امریکی سپریم کورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر سے درآمد شدہ اشیاء پر عائد کیے گئے بھاری ٹیکسوں (ٹیرف) کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی ) کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاشی پروگرام کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعے کو نو ججوں پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے سنایا۔
مزید پڑھیں
-
کیوبا ایک ناکام ملک، امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لے: صدر ٹرمپNode ID: 900748
کیس کا مرکزی نقطہ وہ ہنگامی اختیارات تھے جنہیں استعمال کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قریباً ہر ملک سے آنے والی اشیاء پر ’جوابی ٹیرف‘ نافذ کیے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کا پہلا بڑا پالیسی اقدام تھا جو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے پہنچا جس کی تشکیل نو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں تین قدامت پسند ججوں کی تقرری کے ذریعے کی تھی۔
'ٹیکس لگانے کا اختیار صرف پارلیمان کا ہے'
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلے میں لکھا کہ امریکی آئین ’انتہائی واضح‘ طور پر ٹیکس اور ٹیرف لگانے کا اختیار کانگریس (امریکی پارلیمان) کو دیتا ہے۔
جسٹس جان رابرٹس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’آئین سازوں نے ٹیکس لگانے کے اختیار کا کوئی بھی حصہ انتظامیہ (صدر) کے سپرد نہیں کیا تھا۔‘
دوسری جانب جسٹس سیموئل ایلیٹو، کلیئرنس تھامس اور بریٹ کیوانہ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔
جسٹس کیوانہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ یہ ٹیرف ایک دانش مندانہ پالیسی ہو سکتے ہیں یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن ’متن، تاریخ اور روایات کی روشنی میں یہ قانونی طور پر درست ہیں۔‘

اربوں ڈالر کی واپسی کا معمہ
عدالتی فیصلے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ان کمپنیوں کو اربوں ڈالر کیسے واپس ملیں گے جو وہ اب تک ٹیرف کی مد میں جمع کرا چکی ہیں۔
مشہور ریٹیل چین ’کوسٹکو‘ سمیت کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی نچلی عدالتوں میں رقم کی واپسی کے لیے جنگ لڑ رہی ہیں۔
وفاقی اعداد و شمار کے مطابق دسمبر تک حکومت ہنگامی اختیارات کے تحت ان ٹیکسوں سے 133 ارب ڈالر سے زائد رقم جمع کر چکی تھی اور تخمینہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں اس کا اثر قریباً 30 کھرب ڈالر تک ہونا تھا۔
جسٹس کیوانہ نے خبردار کیا کہ رقم کی واپسی کا یہ عمل ایک ’بڑی الجھن‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
فیصلہ معیشت پر کاری ضرب ہو گا: صدر ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کیس کو امریکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک قرار دیتے رہے ہیں۔
ان کا موقف تھا کہ اگر عدالت ان کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو یہ ملکی معیشت پر ایک ’کاری ضرب‘ ہو گا۔
تاہم ان کے خلاف قانونی محاذ پر صرف سیاسی مخالفین ہی نہیں بلکہ کئی آزاد خیال اور کاروباری گروپس بھی شامل تھے جو عام طور پر ریپبلکن پارٹی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے یہ ٹیرف عوامی سطح پر بھی زیادہ مقبول نہیں تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 1977 کے ایک قانون ’انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ‘ کا سہارا لیا تھا جو صدر کو ہنگامی حالات میں درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ماضی میں صدور اسے پابندیاں لگانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر تھے جنہوں نے اسے نئے ٹیکس لگانے کے لیے استعمال کیا۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ آج تک کسی صدر کو اس قانون میں ایسے اختیارات نہیں ملے جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ ایسے اختیارات موجود ہی نہیں ہیں۔‘
کیا ٹیرف اب ختم ہو جائیں گے؟
اگرچہ سپریم کورٹ نے موجودہ ڈھانچے کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیگر قوانین کے تحت ڈیوٹیز لگانے سے نہیں روکتا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیگر قانونی راستوں سے ٹیرف کے اس نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، اگرچہ ان قوانین کے تحت صدر کے ہاتھ زیادہ بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل 2025 میں تجارتی خسارے کو بنیاد بنا کر ’قومی ایمرجنسی‘ نافذ کی تھی اور بیشتر ممالک پر ٹیرف لگائے تھے۔
اس سے قبل انہوں نے کینیڈا، چین اور میکسیکو پر منشیات کی سمگلنگ روکنے کے بہانے بھی ڈیوٹیز عائد کی تھیں۔
عدالت کے اس فیصلے نے صدر کے ان غیرمعمولی انتظامی اختیارات پر روک لگا دی ہے جنہیں وہ اب تک مختلف معاملات، جیسا کہ برطرفیوں اور وفاقی فنڈز کی کٹوتیوں میں کامیابی سے استعمال کرتے آ رہے تھے۔












