Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایندھن کی قلت سے دوچار کیوبا کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں: کینیڈا

تیل کی سپلائی پر پابندی کے بعد کیوبا میں توانائی کا شدید بحران پایا جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
کینیڈا کے حکام نے کہا ہے کہ کیوبا کی مدد کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جو ان دنوں ایندھن کی شدید قلت سے دوچار ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیوبا میں یہ صورت حال امریکہ کی جانب سے تیل کی فراہمی پر پابندی کے بعد سامنے آئی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران کمیونسٹ انتظام رکھنے والے جزیرے پر دباؤ بڑھانے کی مہم کو تیز کیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کیوبا میں تیل کی رسائی کے تمام ذرائع بند کیے ہیں جن میں اس کے اتحادی وینزویلا سے ہونے والی فراہمی بھی شامل ہے۔ جس کے باعث وہاں کھانے پینے کے سامان اور نقل و حمل کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے اور کئی علاقے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا کہنا ہے کہ ’ہم کیوبا کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاہم اس وقت اس کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
ان کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا گیا کہ مدد کس طرح کی جائے گی اور اس میں کیا کچھ شامل ہو گا۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیوبا میں کم ہوتی توانائی کی ضرورت کو پورا نہ کیا گیا تو یہ صورت حال انسانی بحران کی طرف جا سکتی ہے۔
کینیڈا کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا کہ وہ کیوبا کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں ’انسانی بحران کی طرف بڑھتے خطرات‘ پر فکرمند ہے۔
جنوری میں امریکی فوج کی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کیوبا کے خلاف کارروائی کی بات بھی کئی بار کر چکے ہیں۔

جنوری میں امریکی فوج نے وینزویلا میں ایک چھاپہ مار کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تعلقات میں کچھ معاملات کی وجہ سے پہلے سے تناؤ پایا جاتا ہے جن میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد کیے گئے ٹیرف، گرین لینڈ کے بارے میں بیان بازی شامل ہے جبکہ اوٹاوا کے بیجنگ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح وزیراعظم مارک کارنی کے ایسے بیانات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ ’اوسط درجے کے ممالک کو‘ امریکی تسلط سے بچنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ جس کے بعد امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھی گئی۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’کیوبا بہت جلد ناکام ہو جائے گا جبکہ وینزویلا جو کبھی اس کا سب سے بڑا سپلائر تھا، اس نے بھی اسے تیل بھیجا ہے اور نہ کوئی رقم۔‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آفس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر جس قسم کا چھاپہ مارا گیا اور نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

 

شیئر: