عرب اور مسلم ممالک کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اسرائیل میں امریکی سفیر کے بیان کی سخت مذمت
مائیک ہکابی نے یہ گفتگو دائیں بازو کے مبصر اور اسرائیل کے ناقد ٹک کارلسن کے پوڈکاسٹ میں کی۔ (فوٹو: دی ٹکر کارلسن شو)
عرب اور اسلامی ممالک نے اتوار کے روز اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی کے ان بیانات کی مشترکہ مذمت کی، جن میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کے ایک وسیع علاقے پر حق حاصل ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مائیک ہکابی، جو سابق بیپٹسٹ پادری اور اسرائیل کے پُرجوش حامی رہ چکے ہیں، انتہائی دائیں بازو کے مبصر اور اسرائیل کے ناقد ٹک کارلسن کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کر رہے تھے۔
جمعہ کو جاری ہونے والی ایک قسط میں کارلسن نے مائیک ہکابی سے بائبل کی آیت کے مفہوم پر سوال کیا، جس کی بعض اوقات یہ تشریح کی جاتی ہے کہ اسرائیل کو مصر کے دریائے نیل سے لے کر شام اور عراق میں دریائے فرات تک کی زمین پر حق حاصل ہے۔
جواب میں مائیک ہکابی نے کہا ’اگر وہ سارا علاقہ لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا۔‘
اتوار کو ایک درجن سے زائد عرب اور اسلامی ممالک، تین بڑی علاقائی تنظیموں کے ساتھ، ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سفارت کار کے تبصروں کو ’خطرناک اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا۔
یہ سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جس پر متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور ریاستِ فلسطین کے علاوہ او آئی سی، خلیج تعاون کونسل کے کے دستخط بھی موجود تھے۔
ان ممالک نے کہا کہ یہ بیانات اقوام متحدہ کے منشور اور غزہ جنگ میں کشیدگی کم کرنے اور ایک جامع تصفیے کے لیے سیاسی افق کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے منافی ہیں۔
اس سے قبل کئی عرب ریاستوں نے علیحدہ علیحدہ مذمتی بیانات بھی جاری کیے تھے۔
سعودی عرب نے سفیر کے الفاظ کو ’لاپرواہ‘ اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا، جبکہ اردن نے اسے ’خطے کے ممالک کی خودمختاری پر حملہ‘ کہا۔
کویت نے اسے ’بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیا، جبکہ عمان نے کہا کہ یہ بیانات ’خطے میں امن اور استحکام کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
مصر کی وزارتِ خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی دیگر عرب زمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔‘
فلسطینی اتھارٹی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ مائیک ہکابی کے الفاظ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے منافی ہیں جس میں انہوں نے (اسرائیل کی جانب سے) مغربی کنارے کے الحاق کو مسترد کیا تھا۔‘
