Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہنڈرڈ کرکٹ لیگ سے پاکستانی کھلاڑیوں کو باہر رکھنا ’شرمناک ہو گا‘: ہیری بروک

ہیری بروک نے کہا کہ ’پاکستان کرکٹ کے حوالے سے کئی برسوں سے ایک عظیم ملک رہا ہے۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے سنیچر کو کہا ہے کہ یہ ’شرمناک ہو گا‘ اگر انڈین ملکیت والی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں کو انگلینڈ کی ہنڈرڈ کرکٹ لیگ سے باہر رکھیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے جمعے کو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) سے کہا کہ وہ بی بی سی کی رپورٹوں پر فوری کارروائی کرے، جن کے مطابق اگلے ماہ ہونے والی کھلاڑیوں کی نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو ’نظرانداز‘ کیا جائے گا۔
انگلینڈ کے سری لنکا کے خلاف اتوار کو کینڈی میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹس مرحلے کے میچ سے پہلے، ہیری بروک، جو اس برس انڈین ملکیت والی سن رائزرز لیڈز کے لیے ہنڈرڈ میں کھیلیں گے، سے اس مسئلے پر سوال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری اصل توجہ اب ٹی20 ورلڈ کپ پر ہے۔ یہ واقعی ہمارا کام نہیں ہے، سچ کہوں تو۔‘
’لیکن جو میں کہوں گا وہ یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے کئی برسوں سے ایک عظیم ملک رہا ہے۔‘
انڈیا اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگیوں کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ صرف عالمی کرکٹ ایونٹس میں کھیلتے ہیں۔
ان کے درمیان سری لنکا اور انڈیا میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ کا میچ صرف اس وقت ممکن ہو سکا جب پاکستان نے اپنے بائیکاٹ کی دھمکی واپس لے لی۔
انگلینڈ کے کپتان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں نیلامی میں تقریباً 50، 60 کھلاڑی ہوں گے، اور یہ افسوس کی بات ہوگی کہ ان میں سے کچھ کھلاڑی وہاں نہ ہوں۔‘
’ان کے پاس شاندار کرکٹرز ہیں اور ہاں، وہ بہترین تماشائی بھی لاتے ہیں۔ اس لیے یہ افسوس کی بات ہو گی کہ پاکستانی کھلاڑی وہاں نہ ہوں اور ٹورنامنٹ اور مقابلے کو اور بہتر نہ بنائیں۔‘
نئے نام سے موسوم سن رائزرز لیڈز انڈین گروپ سن گروپ کی ملکیت ہے، جو ہنڈرڈ لیگ کی آٹھ فرنچائزز میں سے ایک ہے جس کا تعلق انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے ہے۔
دوسری فرنچائزز میں مانچسٹر سپر جائنٹس، سدرن بریو اور ایم آئی لندن شامل ہیں۔
گذشتہ برس کے ہنڈرڈ ایڈیشن میں صرف دو پاکستانی کھلاڑیوں محمد عامر اور عماد وسیم شامل تھے۔

 

شیئر: