ایران نے جمعرات کو روس کے ساتھ سالانہ مشقیں کیں جبکہ امریکہ کا ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کے قریب پہنچ رہا ہے۔
اس کو دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایسا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اگر جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ڈیل تک پہنچنے کے لیے 10 سے 15 روز کا وقت کافی ہے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کئی برس سے تعطل کا شکار رہی ہے اور ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ان مطالبات پر زیادہ بات کرنے سے انکار کیا ہے جو جوہری پروگرام کو کم اور مسلح گروہوں سے تعلقات ختم کرنے سے متعلق ہیں۔
مزید پڑھیں
-
ایران میں حکومت کی تبدیلی ’سب سے بہتر چیز‘ ہوسکتی ہے: صدر ٹرمپNode ID: 900652
حالیہ ہفتوں کے دوران بالواسطہ طور پر ہونے والی بات میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ایک یا پھر دونوں ملک حتمی جنگ کی تیاری کے لیے وقت حاصل کر رہے ہیں۔
پچھلے برس ایران کے جوہری مقامات اور فوج پر اسرائیل اور امریکہ کے 12 روز کے حملوں اور جنوری میں ہونے والے شدید مظاہروں کے بعد سے ایران میں تھیوکریسی مزید کمزور ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر عامر سعید ایراوانی نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ اگرچہ ایران کشیدگی یا جنگ نہیں چاہتا اور جنگ شروع نہیں کرے گا تاہم امریکہ کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور مناسب جواب دیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایسے حالات میں ایران کے دفاعی ردعمل کے دوران خطے میں دشمن ملک کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف ہوں گے۔‘
رواں ہفتے کے اوائل میں ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک مشق بھی کی تھی جس میں لائیو فائر بھی شامل تھے۔
آبنائے ہرمز خلیج عرب کی ایک تنگ گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اسی طرح ایران کے اندر بھی تناؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ 40 روزہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مرنے والے افراد کے لیے تعزیتی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور ان میں ’سخت انتباہُ کے باوجود بھی حکومت مخالف نعرے سنے گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک اور دھمکی
طیارہ بردار بیڑوں اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت ایران پر امریکی حملے کی مکمل ضمانت تو نہیں مگر صدر ٹرمپ کے انداز سے لگ رہا ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے پرامن مظاہرین کے قتل اور بڑے پیمانے پر پھانسیوں کو ایران کے لیے سرخ لکیر قرار دیا تاہم ابھی تک حملہ نہیں کیا اور اب جون کی جنگ سے متاثر ہونے والے جوہری مذاکرات میں پھر سے شامل ہو رہے ہیں۔













