امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے: ایرانی وزیر خارجہ
امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے: ایرانی وزیر خارجہ
منگل 17 فروری 2026 20:34
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں ہو رہے ہیں (فوٹو: اے پی)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اور امریکہ مذاکرات میں مرکزی ’رہنما اصولوں‘ پر ایک مفاہمت تک پہنچے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی معاہدہ قریب ہے۔
جنیوا میں جاری ان مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان ایران کے دیرینہ جوہری تنازع حل کرنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد بین الاقوامی تیل مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
مذاکرات کے آغاز سے مشرق وسطیٰ کے اس خطے میں تنازعات کے خدشات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے جہاں امریکہ نے تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنی جنگی فورس تعینات کر رکھی ہے۔
عباس عراقچی نے جنیوا میں مذاکرات کے سیشن کے اختتام پر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’مختلف آرا پیش کی گئیں، ان خیالات پر سنجیدگی سے تبادلہ خیال کیا گیا، بالآخر ہم کچھ رہنما اصولوں پر ایک عمومی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔‘
دونوں فریق اب ’اگلے قدم پر واضح ہیں‘
امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی زیرِقیادت وفد کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی ثالثی عمان کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کے بارے میں ای میل کے ذریعے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ’بہت کام کرنا باقی ہے‘ لیکن ایران اور امریکہ ’اگلے اقدامات پر واضح‘ ہو کر جا رہے ہیں۔
منگل کوجس وقت مذاکرات شروع ہوئے تو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ تیل کی سپلائی کے اہم بین الاقوامی روٹ آبنائے ہُرمز کے ایک حصے کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے، ایسا حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کیا جا رہا تھا کیونکہ ایران کے پاسداران انقلاب نے وہاں فوجی مشقیں کرنا تھیں۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ خود ’بالواسطہ‘ طور پر جنیوا مذاکرات میں حصہ لیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تہران ماضی میں دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ آبنائے ہُرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دے گا۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی بین الاقوامی ترسیل کا پانچواں حصہ رُک جائے گا اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہ ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ بہترین طریقہ ہو سکتا ہے، تہران میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ ایرانی حکومت کو ختم کرنے کی کوئی بھی امریکی کوشش ناکام ہو جائے گی۔
قبل ازیں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ خود ’بالواسطہ‘ طور پر جنیوا مذاکرات میں حصہ لیں گے اور یہ کہ وہ سمجھتے ہیں ایران مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ چاہتا ہے۔