کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محسن مہدوی کو پچھلے برس فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محسن مہدوی کے وکلا نے منگل کو امیگریشن جج کے فیصلے کی تفصیل نیویارک کی وفاقی عدالت کو دی، جو اس فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے جس کی وجہ سے اپریل میں ان کو امیگریشن کی حراست سے رہائی ملی تھی۔
یہ ایک تازہ کیس ہے جس میں امیگریشن جج نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان طلبا کو حراست میں لینے یا ڈی پورٹ کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے جنہوں نے فلسطین کے حق یا اسرائیل کی مخالفت میں کیمپس کی سطح پر سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
میساچوسٹس میں مقیم امیگریشن جج نینا فروئز نے 13 فروری کو فیصلے میں لکھا تھا کہ امریکہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ ان کو نکالا جانا درست اقدام ہے۔ محکمے نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایک غیر مستند دستاویز استعمال کی تھی جس پروزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط تھے۔
فیصلے کے بعد محسن مہدوی نے کہا کہ ’یہ فیصلہ اس حق کو برقرار رکھنے کی طرف اہم قدم ہے جس کو خوف نے تباہ کرنے کی کوشش کی اور وہ ہے بات کرنے کا حق۔‘
اس بارے میں موقف جاننے کے لیے کئی گئی درخواست کا جواب محکمہ خارجہ نے نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ جج کے فیصلے کو امریکی محکمہ انصاف کے حصے بورڈ آف امیگریشن اپیلز کے سامنے چیلنج کرنے کا اختیار ہے۔
محسن مہدوی کا تعلق فلسطین کے علاقے مغربی کنارے سے ہے جہاں وہ ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور اپریل 2025 میں امریکی شہریت کے لیے انٹرویو دینے کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ایک جج کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا گیا تھا کہ انہیں ڈی پورٹ نہ کیا جائے اور نہ ہی ریاست ورمونٹ سے باہر لے جایا جائے۔
دو ہفتے حراست میں رکھے جانے کے بعد امریکی ڈسٹرکٹ جج جیفری کرافورڈ نے ان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسی طرح ایک اور کیس میں 29 جنوری کو امیگریشن جج نے ٹفٹس یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی کی طالبہ رومیسا اوزترک کے خلاف انتظامیہ کی کارروائی کو بھی روک دیا تھا۔
ان کو ایک ایسے مضمون لکھنے کے بعد نشانہ بنایا گیا تھا جس میں غزہ جنگ کے حوالے سے سکول کے ردعمل پر تنقید کی گئی تھی۔
پچھلے مہینے بوسٹن میں ایک وفاقی جج نے فیصلہ سنایا تھا کہ انتظامیہ نے مہدوی اور رومیسا جیسے سکالرز کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کے حوالے سے غیرقانونی پالیسی اپنائی، جس پر یونیورسٹی میں زیرتعلیم غیرملکی طلبہ اور آزادی اظہار رائے کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب محکمہ انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا رہی ہے۔

شیئر: