Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپ کی پانچ ٹیک شخصیات پر امریکی ویزا پابندی کی ’سخت مذمت‘ کرتے ہیں: یورپی یونین

فرانسیسی صدر نے امریکی فیصلے پر سخت بیان جاری کیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
یورپی یونین نے یورپ کی یونین ٹیک کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے والی پانچ شخصیات پر عائد امریکی پابندیوں کی ’سخت مذمت‘ کی ہے۔ فرانسیسی صدر نے بھی امریکی فیصلے پر تنقید کی ہے جبکہ جرمنی نے اس کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ سابق یورپی کمشنر تھیری بریٹن اور چار دیگر شخصیات کو ویزا نہیں دے گا۔
یورپی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے والی ان شخصیات پر امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مواد کو اس وجہ سے سنسر کر رہے ہیں کہ اُن کا نکتہ نظر الگ ہوتا ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ہم نے امریکی حکام سے وضاحت کی درخواست کی ہے اور ہم اُن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم بلاجواز اقدامات کے خلاف اپنی ریگولیٹری خود مختاری کا دفاع کرنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن جواب دیں گے۔‘
یورپی کمیشن کے مطابق ’ہمارے ڈیجیٹل قوانین تمام کمپنیوں کے لیے ایک محفوظ، منصفانہ اور مسابقت کو یقینی بناتے ہیں، اور ان قوانین کا اطلاق منصفانہ طریقے سے اور بلاامتیاز ہوتا ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اظہار رائے کی آزادی یورپ میں ایک بنیادی حق ہے اور پوری جمہوری دنیا میں امریکہ کے ساتھ مشترک بنیادی قدر ہے۔‘
کمیشن نے کہا کہ ’یورپی یونین ایک کھلی، قواعد پر کھڑی واحد مارکیٹ ہے، جس میں ہماری جمہوری اقدار اور اقتصادی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا خودمختاری سے حق بین الاقوامی کمٹمنٹس کے مطابق ہے۔‘
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے بدھ کے روز ٹیک کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے والی پانچ یورپی شخصیات کو ویزا دینے سے انکار کے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’دھمکی‘ اور ’زبردستی‘ کے مترادف ہے۔

جرمنی نے امریکی فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

میکخواں نے ایکس پر لکھا کہ ’فرانس تھیری بریٹن اور چار دیگر یورپی شخصیات کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے ویزا پابندی کے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ اقدامات ڈرانے اور زبردستی کرنے کے مترادف ہیں جن کا مقصد یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اپنی ’ریگولیٹری خود مختاری‘ کا دفاع کرے گا۔
ادھر جرمنی نے کہا ہے کہ آزادی اظہار پر یورپی ٹیکنالوجی شعبے کی پانچ اہم شخصیات کو ویزا دینے سے انکار کرنے کا امریکی محکمہ خارجہ کا فیصلہ ’قابل قبول نہیں۔‘
ایک جرمن غیرسرکاری گروپ ’ہاتی ایڈ‘ جسے امریکی اقدامات سے نشانہ بنایا گیا، نے اس فیصلے کو ’جبر کا عمل‘ قرار دیا۔

 

شیئر: