Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کی مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن، سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ مسلمان ممالک کی کی مذمت

یہ عمل خاص طور پر ایریا سی میں کیا جائے گا، جو ویسٹ بینک کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ مسلمان ممالک نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا نیا عمل شروع کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
منگل کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور تُرکیہ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو نام نہاد ’ریاستی زمین‘ قرار دیا گیا ہے، اور 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں میں زمین کی ملکیت کے اندراج اور تصفیے کے طریقۂ کار کی منظوری دی گئی ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ اقدام مقبوضہ سرزمین پر کنٹرول مستحکم کرنے کے لیے ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، جو دو ریاستی حل کو کمزور کرتا ہے، ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو مجروح کرتا ہے، اور خطے میں منصفانہ اور جامع امن کے حصول کو خطرے میں ڈالتا ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمین کی باقاعدہ رجسٹریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ عمل خاص طور پر ایریا سی میں کیا جائے گا، جو ویسٹ بینک کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ ہے اور مکمل طور پر اسرائیلی انتظامی و سکیورٹی کنٹرول میں ہے۔
کئی مبصرین اور فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنے کے راستے آسان بنانا اور بالآخر اس علاقے کے انضمام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، اردن، قطر، انڈونیشیا، مصر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے بھی منافی ہیں۔ ان ممالک نے اس اقدام کو ’خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ایک نیا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ مسلط کرنے کی کوشش ہے جس کا مقصد قبضے کو مضبوط بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرنا ہے۔ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور واضح اقدامات کرے تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

 

شیئر: