خلیجی، عرب ممالک کی کویت اور بحرین پر نئے ایرانی حملوں کی مذمت
کویت نے کہا کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کی عمارت کو ’سنگین نقصان‘ پہنچنے کے بعد پروازیں معطل کر دی گئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
خلیجی اور عرب ممالک نے بدھ کو کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دفتر نے حملوں کے چند گھنٹے بعد ردعمل دیتے ہوئے ایک پوسٹ جاری کی۔
سعودی ولی عہد کے نجی دفتر کے سربراہ بدر العساکر نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اے خدا! ہمارے کویت اور بحرین کے عوام کی حفاظت فرما اور ہمارے خلیج کو ہر برائی سے محفوظ رکھ۔‘
قطر نے وزارتِ خارجہ کے بیان میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ’مکمل مخالفت‘ کا اعلان کیا اور زور دیا کہ خطے کو بلاجواز حملوں کے نتائج سے بچایا جائے اور علاقائی و عالمی سلامتی و استحکام کی بحالی کے لیے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ قطر نے کویت اور بحرین کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے جو بھی اقدامات کریں گے۔
اردن نے وزارتِ خارجہ کے بیان میں کویت اور بحرین میں شہری اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ’وحشیانہ ایرانی حملوں‘ کی مذمت کی اور کہا کہ یہ حملے ان کی خودمختاری کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بھی کویت اور بحرین پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے دونوں ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ یو اے ای کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے بار بار ایرانی جارحیت کے خلاف خلیجی ممالک کے سخت اور متحد موقف کی ضرورت پر زور دیا۔
انور قرقاش نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’کویت اور بحرین پر بار بار ایرانی جارحیت کے پیش نظر ایک سخت، متحد اور مربوط خلیجی موقف ہونا چاہیے۔ کوئی بھی خلیجی ملک تنہا نشانہ نہ بنے، کیونکہ عرب خلیجی ممالک کی سلامتی آپس میں جڑی ہوئی ہے، ان کے مفادات مشترک ہیں اور ان کی تقدیر ایک ہے۔‘
خلیج تعاون کونسل نے بھی ایران کے جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’ناقابلِ قبول دشمنانہ پالیسی‘ قرار دیا۔ جی سی سی نے کہا کہ شہری اہداف اور سفارتی مشنز پر حملے خطرناک اور بے مثال اضافہ ہیں۔
ایران نے بدھ کو کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اثاثوں، بشمول امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹرز، کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ کویت نے کہا کہ اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی عمارت کو ’سنگین نقصان‘ پہنچنے کے بعد پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، جو ’ایرانی مجرمانہ جارحیت‘ کا نتیجہ ہے۔ کویت ایئرویز نے بدھ کی سہ پہر ٹرمینل 4 سے پروازیں دوبارہ شروع کیں، جب حکام نے نقصان کا جائزہ لیا۔
