چند روز قبل فروری ہی کے مہینے میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم فِیڈریشن انٹرنیشنل ہاکی کی پرو لیگ کے مقابلوں کے لیے آسٹریلیا روانہ ہوئی۔ شیڈول طے تھا، میچز مقرر تھے اور سرکاری سطح پر یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ٹیم کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
عالمی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی کے بعد یہ دورہ ٹیم کے لیے اپنی ساکھ بہتر بنانے کا ایک موقع سمجھا جا رہا تھا۔ مگر چند ہی دنوں میں یہ ٹور کھیل سے زیادہ انتظامی بدانتظامی کی وجہ سے خبروں کا موضوع بن گیا۔
آسٹریلیا پہنچنے کے بعد رہائش کے انتظامات پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ کھلاڑیوں کے مطابق انہیں اس معیار کی سہولیات نہیں دی گئیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
واپسی پر قومی کپتان عماد شکیل بٹ نے لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو ایسے مقامات پر ٹھہرایا گیا جہاں انہیں کئی امور خود انجام دینے پڑے۔
ان کے مطابق ایک بین الاقوامی مقابلے میں شریک قومی ٹیم کو پیشہ ورانہ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے تھا مگر عملی صورتحال مختلف رہی۔
ان بیانات کے بعد قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں بحث شروع ہو گئی کہ دورے کے لیے مختص فنڈز کا استعمال کیسے ہوا۔
ٹیم کی کارکردگی بھی آسٹریلیا میں تسلی بخش نہ رہی۔ مضبوط حریفوں کے خلاف میچز میں پاکستان کو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کھیل کے مبصرین نے دفاعی کمزوریوں، فٹنس کے مسائل اور فیصلہ کن لمحات میں غلطیوں کی نشاندہی کی۔ تاہم کئی سابق کھلاڑیوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب ٹیم ذہنی دباؤ اور انتظامی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو تو کارکردگی متاثر ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
حکومتی نوٹس اور انکوائری
معاملہ جلد ہی سرکاری سطح تک پہنچ گیا۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ خان نے صورتحال کا نوٹس لیا اور پاکستان سپورٹس بورڈ کو فوری انکوائری کی ہدایت دی۔
چند دن بعد یہ معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے رپورٹ طلب کی اور واضح کیا کہ قومی کھلاڑیوں کے ساتھ یہ سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انکوائری کے بعد بعض انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی سامنے آئی جس نے تنازع کو مزید سنجیدہ بنا دیا۔
اس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی جو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین بھی ہیں انہوں نے ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں دس دس لاکھ روپے کے چیک دیے جبکہ یہ کہا کہ وہ ہاکی کی بہتری کے لیے اقدامات کریں گے۔
انہوں نے مصر ورلڈ کپ کوالیفائر کیمپ لگانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ وہ اس مسئلے میں ٹیم کے ساتھ اور ان کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
محسن نقوی جب میدان میں آئے تو اس سے پہلے اور بھی کئی ایسے واقعات ہوئے جو جنہوں نے اس بحران کو اور گھمبیر کیا۔ آسٹریلیا کے دورے کے بعد سب سے بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق حسین مسوری بگٹی نے قومی کپتان عماد شکیل بٹ پر دو سال کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔
ان کا موقف تھا کہ کھلاڑیوں نے بیرون ملک جا کر فیڈریشن کو بدنام کیا اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ اس فیصلے نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔

خیال رہے کہ طارق حیسن مسوری بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز خان بگٹی کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اور تقریباً ایک دہائی پہلے ان کے سامنے سیاسی حریف کے طور پر ابھرے اور پھر دونوں 2018 میں صلح ہوئی۔ اور اب بھی یہ صلح موجود ہے تاہم طارق مسوری کو ہاکی فیڈریشن کا صدر بنا دیا گیا جبکہ سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ بن گئے۔
حکومت نے کپتان پر لگائی گئی اس پابندی کا جائزہ لیا اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ذریعے اسے معطل کر دیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد میر طارق بگٹی نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم شہباز شریف کو بھیج دیا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فنڈز کی فراہمی اور انتظامی خودمختاری کے معاملات میں مشکلات کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ اس طرح آسٹریلیا کا واقعہ انتظامی بحران کے نقطۂ عروج میں تبدیل ہو گیا۔
انتخابات اور اندرونی تقسیم کا پس منظر
پاکستان ہاکی میں آنے والا یہ زلزلہ نما بحران محض ایک دورے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا۔ ویسے تو اس کی جڑیں پچھلی دو دہائیوں تک پھیلی ہوئی ہیں لیکن گزشتہ ہونے والے فیڈریشن کے انتخابات نے رہی سہی کسر نکال دی تھی۔
جب 2025 میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کے دوران دو واضح گروپ سامنے آئے۔ ایک گروپ میر طارق بگٹی کی قیادت میں تھا جو فیڈریشن کی خودمختاری اور انتظامی آزادی پر زور دے رہا تھا۔

دوسرا گروپ شفافیت، احتساب اور حکومتی نگرانی کو ضروری قرار دے رہا تھا۔ انتخابات کے بعد اختلافات ختم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہو گئے۔ تقرریوں، سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں اور کوچنگ اسٹاف کے انتخاب پر بھی اختلافات سامنے آتے رہے۔
کھلاڑیوں کے مطابق کئی انتظامی فیصلے غیر واضح تھے اور تیاری کے مراحل میں تسلسل کی کمی تھی۔ دوسری جانب فیڈریشن کے حامی حلقوں کا کہنا تھا کہ وسائل محدود تھے اور بعض مشکلات بیرونی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔
سابق اولمپیئن اصلاح الدین صدیقی جو قومی ٹیم کے کوچ بھی رہ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں ہاکی کا اصل مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ انتظامی عدم استحکام ہے۔ جب بھی تنزلی آتی ہے تو وہ ہمہ جہت ہوتی ہے۔ کسی ایک چیز کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو بھی ذمہ داران ہیں جن کا حکم چلتا ہے وہ ہاکی کی ملک میں پذیرائی کے لیے کہاں تک اقدامات کر رہے ہیں، میرا خیال ہے آج کی جین زی کو تو ہاکی کھیل کا معلوم نہیں ہو گا کہ یہ کھیلی کیسے جاتی ہے، اس کے قوانین کیا ہیں۔ اس کھیل میں گلیمر رکھنا، سکولوں کالجوں کے لیول پھر کھیلنا اور پھر اس کے ساتھ تشہیری کمپنیوں کا جڑنا کہ سپانسر آئیں یہ سب ہمہ جہتی ہے۔‘
انہوں نے زور دیا کہ جب تک فیڈریشن کے اندرونی اختلافات ختم نہیں ہوں گے اور ایک طویل المدتی حکمت عملی نہیں اپنائی جائے گی، ٹیم عالمی سطح پر تسلسل حاصل نہیں کر سکے گی۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کو پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرنا اور مالی معاملات میں شفافیت لانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
آسٹریلیا کا دورہ محض چند میچوں کی شکست کا نام نہیں رہا۔ اس نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اندر برسوں سے جاری اختلافات، انتخابی تنازعات اور انتظامی کمزوریوں کو کھول کر رکھ دیا۔ یہ واضح ہو گیا کہ جب ادارہ جاتی استحکام کمزور ہو تو اس کا اثر براہ راست قومی ٹیم کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔












