Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھتا دوسرا امریکی بیڑا، ’ڈیل نہ ہونا ایران کے لیے بُرا ہو گا‘

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ڈیل تک پہنچنے کے لیے کے لیے 10 سے 15 روز کا وقت کافی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے جمعرات کو روس کے ساتھ سالانہ مشقیں کیں جبکہ امریکہ کا ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کے قریب پہنچ رہا ہے۔
اس کو دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایسا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اگر جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ڈیل تک پہنچنے کے لیے کے لیے 10 سے 15 روز کا وقت کافی ہے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کئی برس سے تعطل کا شکار رہی ہے اور ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ان مطالبات پر زیادہ بات کرنے سے انکار کیا ہے جو جوہری پروگرام کو کم اور مسلح گروہوں سے تعلقات ختم کرنے سے متعلق ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران بالواسطہ طور پر ہونے والی بات میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے اور ایسا لگ رہا کہ ایک یا پھر دونوں حتمی جنگ کی تیاری کے لیے وقت حاصل کر رہے ہیں۔
پچھلے برس اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جوہری مقامات پر فوج پر 12 روز کے حملوں اور جنوری میں ہونے شدید مظاہروں کے بعد سے ایران میں تھیوکریسی مزید کمزور ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر عامر سعید ایراوانی نے جمعرات کو سلامتی کونسل کے ایک خط میں لکھا ہے کہ اگرچہ ایران کشیدگی یا جنگ نہیں چاہتا اور جنگ شروع نہیں کرے گا تاہم امریکہ کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایسے حالات میں ایران کے دفاعی ردعمل کے دوران خطے میں دشمن ملک کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف ہوں گے۔‘
رواں ہفتے کے اوائل میں ایران نے آبنائے ہرمز ایک مشق بھی کی تھی جس میں لائیو فائر بھی شامل تھے۔
آبنائے ہرمز خلیج عرب کی ایک تنگ گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچوں حصہ گزرتا ہے۔
اسی طرح ایران کے اندر بھی تناؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ 40 روزہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مرنے والے افراد کے لیے تعزیتی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور ان میں حکام کے سخت انتباہ کے باوجود حکومت مخالف نعرے سنے گئے۔
صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک اور دھمکی
بحیرہ روم میں طیارہ بردار بیڑوں اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت ایران پر امریکی حملے کی مکمل ضمانت تو نہیں مگر صدر ٹرمپ نے انداز سے لگ رہا ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے پرامن مظاہرین کے قتل اور بڑے پیمانے پر پھانسیوں کو ایران کے لیے سرخ لکیر قرار دیا تاہم حملہ نہیں کیا اور اب جون کی جنگ سے متاثر ہونے والے جوہری مذاکرات میں دوبارہ شامل ہوئے ہیں۔
ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران نے رواں ہفتے جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ طور پر ہونے والے جوہری مذاکرات میں ایک تجویز سے اتفاق کیا ہے جو امریکی خدشات کو دور کرنے سے متعلق ہے۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکام بدھ کو ایران کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے جمع ہوئے اور انہیں بریفنگ دی گئی کہ ممکنہ کارروائی کے لیے درکار ’مکمل فورس‘ مارچ کے وسط تک پہنچنے کی توقع ہے۔
تاہم اہلکار کی جانب سے ایسا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا کہ ایران کب تک اپنا تحریری جواب دے گا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گزرنے والے برسوں کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ آسان کام نہیں ہے اور ہم کو بامقصد معاہدہ کرنا ہو گا، ورنہ دوسری صورت میں بری چیزیں ہوں گی۔‘

شیئر: