ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کو بڑا جھٹکا، امریکی سپریم کورٹ نے عالمی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیا
مشہور ریٹیل چین ’کوسٹکو‘ سمیت کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی نچلی عدالتوں میں رقم کی واپسی کے لیے جنگ لڑ رہی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی سپریم کورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر سے درآمد شدہ اشیاء پر عائد کیے گئے بھاری ٹیکسوں (ٹیرف) کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی ) کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاشی پروگرام کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعے کو نو ججوں پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے سنایا۔
کیس کا مرکزی نقطہ وہ ہنگامی اختیارات تھے جنہیں استعمال کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قریباً ہر ملک سے آنے والی اشیاء پر ’جوابی ٹیرف‘ نافذ کیے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کا پہلا بڑا پالیسی اقدام تھا جو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے پہنچا جس کی تشکیل نو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں تین قدامت پسند ججوں کی تقرری کے ذریعے کی تھی۔
'ٹیکس لگانے کا اختیار صرف پارلیمان کا ہے'
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلے میں لکھا کہ امریکی آئین ’انتہائی واضح‘ طور پر ٹیکس اور ٹیرف لگانے کا اختیار کانگریس (امریکی پارلیمان) کو دیتا ہے۔
جسٹس جان رابرٹس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’آئین سازوں نے ٹیکس لگانے کے اختیار کا کوئی بھی حصہ انتظامیہ (صدر) کے سپرد نہیں کیا تھا۔‘
دوسری جانب جسٹس سیموئل ایلیٹو، کلیئرنس تھامس اور بریٹ کیوانہ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔
جسٹس کیوانہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ یہ ٹیرف ایک دانش مندانہ پالیسی ہو سکتے ہیں یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن ’متن، تاریخ اور روایات کی روشنی میں یہ قانونی طور پر درست ہیں۔‘
اربوں ڈالر کی واپسی کا معمہ
عدالتی فیصلے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ان کمپنیوں کو اربوں ڈالر کیسے واپس ملیں گے جو وہ اب تک ٹیرف کی مد میں جمع کرا چکی ہیں۔
مشہور ریٹیل چین ’کوسٹکو‘ سمیت کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی نچلی عدالتوں میں رقم کی واپسی کے لیے جنگ لڑ رہی ہیں۔
وفاقی اعداد و شمار کے مطابق دسمبر تک حکومت ہنگامی اختیارات کے تحت ان ٹیکسوں سے 133 ارب ڈالر سے زائد رقم جمع کر چکی تھی اور تخمینہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں اس کا اثر قریباً 30 کھرب ڈالر تک ہونا تھا۔
جسٹس کیوانہ نے خبردار کیا کہ رقم کی واپسی کا یہ عمل ایک ’بڑی الجھن‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
