صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے لیے 10ارب ڈالر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی غزہ کے لیے سات ارب ڈالر امداد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں اعلان کیا کہ نو اراکین نے غزہ کے لیے امدادی پیکج کی مد میں سات ارب ڈالر دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس پیکج کے لیے ایک ارب ڈالر عطیہ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ پانچ ممالک نے جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی استحکامی فورس میں شمولیت کے لیے فوج بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، ازبکستان اور کویت بھی ان ممالک میں شامل ہیں جو مالی امداد فراہم کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسووو اور البانیہ نے غزہ کے استحکام کے لیے فوجی دستے بھیجنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ مصر اور اردن نے ان اقدامات کے لیے پولیس کو تربیت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ابتدائی طور پر فوجی دستے رفح میں تعینات کیے جائیں گے جو ایک بڑا آبادی مرکز ہے اور جہاں امریکی انتظامیہ سب سے پہلے تعمیرِ نو کا کام شروع کرنا چاہتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’خرچ ہونے والا ہر ڈالر استحکام اور ایک نئے اور ہم آہنگ خطے کی اُمید میں سرمایہ کاری ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بورڈ آف پیس یہ دِکھا رہا ہے کہ بہتر مستقبل اسی کمرے میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔‘
اعلان کردہ رقم اگرچہ اہم ہے لیکن یہ اس اندازے کے مقابلے میں بہت کم ہے جس کے مطابق دو سالہ جنگ کے بعد تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 70 ارب ڈالر درکار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی۔
نئی قائم کی گئی بین الاقوامی استحکامی فورس کے سربراہ میجر جنرل جاسپر جیفرز نے کہا کہ ’منصوبے کے تحت غزہ کے لیے 12 ہزار پولیس اہلکار اور 20 ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان ابتدائی اقدامات کے ذریعے ہم غزہ کو وہ سکیورٹی فراہم کرنے میں مدد دیں گے جس کی اسے خوشحالی اور پائیدار امن کے مستقبل کے لیے ضرورت ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایک دن میں یہاں نہیں ہوں گا، لیکن اقوامِ متحدہ موجود رہے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اقوامِ متحدہ بہت زیادہ مضبوط ہو جائے گی اور بورڈ آف پیس تقریباً اس پر نگرانی کرے گا اور یہ یقینی بنائے گا کہ وہ درست طریقے سے کام کرے۔
