ہٹلر کی جائے پیدائش اب پولیس سٹیشن، آسٹریا میں ’تاریخ مٹانے‘ کی کوشش یا ضرورت؟
ہٹلر کی جائے پیدائش اب پولیس سٹیشن، آسٹریا میں ’تاریخ مٹانے‘ کی کوشش یا ضرورت؟
ہفتہ 21 فروری 2026 14:42
سنہ 1938 میں ہٹلر کے دورِ حکومت میں آسٹریا کو جرمنی کا حصہ بنا لیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
آسٹریا کے قصبے ’برائوناؤ ایم ان‘ میں ایڈولف ہٹلر کی جائے پیدائش کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کرنے کے فیصلے نے مقامی آبادی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس مقام کو ’غیر جانبدار‘ بنانا ہے تاکہ یہ جگہ انتہا پسندوں کے لیے باعث کشش نہ رہے تاہم ناقدین اس فیصلے کو ’مسائل سے بھرپور‘ قرار دے رہے ہیں۔
جرمنی کی سرحد پر واقع اس قصبے کی ایک تنگ سی گلی میں وہ مکان آج بھی موجود ہے جہاں 20 اپریل 1889 کو نازی آمر ہٹلر پیدا ہوا تھا۔
برسوں تک نجی ملکیت میں رہنے والی اس خستہ حال عمارت کو حکومت نے سنہ 2016 میں ایک خصوصی قانون کے ذریعے اپنے قبضے میں لیا تھا۔
اس مکان کے باہر کھڑی 53 سالہ سیبل ٹریبل میئر نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک ’دو دھاری تلوار‘ کی مانند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس سے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو یہاں جمع ہونے سے روکا جا سکے گا لیکن اس جگہ کو کسی بہتر مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔
آسٹریا کو ماضی میں اکثر اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ اس نے ہولوکاسٹ میں اپنی ذمہ داری کو پوری طرح تسلیم نہیں کیا۔
سنہ 1938 میں ہٹلر کے دورِ حکومت میں آسٹریا کو جرمنی کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔
نازی دور کے متاثرین کی نمائندگی کرنے والی ’ماؤتھاؤسن کمیٹی‘ کے رکن اور مصنف لڈوِگ لاہیر اس فیصلے کے سخت خلاف ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس سٹیشن بنانا پریشان کن ہے کیونکہ پولیس ہر سیاسی نظام میں ریاست کے مفادات کے تحفظ کی پابند ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق اس سے قبل ایک تجویز یہ تھی کہ یہاں امن اور مصالحت پر بات چیت کے لیے ایک مرکز قائم کیا جائے جسے عوامی سطح پر کافی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
ہ سنہ 1938 میں ہٹلر کے دورِ حکومت میں آسٹریا کو جرمنی کا حصہ بنا لیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب مقامی دکان دار جیسمین سٹیڈلر نے اس منصوبے پر آنے والی قریباً 24 ملین ڈالر کی خطیر لاگت پر تنقید کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہٹلر کی پیدائش کو اس گھر میں ایک ’تاریخی تناظر‘ کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے تھا۔
اس مکان کے سامنے ایک یادگاری پتھر نصب ہے جس پر درج ہے: ’امن، آزادی اور جمہوریت کے لیے۔ فاشزم پھر کبھی نہیں۔ لاکھوں مرنے والے ہمیں خبردار کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب کچھ مقامی افراد اس فیصلے کے حامی بھی ہیں۔ 57 سالہ الیکٹریکل انجینئر وولف گینگ لیتھنر کا کہنا ہے کہ عمارت کو پولیس کے حوالے کرنا سمجھ داری ہے۔ اس سے امید ہے کہ یہاں ’تھوڑا سکون‘ میسر آئے گا اور یہ جگہ انتہا پسندوں کی آماج گاہ نہیں بنے گی۔
آسٹریا کی وزارتِ داخلہ کے مطابق پولیس اہلکار سنہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں اس نئی عمارت میں منتقل ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ نازی دور کے دوران آسٹریا کے قریباً 65 ہزار یہودی قتل ہوئے جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار کو جلاوطنی پر مجبور کیا گیا تھا۔