’اگر ایبولا آیا تو ہم ختم ہو جائیں گے‘، خوف نے کانگو کے کیمپوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
’اگر ایبولا آیا تو ہم ختم ہو جائیں گے‘، خوف نے کانگو کے کیمپوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
بدھ 3 جون 2026 7:38
ٹیڈروس نے ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید عالمی امداد اور مالی تعاون کی اپیل کی (فوٹو: اے ایف پی)
ڈورکاس ماپینزی کو کنگونزے کیمپ میں ایبولا آنے کا شدید خوف ہے، جہاں وہ مشرقی جمہوریہ کانگو کے تنازعات سے متاثرہ 25 ہزار سے زائد بے گھر افراد کے ساتھ رہتی ہیں۔
اس بے گھر خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اگر ایبولا آیا تو ہم ختم ہو جائیں گے کیونکہ ہم یہاں مچھلیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹھنسے ہوئے ہیں۔‘
یہ مہلک وائرس قریبی جسمانی رابطے سے پھیلتا ہے اور وسطی افریقہ کے اس وسیع ملک کے مشرقی حصے میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے، جہاں دہائیوں سے جاری مسلح تنازعات نے لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے کیمپوں میں دھکیل دیا ہے۔
تقریباً دس لاکھ بے گھر افراد اِتوری میں ہیں، جو مسلح گروہوں کے حملوں کا شکار ہے۔ یہاں وبا کے پھیلنے کا خدشہ کیمپوں میں خوف و ہراس کا باعث بن گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی کانگو ’بیماری اور تنازع کے تباہ کن تصادم‘ کا سامنا کر رہا ہے، اور لڑائی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
سنیچر کو بونیا کے دورے پر ٹیڈروس نے ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید عالمی امداد اور مالی تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ کمیونٹیز کے خوف کو دور کرنا اور وائرس کے بارے میں جھوٹی معلومات کو روکنا ضروری ہے۔
موجودہ وبا کا اعلان 15 مئی کو کانگو اور پڑوسی یوگنڈا میں باضابطہ طور پر گیا تھا۔ 31 مئی تک عالمی ادارہ صحت کے مطابق کانگو میں 321 کیسز کی تصدیق ہوئی، جن میں 48 اموات شامل ہیں۔ یوگنڈا میں نو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں ایک موت بھی شامل ہے۔
’سب مر جائیں گے‘
ابھی تک کنگونزے کیمپ میں کوئی انفیکشن ریکارڈ نہیں ہوئی، لیکن کیمپ کی حالت ایسی ہے کہ بیماری آسانی سے پھیل سکتی ہے۔
ایبولا کے موجودہ بُنڈیبوگیو وائرس کے لیے کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ماپینزی نے کہا کہ ’میں نے ایبولا کے بارے میں سنا ہے اور یہ بیماری مجھے بہت ڈراتی ہے، ہم بے گھر لوگوں کے پاس یہاں کوئی صفائی نہیں ہے۔ ہمارے بچے گندے بیت الخلاؤں کے قریب کھیلتے ہیں اور زمین پر ہی رفع حاجت کرتے ہیں۔‘
دیبورا نزالے، ایک بیوہ، اپنے خاندان کے ساتھ تین مربع میٹر کے چھوٹے ترپال کے گھر میں رہتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’ایسی حالت میں ہم خود کو کیسے بچائیں گے، جب سب کہتے ہیں کہ ایبولا سے بچنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے سے دور رہنا چاہیے؟‘
ایبولا کے موجودہ بُنڈیبوگیو وائرس کے لیے کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔ اس لیے وائرس کو قابو کرنے کی کوششیں زیادہ تر حفاظتی اقدامات اور تیز رفتار کانٹیکٹ ٹریسنگ پر منحصر ہیں۔
نزالے نے کہا۔ کہ ’ہم ایک دوسرے کے اوپر سوئے ہوتے ہیں، سب کا پسینہ ملتا ہے۔ اگر ایک شخص بھی یہاں متاثر ہوا تو سب مر جائیں گے۔‘
’ایبولا واقعی مار دیتا ہے‘
ابھی تک کنگونزے کے بے گھر افراد کو کوئی حفاظتی سامان نہیں ملا۔ کیمپ کے داخلی دروازے پر ایک پوسٹر پر لکھا ہے: ’ایبولا واقعی مار دیتا ہے۔‘
اِتوری کے فوجی گورنر کے مطابق صوبے میں تقریباً 61 بے گھر افراد کے کیمپ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بودجو ایموس نے شکایت کی کہ ’لوگ آگاہی کے لیے یہاں آتے ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہمارے پاس خود کو بچانے کے لیے ضروری سامان نہیں ہے۔ میرے پاس تو ہاتھ دھونے کے لیے صابن بھی نہیں ہے۔ سب سے ضروری چیز ہمیں صاف پانی دینا ہے۔‘
کنگونزے میں صرف ایک بور ہول ہے۔ خالی ڈبے سامنے ڈھیر لگے ہیں۔ نل سے پانی دن میں صرف چند گھنٹے بہتا ہے۔
اِتوری کے فوجی گورنر کے مطابق صوبے میں تقریباً 61 بے گھر افراد کے کیمپ ہیں، جن میں نو لاکھ 70 ہزار کے قریب لوگ رہتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل جانی لوبویا نکاشاما نے کہا کہ ’ہمیں فوری طور پر آلات اور ماہر طبی عملہ تعینات کرنا ہوگا تاکہ اس صوبے کو تباہی سے بچایا جا سکے۔‘