Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اتوار کے اسرائیلی حملوں میں 12 افراد ہلاک ہوئے: غزہ سول ڈیفنس ایجنسی

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق فائر بندی کے آغاز سے اب تک 601 افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی حکام ان کارروائیوں کو فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا ردعمل قرار دے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے زیرِانتظام امدادی سرگرمیاں انجام دینے والی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ اتوار کی صبح ہونے والے حملوں میں شمالی غزہ میں بے گھر افراد کے ایک خیمے اور جنوبی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔
سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق شمالی جبالیہ میں ایک خیمے پر ہونے والے فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ جنوبی شہر خان یونس میں بھی صبح سویرے ہونے والی کارروائی میں پانچ افراد جان سے گئے۔
اس کے علاوہ غزہ سٹی اور بیت لاھیا میں گولہ باری اور فائرنگ سے دو مزید ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
الشفاء اور ناصر ہسپتالوں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں اب تک کم از کم سات لاشیں موصول ہو چکی ہیں۔
وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں
جبالیہ حملے میں اپنے بھتیجے کو کھونے والے اسامہ ابو عسکر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اپنے دکھ کا اظہار کچھ یوں کیا اسرائیل فائر بندی یا صلح کی زبان نہیں سمجھتا۔ یہ لوگ اس وقت مارے گئے جب وہ سو رہے تھے۔ ہم مہینوں سے فائر بندی کے سائے میں رہ رہے ہیں لیکن انہوں نے ہمیں پھر بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا اصول یہی ہے کہ کہنا کچھ اور کرنا کچھ۔
ناصر ہسپتال کے صحن میں سوگواروں کا تانتا بندھا ہوا ہے جہاں سفید کفن میں لپٹی لاشوں کے سامنے مرد و خواتین نمازِ جنازہ اور دعاؤں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب ایک اسرائیلی فوجی عہدے دار نے ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حماس کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب ہے۔ فوجی عہدے دار کے مطابق خلاف ورزی اس وقت دیکھی گئی جب کئی مسلح دہشت گردوں کو ییلو لائن (زرد لکیر) کے مشرق میں ملبے تلے چھپتے ہوئے پایا گیا جو ممکنہ طور پر زیرِزمین سرنگوں سے نکل کر اسرائیلی فوج کے قریب آئے تھے۔‘
’مسلح حالت میں ییلو لائن عبور کرنا فائر بندی کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حماس منظم طریقے سے معاہدے کو توڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل فائر بندی کے تحت اسرائیلی افواج ’ییلو لائن‘ کے پیچھے ہٹ گئی تھیں تاہم غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے پر اب بھی ان کا کنٹرول برقرار ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خیموں میں موجود بے گھر افراد کو نشانہ بنانا فائر بندی کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق فائر بندی کے آغاز سے اب تک 601 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اس کے کم از کم چار فوجی مارے گئے۔
ادھر طبی تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے ناصر ہسپتال میں اپنی غیر ضروری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کے عملے نے ہسپتال میں مسلح افراد اور اسلحے کی منتقلی دیکھی ہے۔ ایم ایس ایف نے اے ایف پی کو بتایا ہم نہیں جانتے کہ یہ مسلح افراد کون ہیں یا ان کا تعلق کس گروپ سے ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ادارے ’کوگیٹنے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ ایم ایس ایف اب تک خاموش کیوں تھی؟ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مارچ سے غزہ اور مغربی کنارے میں ایم ایس ایف کی تمام سرگرمیاں ختم کر دے گا کیونکہ تنظیم نے اپنے فلسطینی عملے کی فہرست فراہم نہیں کی۔ ایم ایس ایف کا موقف ہے کہ اسرائیل نے عملے کے تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرائی اس لیے فہرست نہیں دی گئی۔

شیئر: