افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین
اتوار 22 فروری 2026 19:16
اتوار کو افغان شہری اجتماعی قبر کے گرد جمع ہوئے تاکہ اُن دیہاتیوں کی تدفین کی جا سکے جو رات گئے پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ہلاک ہو گئے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی آپریشن میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ جھڑپیں گذشتہ برس اکتوبر میں سرحدی کشیدگی کے بعد سب سے بڑی کارروائی قرار دی جا رہی ہیں، جب دونوں جانب 70 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
ضلع بهسودو کے 35 سالہ کسان نزاکت نے بتایا کہ ’گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ میرے بچے اور خاندان کے افراد وہیں موجود تھے۔ میرے والد اور میرے بیٹے بھی وہاں تھے۔ سب کے سب مارے گئے۔‘
پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں قائم سات مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ سرگرم تھے۔ یہ کارروائی پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ فضائی حملوں میں ’80 سے زائد‘ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان کے مطابق فوج نے تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ عناصر کے علاوہ داعش کے ایک ذیلی دھڑے کو بھی نشانہ بنایا۔
افغان حکومت ماضی میں شدت پسندوں کو پناہ دینے کی تردید کرتی رہی ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’لوگوں کے گھر تباہ کیے گئے، شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، مشرقی ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں بمباری کر کے یہ مجرمانہ فعل انجام دیا گیا۔‘
ننگرہار کے دور افتادہ ضلع بهسودو کے اطراف سے آنے والے رہائشی ملبے تلے لاشوں کی تلاش میں مصروف افراد کے ساتھ شامل ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق بیلچوں اور کھدائی مشین کی مدد سے تلاش کا عمل جاری رہا۔
37 سالہ امین گل امین نے کہا کہ ’یہاں کے لوگ عام شہری ہیں۔ اس گاؤں کے رہائشی ہمارے رشتہ دار ہیں۔ جب بمباری ہوئی تو ایک شخص جو بچ گیا تھا، مدد کے لیے پکار رہا تھا۔‘
ننگرہار پولیس کے مطابق بمباری رات تقریباً 12 بجے شروع ہوئی اور تین اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد ایک شہری کے گھر میں موجود تھے۔
پولیس ترجمان سید طیب حماد نے بتایا کہ ’گھر کے 23 افراد ملبے تلے دب گئے، جن میں سے 18 ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔‘
ننگرہار کے دیگر علاقوں میں حملوں سے دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ پکتیکا میں ایک تباہ شدہ مہمان خانہ دیکھا گیا تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
’موزوں اور نپا تلا جواب‘
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حملوں کا ’موزوں اور نپا تلا جواب‘ دے گی۔
سنہ 2021 میں غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان مشن کے مطابق اکتوبر سے دسمبر کے درمیان پاکستانی فوجی کارروائیوں میں 70 افغان شہری ہلاک ہوئے۔
قطر اور ترکی کی ثالثی میں ابتدائی جنگ بندی کے بعد کئی دور کے مذاکرات ہوئے، تاہم مستقل معاہدہ نہ ہو سکا۔
رواں ماہ سعودی عرب نے مداخلت کرتے ہوئے اکتوبر میں گرفتار کیے گئے تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی میں ثالثی کی۔
خراب ہوتے تعلقات کا اثر دونوں ممالک کے عوام پر بھی پڑا ہے، جہاں تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم زمینی سرحدی راستے کئی ماہ سے بڑی حد تک بند ہیں۔
پاکستان نے اتوار کو کہا کہ بارہا مطالبات کے باوجود طالبان حکام افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرنے والے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہے ہیں، جس کی کابل تردید کرتا ہے۔
اسلام آباد نے یہ حملے دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے اور حالیہ شمال مغربی علاقوں میں دیگر حملوں کے بعد کیے۔
داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ سنہ 2008 کے بعد اسلام آباد میں سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔
