Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کا گاؤں قلیب غنیم، ایک صدی پرانے ثقافتی ورثے کے آثار آج بھی نمایاں

قلیب غینم نامی گاؤں، حدودِ شمالیہ کے ریجن میں انسانوں کے یہاں بسنے کے ابتدائی زمانے کا تاریخی گواہ بن کر آج بھی موجود ہے۔ اس گاؤں کی پرانی عمارتیں اور کچھ نشانیاں آج سو سال گزرنے کے بعد بھی وہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق گاؤں میں کئی پرانے گھر ہیں جنھوں نے خاموشی کے ساتھ وقت کو گزرتے دیکھا ہے۔ یہی وہ علامتیں ہیں جو اس زمانے کے لوگوں کی روزانہ کی زندگی، ان کے رسم و رواج اور اُن کی بُود وباش کے انداز کی تصویر بن کر ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔
اس گاؤں کے خاص پہلوؤں میں ایک قدیم مسجد بھی ہے جہاں کبھی قرآنِ پاک حفظ کرایا جاتا تھا اور جس نے آنے والی نسلوں کے لیے علم کے ابتدائی گہوارے کا کام کیا۔ اسی مسجد میں عیدین کی نماز کا مقام بھی ہے جو مذہبی مواقع پر کمیونٹی کے افراد کے جمع ہونے کی جگہ بھی تھی اور اس رشتے کا اظہار بھی جو ان لوگوں کے مابین قائم تھا۔
گاؤں میں ورثے کے کچھ آثار اب بھی باقی ہیں جن میں سنہ 1966 کے ماڈل کی گاڑیاں بھی ہیں جو اس زمانے میں نقل و حمل کی تاریخ کے ایک اہم مرحلے کی علامت ہیں اور مختلف دہائیوں میں اس خطے میں آنے والی تبدیلیوں کو واضح کرتی ہیں۔
یہ سب قدیم علامتیں اور نشانیاں مل کر اس بات کی گواہ ہیں کہ قلیب غنیم نامی اس گاؤں کی ایک ثقافتی اور تاریخی اہمیت تھی۔ یہی نشانیاں آج اس مقام کو ان لوگوں کے لیے ایک اہم مقام کا درجہ دے رہی ہیں جو مقامی تاریخ میں دلچپسی رکھتے ہیں۔

انہی علامتوں کا ایک خاموش پیغام یہ ہے کہ علاقے کی اجتماعی یادداشت کے لیے اس گاؤں کو محفوظ کرنے اور دستاویزی بنانے کی ضرورت ہے۔

شیئر: