’ قدیم شناخت برقرار‘ ریاض کی تاریخی مسجد القبلی کی تعمیرنو کا کام مکمل
مملکت کی تاریخی مساجد کی تعمیرِ نو اور تزئین کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت ریاض کے علاقے منفوحہ کی قدیم مسجد القبلی کی تعمیرنو کا کام مکمل کرلیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق روایتی نجدی فن تعمیر کو اجاگر کرتے ہوئے مسجد کی قدیم شناخت کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ اس کی اصل شکل و طرز تعمیر نمایاں رہے۔
مسجد القبلی کا مجموعی رقبہ 500 مربع میٹر ہے جو منفوحہ کے مغرب اور گورنرپیلس کے جنوب مشرقی جانب واقع ہے۔ مسجد میں شہزادے اور اعلی شخصیات نماز ادا کرتی تھیں۔
مسجد کا مرکزی ہال اور صحن کے علاوہ زیریں منزل میں (تہ خانے) میں ’خلوہ‘ بھی بنائی گئی ہے جس کا رقبہ مرکزی ہال کے مساوی ہے۔
مسجد کی عمارت میں جنوبی اور شمالی جانب چوکور کھڑکیاں رکھی گئی ہیں جن کا مقصد مسجد میں تازہ ہوا کی آمد و رفت تھا۔

شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے عہد میں مسجد کی تعمیر عبداللہ بن مسعود نے کرائی تھی۔ اس وقت اس کا مرکزی مصلی 15x8 میٹر تھا جبکہ بلندی 5 میٹر تھی۔
مسجد میں 33 ستون تھے جو کہ ہر تین صفوں پر منقسم تھے۔ ہر صف میں شمال سے جنوب تک 11 ستون ہوتے تھے جن کا ایک سے دوسرے کا فاصلہ مساوی تھا۔
مسجد کی چھت کے لیے کھجور کے درخت کے تنوں اور چھالوں سے بنائی گئی تھی جبکہ عمارت کی شمالی سمت میں مینار تھا۔

1993 میں مسجد میں ترقیاتی کام کیا گیا تھا۔ یہ مسجد منفوحہ کے قدیم علاقے کی واحد مسجد باقی تھی جو مٹی سے بنی تھی اور اس کا شمارعلاقے کی قدیم و روایتی مساجد میں کیا جاتا تھا۔
مسجد کی قدیم شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی تعمیرِ نواسی انداز میں کی گئی ہے جس کے لیے علاقے میں دستیاب تعمیراتی سامان کا استعمال کیا گیا۔
