واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جاری
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جاری
منگل 2 جون 2026 17:45
اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے کی یقین دہانیاں موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ کی میزبانی میں ہو رہا ہے جو دو روز تک جاری رہے گا۔
ان مذاکرات میں امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر یخیل لیٹر، امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مشیر ڈینیئل ہولر بھی شریک ہیں، تاہم کسی بھی عہدیدار نے میڈیا سے بات نہیں کی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، حالانکہ صدر ٹرمپ نے پیر کو حملے روکنے کے ایک معاہدے کا اعلان بھی کیا تھا۔
اسرائیل نے منگل کو اعلان کہ اگر ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیلی پر حملے جاری رکھے تو وہ بیروت کے نواحی علاقے میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ کو نشانہ بناتا رہے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کو لبنانی دارالحکومت بیروت کے مضافاتی علاقے داہیہ پر حملے کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعد ازاں اتوار کو اسرائیلی فوج نے تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کر لیا جسے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ’ایک ڈرامائی تبدیلی‘ قرار دیا۔
بیوفورٹ قلعہ اسرائیلی سرحد سے قریباً 15 کلومیٹر دُور ہے اور یہاں سے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
تزویراتی اہمیت کے حامل اس قلعے پر اسرائیلی فوجیوں نے 18 سال تک قبضہ کیے رکھا، اور بعد ازاں مئی 2000 میں اسرائیلی فوج لبنان سے چلی گئی تھی۔
لبنان میں لڑائی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد تیز ہوئی جب دو مارچ کو حزب اللہ نے اپنے اتحادی ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ داغے اور اس لڑائی کی وجہ سے قریباً 12 لاکھ لبنانیوں کو گھر بار چھوڑنا پڑا۔
ایک اندازے کے مطابق ’اسرائیل اب تک لبنان کے قریباً 20 فیصد علاقے پر قبضہ کر چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
حالیہ دنوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں شدت دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے دو دہائیوں بعد لبنان کے اندر اپنی سب سے بڑی پیش قدمی کی ہے۔
16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے بڑے علاقے اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان رواں برس 16 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس میں بعد ازاں 15 مئی کو 45 روز کی توسیع کی گئی تھی۔
تاہم امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ سے کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان میں لڑائی کو روکنے کی شرط بھی شامل ہے۔
پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے اپنی افواج کو لبنان کے اندر مزید آگے بڑھنے کے احکامات کے بعد، ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کو معطل کر دیا ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت تیز رفتاری سے جاری ہے اور انہیں مذاکرات معطل کرنے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔‘