Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’30 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی‘، انڈیا اور امریکہ تجارتی معاہدے کے قریب

وزیر تجارت پیوش گویال نے ایک روز قبل کہا تھا کہ پہلا مرحلہ 99 فیصد طے پا چکا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وفد اس وقت نئی دہلی میں موجود ہے اور منگل کی صبح انڈین حکام کے سات بات چیت ہو رہی ہے۔
جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکہ کے تجارتی نمائندے کے معاون برینڈن لنچ کی قیادت میں انڈیا پہنچنے والا وفد تین روز انڈیا کے تجارتی حکام کے ساتھ مذاکرات کرے گا اور فریقین کی کوشش ہے کہ وہ کسی تجارتی معاہدے تک پہنچ جائیں۔
انڈیا کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 99 فیصد تک معاملات طے پا چکے ہیں۔
امریکہ اور انڈیا کے درمیان فروری میں تجارتی معاہدے کے حوالے سے ابتدائی امور پورے کیے تھے تاہم امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے بھاری ٹٰیرف کے اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سست پڑ گئے تھے۔
عدالتی حکام کے بعد صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے کئی ممالک کے ساتھ غیرقانونی تجارت کی تحقیقات شروع کی تھیں جن میں انڈیا بھی شامل تھا جبکہ ان تمام ممالک پر 10 ٹیرف بھی لگایا۔
انڈین وزیر تجارت پیوش گویال کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں ہونے والی حالیہ قانونی تبدیلیوں کو معاہدے کے حتمی متن میں کس طرح شامل کیا جائے۔
ان کے مطابق ’مجھے پورا یقین ہے کہ ہم امریکہ ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کو مکمل اور اس پر دستخط کر لیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک وسیع اور جامع معاہدے کے لیے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
پچھلے ہفتے امریکہ کے سفیر سرگیو گور نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ انڈیا کے ساتھ عبوری ٹریڈ ڈیل چند ہفتے میں طے پا جائے گی۔
واشنگٹن اور نئی دہلی نے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 500 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، اس تک رسائی اور ٹیرف سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں کے درمیان مارچ کے بعد سے مذاکرات کے متعدد سیشن ہو چکے ہیں۔
انڈیا کا کہنا ہے کہ تجارتی معاہدے سے اس کی ڈیری اور زرعی پیداوار کو فائدہ ہو گا جبکہ برآمدکنندگان کے لیے 30 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ کھلے گی۔

شیئر: