Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران میں حکومت کی تبدیلی ’سب سے بہتر چیز‘ ہوسکتی ہے: صدر ٹرمپ

ماضی میں ٹرمپ حکومت کی تبدیلی کی کھلی حمایت سے گریز کرتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ’سب سے بہتر چیز‘ ہوسکتی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جانب دوسرے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی روانگی کا حکم دیا۔
شمالی کیرولینا کے فورٹ بریگ ملٹری اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایران میں ’ریجیم چینج‘ چاہتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’لگتا ہے یہ سب سے بہترین بات ہوگی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ 47 برس سے مذاکرات ہی ہوتے رہے ہیں اور ’اس دوران ہم نے بہت سی قیمتی جانیں گنوائیں۔‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ موجود ہیں۔‘
ماضی میں ٹرمپ حکومت کی تبدیلی کی کھلی حمایت سے گریز کرتے رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے خطے میں افرا تفری پھیل سکتی ہے۔ تاہم وہ ایران کی قیادت کو متعدد مواقع پر سخت پیغامات دیتے رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جلد مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا جائے گا تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ کوئی معاہدہ نہ کر سکا ’تو ہمیں اس کی ضرورت پڑے گی۔‘ مذکورہ جہاز اس وقت کیریبین کے پانیوں میں موجود ہے، جبکہ یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت کم از کم 12 امریکی جنگی جہاز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں۔
ایران میں گذشتہ ماہ ہونے والے احتجاج کے بعد سخت کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ابتدا میں ٹرمپ نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ’لاکڈ اینڈ لوڈڈ‘ ہے، لیکن بعد ازاں انہوں نے توجہ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز کر دی، جسے امریکی فورسز نے گذشتہ جولائی میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران نشانہ بنایا تھا۔

انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

احتجاج وقتی طور پر تھم چکے ہیں، تاہم سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ ایرانی عوام کے تحفظ کے لیے ’انسانی بنیادوں پر مداخلت‘ کی جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان گذشتہ ہفتے عمان میں جوہری پروگرام پر مذاکرات ہوئے، لیکن آئندہ بات چیت کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کا پروگرام جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، تاہم تہران اس کی تردید کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 53 ہزار سے زیادہ گرفتار کیے گئے ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد کو سزائے موت کا سامنا ہے۔ ایران میں اصلاحات کے حامی کیمپ سے تعلق رکھنے والے تین سیاست دانوں کی حالیہ گرفتاری نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

شیئر: